جمعہ، 6 جنوری، 2023

حدیث نمبر18--نصيحة حضرة عائشة (رضي الله عنه) إلى حضرة معاوية (رضي الله عنه).

0 Comments

 

حدیث نمبر18

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو نصیحت

عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا  أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي عَلَيَّ، فَكَتَبَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ الْتَمَسَ رِضَاءَ اللَّهِ    وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ 

مدینہ کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ کو ایک خط لکھا کہ آپ مجھے ایک مختصر نصیحت تحریر فرمائی۔راوی نے بتایا کہ حضرت عائشہ ؓنے حضرت معاویہؓ کو خط لکھ آپ پر سلام ہو اسکے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپﷺ نے فرمایا جس شخص نے لوگوں کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اللہ کی رضا تلاش کی تو اللہ تعالیٰ لوگوں کی ایذا رسانی سےاسے کفایت کرےگا۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو ناراض کرکے لوگوں کو راضی کرے تواللہ اُسے لوگوں کے سپرد کردیتا ہے اور آپ پر سلامتی ہو۔رواه الترمذي (2414)


یہ حدیث اس انداز سے بھی آئی ہے:

 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ الْوَرْدِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي عَلَيَّ، فَكَتَبَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ الْتَمَسَ رِضَاءَ اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ اللَّهُ مُؤْنَةَ النَّاسِ، وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَاءِ النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ " ,

عبدالوہاب بن ورد سے روایت ہے کہ ان سے مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا: معاویہ رضی الله عنہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ایک خط لکھا کہ مجھے ایک خط لکھئیے اور اس میں کچھ وصیت کیجئے۔ چنانچہ عائشہ رضی الله عنہا نے معاویہ رضی الله عنہ کے پاس خط لکھا: دعا و سلام کے بعد معلوم ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو لوگوں کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو تو لوگوں سے پہنچنے والی تکلیف کے سلسلے میں اللہ اس کے لیے کافی ہو گا اور جو اللہ کی ناراضگی میں لوگوں کی رضا کا طالب ہو تو اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کو اسے تکلیف دینے کے لیے مقرر کر دے گا“، (والسلام علیک تم پر اللہ کی سلامتی نازل ہو)

الْتَمَسَ    درخواست    -    بِسَخَطِ     ناراضی سے    -    مُؤْنَةَ النَّاسِ    لوگوں کا رزق

 بِسَخَطِ اللَّهِ     اللہ کا غضب

من التمس رضاء الله بسخط الناس كفاه الله مؤنة الناس من التمس رضاء الناس بسخط الله وكله الله إلى الناس «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2414)

٭ رجل من أھل المدينة مجھول و روي ابن حبان (الإحسان: 277) عن عائشة رضي الله عنھا أن رسول الله ﷺ قال:(من أرضي الناس بسخط الله کفاه الله و من أسخط الله برضا الناس و کله الله إلي الناس.) وسنده صحيح و رواه أحمد في الزھد (ص 164 ح 908) عن عائشة موقوفًا وسنده صحيح و حديث ابن حبان و أحمد يغني عن حديث الترمذي.»(سند میں ایک راوی (رجل من أھل المدینة) مبہم ہے،لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے۔

وضاحت : اس حدیث پاک میں اللہ کی رضا اور اس کی ناراضگی کے اثرات کا تذکرہ ہے، یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام ’’ ولایخافون لومۃ لائم‘‘ (اور وہ ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کرتے) کا مصداق ہوتے ہیں اور انہیں لوگوں خصوصاً امراء وحکام کی خوشامد کرکے انہیں راضی کرنے کا کوئی شوق نہیں ہوتابلکہ وہ صرف اللہ کو راضی کرنے میں کوشاں رہتے ہیں خواہ انہیں کوئی کچھ بھی ایذا پہنچاتا رہے۔

            حق گوئی میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے کے متعلق یہ حکایت ملاحظہ فرمائیں : قاضی ابو حَازِم  ؒانصاف کے معاملہ میں بہت سخت تھے۔ آپ ؒہمیشہ حق بات کہتے اوردرست فیصلے فرماتے۔ ایک مرتبہ خلیفۂ وقت ’’مُعْتَضِد باللہ‘‘ نے آپ ؒکی طرف پیغام بھیجا: فلاں تاجر نے ہم سے مال خریدا ہے اور نقد رقم ادا نہیں کی ۔وہ میرے علاوہ دوسروں کا بھی مقروض ہے، مجھے خبر پہنچی ہے کہ دوسرے قرضخواہوں نے آپ کے پاس گواہ پیش کئے تو آپ نے اس تاجر کا مال ان میں تقسیم کر دیا ہے ۔ مجھے اس مال سے کچھ بھی نہیں ملا حالانکہ جس طر ح وہ دوسروں کا مقروض تھا اسی طرح میرا بھی تھا، لہٰذامیرا حصہ بھی دیا جائے ۔پیغام پاکر قاضی ابو حَازِم ؒ نے قاصد سے کہا: خلیفہ سے کہنا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر دراز فرمائے، وہ وقت یاد کرو جب آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ میں نے فیصلوں کی ذمہ داری کا بوجھ اپنی گردن سے اُتار کر تمہارے گلے میں ڈال دیا ہے ۔ اے خلیفہ! اب میں فیصلہ کرنے کا مختار ہوں اور میرے لئے جائز نہیں کہ گواہوں کے بغیر کسی مُدَّعی کے حق میں فیصلہ کروں۔ قاصد نے قاضی صاحب کاپیغام سنایا توخلیفہ نے کہا: جاؤ ! قاضی صاحب سے کہوکہ میرے پاس بہت معتبر اور معزز گواہ موجود ہیں۔ جب قاضی صاحب کو یہ پیغام ملا تو فرمایا: گواہ میرے سامنے آکر گواہی دیں ،میں ان سے پوچھ گچھ کروں گا، شہادت کے تقاضوں پر پورے اُتر ے تو ان کی گواہی قبول کرلوں گا ورنہ وہی فیصلہ قابلِ عمل رہے گا جو میں کر چکا ہوں۔ جب گواہوں کو قاضی صاحب کا یہ پیغام پہنچا تو انہوں نےآپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے خوف کھاتے ہوئے عدالت آنے سے انکار کردیا۔ لہٰذا قاضی صاحب نے خلیفہ مُعْتَضِد باللہ  کا دعویٰ رد کرتے ہوئے اسے کچھ بھی نہ بھجوایا۔ (عیون الحکایات)

حضور غو ث الاعظم شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی  ؒحکام و سلاطین و خلیفہ ِ وقت پر تنقید اور ان کے غلط فیصلوں کی مذمت بھی کرتے اور اس کے بارے میں کسی کی وجاہت اور اثر کی مطلق پرواہ نہ کرتے۔ حافظ عمادالدین بن کثیر رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :آپ خلفا ء، وزرا، سلاطین کو بڑی صاف گوئی اور بیباکی و جرأت کے ساتھ ان کو بھرے مجمع میں بر سر منبر ٹوک دیتے۔ جو کسی ظالم کو حاکم بناتا اس پر اعتراض کرتے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت والے کی آپ کو پرواہ نہ ہوتی تھی۔

آپ نے  یہ سنا ہوگا یقیناًکہ ہنوز دہلی دور است (ابھی دلی دور ہے )

جب کوئی شخص اپنی حیثیت سے بڑی چیزکو حاصل کر نے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کہاوت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کہاوت کا تعلق ایک واقعہ سے ہے جو ہمیں محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی یاد دلاتی ہے کہ کس طرح حاکموں کو بھی بے ٹوک انداز میں حق کہہ دینا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہغیا ث الدین تغلق ، حضرت نظام الدین اولیا سے یوں تو کچھ کہتا سنتا نہیں تھا لیکن وہ اپنےدل میں ان کے تئیں دشمنی رکھتا تھا۔ لہذا، جب وہ بنگال سے واپس لوٹ رہا تھا تو اس نے اپنے ایک سفیرکے ذریعہ حضرت نظام الدین اولیا کو ایک پیغام ارسال کیا کہ آپ میرے دہلی پہنچنے سے قبل دہلی چھوڑ دیں اوراپنی رہائش گاہ غیا ث پور سے بھی ہاتھ دھو لیں۔ خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی  ؒ کو اس کا یہ پیغام بہت برا محسوس ہوا۔ انہوں نے پیغام کے جواب میں صرف یہ الفاظ کہے۔' بابا ہنوز دہلی دور است' ۔ یعنی ابھی دہلی دور ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے وہ دہلی پہنچ جائے تو۔ خدا کی قدرت کہ سلطان غیا ث الدین تغلق ، دہلی کے قریب تو پہنچ گیا، لیکن اس زمین پرقدم رکھنا اس کے نصیب میں نہیں تھا. وہ اپنے محل کے نیچے جو اس کے بیٹے نے اپنے لئےافغان پور میں تعمیر کیا تھا، دب کر مر گیا۔

 (تاریخ فیروز شاہی، زبانی روایتیں)

غرض یہ کہ ہمارارب بڑی بزرگ شان رکھنے والا ہے اور جو بھی اس کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرتا ہے وہ اپنی اپنی روحانیت اور درجہ کے مطابق بزرگی حاصل کر لیتا ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی شان اور عظمت پر حملہ کرنے والا سزا پاتا ہے اسی طرح وہ لوگ جواللہ تعالیٰ کے مقربین پرحملہ کرتے ہیں وہ بھی اپنے کئے کی سزا پائے بغیر نہیں رہتے۔ (تفسیر کبیر)

جو شخص اپنے درمیان کا اور اللہ کے درمیان کا معاملہ صحیح کر لے اللہ تعالیٰ اسکے اور لوگوں کے درمیان کے معاملے کی خود کفایت فرماتا ہے کہ وہ ہمارے ذمہ رہا۔ ہم سے تم معاملہ درست رکھو،تمہارے اور لوگوں کے درمیان جو معاملہ ہے اسکو ہم پر چھوڑ دو، وہ میں درست کرلونگا،اسکی پرواہ نہ کرو کہ کوئی ناراض ہوتا ہے، لوگ ناراض ہوجائینگے تو ہم انکو بھی راضی کردینگے (بھئی یہ بھی بڑے امتحان کی بات ہے) آزمائش کی بات ہے۔ اللہ تعالٰی کسی کو آزمائش میں نہ ڈالےبسااوقات ایسا ہو جاتا ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے، دوسری طرف لوگوں کی رضامندی ہے، اگر اس کام کو کر لے تو اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے اور نہ کرے تو لوگ ناراض ہوتے ہیں۔الامان الحفیظ









جمعرات، 5 جنوری، 2023

حدیث نمبر17--مَا جَاءَ فِي الْحُبِّ فِي اللَّهِ

0 Comments

 

حدیث نمبر17

(مَا جَاءَ فِي الْحُبِّ فِي اللَّهِ)

 اللہ کی خاطر محبت کرنے کا بیان۔سنن ترمذی حدیث نمبر 2390

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:

‏‏‏‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ الْمُتَحَابُّونَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ ،‏‏‏‏ 


وفي الباب عن أَبِي الدَّرْدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ 

هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثُوَبَ.

حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، میں نے سنا رسول اللہ ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرےلئے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے (قیامت کےدن)نور کے منبر ہوں گے جن پر انبیاء  وشہداء بھی رشک کریں گے۔

الْمُتَحَابُّونَ     محبت کرنے والوں    -    لَهُمْ    ان کے لیے    -    مَنَابِرُ    منبر    -    

يَغْبِطُهُمُ    رشک کرنا

امام ترمذی  ؒکہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں ابو الدرداء، ابن مسعود، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ اور ابو مالک اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

وضاحت :اس حدیث قدسی میں اللہ عزّوجل کے لیے محبت کرنے والوں کو فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اسی لیے صوفیائے کرام اللہ کی مخلوق سے صرف اسی کی خاطر اور اسی کی نسبت کے سبب محبت کرتے ہیں۔اور آپس میں محبت کے ساتھ رہنے کا درس بھی دیتےہیں۔

حضرت معاذ بن جبل انصاری خزرجیؓ :

مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد1صفحہ39نعیمی کتب خانہ گجرات میں ہے کہ 

حضورﷺنے آپ کو یمن کا گورنر بنایا، عمر فاروق نے شام کا حاکم مقرر کیا ۔ معاذ نام، ابو عبدالرحمن کنیت،امام الفقہا ءکنز العلماء اور عالم ربانی القاب، قبیلہ خزرج کے خاندان ادی بن سعد سے تھے۔نبوت کے بارہویں سال جب مدینہ میں اسلام کی دعوت شروع ہوئی تو حضرت معاذؓ نے اس کے قبول کرنے میں ذرہ بھی پس و پیش نہ کیا،اُ س وقت آپ ؓ کی عمر 18 سال تھی۔حضرت معاذؓ ابتداہی سے ہونہار تھے،حضورﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہ آپﷺ کے دامن سے وابستہ ہوگئے اورچند ہی دنوں میں فیض نبوت کے اَثر سے اسلام کی تعلیم کا اعلی نمونہ بن گئے اوران کا شمار صحابہ کے برگزیدہ افراد میں ہونے لگا۔ رسول اللہ ﷺ کو ان سے اس قدر محبت تھی کہ بسا اوقات ان کو اپنے ساتھ اونٹ پر بٹھا تے تھے۔

حضورﷺ نے مدینہ تشریف لاکر مواخاۃ کی تو حضرت معاذؓ کا مہاجری بھائی،حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو تجویز فرمایا۔ 2ہجری میں غزوۂ بدر پیش آیا، حضرت معاذؓ اس میں شریک تھے اوراس وقت ان کا سن21سال کا تھا،بدر کے علاوہ تمام غزوات میں حضرت معاذؓ نے شرف شرکت حاصل کیا۔ ان فضائل کے ماسوا حضرت معاذؓ نےحضورﷺ کے عہد مبارک میں قرآن حفظ کیا تھا۔

جب اہل یمن نے حضور ﷺسے درخواست کی کہ ہمارے ساتھ آپ ایک ایسا آدمی بھیج دیجئے جو صرف امیر ہی نہ ہو، بلکہ معلم بھی ہو، تو اس موقع پر آپ ﷺکی نظرمبارک معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر پڑی، چنانچہ آپ ﷺنے ان کو اشارہ کرکے بلایا اور کہا کہ اے معاذ! تم یمن چلے جاؤ تمہاری وہاں ضرورت ہے، پھر آپ ﷺنے تبلیغ سے متعلق کچھ نصیحتیں فرمائی اور ان کو وہاں کا گورنر مقرر فرمادیا اور کہا کہ اے معاذ! واپسی میں شاید تم مجھ سے نہ مل سکوگے، یہ سننا تھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے آنسو بہہ پڑے آپ ﷺکے بھی آنسو شدت محبت کی وجہ سے بہہ پڑے، پھر جب روانہ ہونے لگے، تو حضورﷺپیدل چل رہے تھے اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سواری پر تھے، حضور ﷺساتھ ساتھ چل کر نصیحت بلکہ وصیت فرمارہے تھے، اے معاذ! لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، مشکلات پیدا نہ کرنا، انہیں خوشی ومسرت کا پیغام سنانا، 

ایسی کوئی بات نہ کرنا جس سے انہیں دین سے نفرت ہوجائے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے متعلق نبی کریمﷺ کا یہ ارشاد بھی منقول ہے

 ”معاذ امام العلماء یوم القیامة برتبة“

 معاذ کو قیامت کے دن علماء کی پیشوائی حاصل ہوگی اور ایک بڑا درجہ ان کو ملے گا۔سبحان اللہ

مُحبت انسانی جذبات میں سے سب سے زیادہ نازک ، لیکن اتنا ہی مضبوط اور تُند و تیز جذبہ ہے ، اور اگر یہ جذبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دِیا جائے تو اِس جذبے کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے ،لیکن اِس کے فوری اثرات میں یہ یقینی اثر ہے کہ یہ جذبہ مُسلمانوں کے درمیان ایسے مضبوط اور بے لوث تعلقات کی بنیاد بن جاتا ہے جِس کی مثال کسی اور معاشرے میں نہیں ملتی ، اور جِن تعلقات کے دُنیاوی اور اُخروی مثبت نتائج کی مثال بھی کسی اور عمل میں نہیں ملتی ،اللہ کی خاطر مُحبت کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُمت کو جو نعمتیں عطاء فرماتا ہے، اور اس مُحبت کے جو عظیم فائدے والے نتائج دیتا ہے اُن سب کی بہت سی خبریں ہمیں دی گئی ہیں ، اور انہی خبروں 

میں اللہ کی خاطر ایک دوسرے مُحبت کرنے والوں کی ، اور محبت کی نشانیاں بھی بتائی گئی ہیں ۔ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والےاللہ تعالیٰ کو اپنے فرمانبردا،عبادت گزار اور بلند کردار لوگوں سے محبت ہے ۔پس جو لوگ ان قدسی صفات مردان حق کے ساتھ محبت رکھتے ہیں وہ اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں،کیونکہ دوست کا دوست بھی دوست ہوتاہے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ:”ایک شخص اپنے ایک بھائی سے جو ایک دوسری بستی میں رہتا تھاملاقات کے لئے چلا، تو اللہ تعالیٰ نے اس راہ گزر پر ایک فرشتے کو منتظر بنا کر بٹھا دیا۔( جب وہ شخص اس مقام سے گزرا ،تو)فرشتے نے اُس سے پوچھا :تمہارا کہاں کا ارادہ ہے ؟اُس نے کہا :میں اس بستی میں رہنے والے اپنے ایک بھائی سے ملنے جا رہا ہوں ۔فرشتے نے کہا:کیا اس پر تمہارا کوئی احسان ہے،اور کوئی حق نعمت ہے جس کو تم پورا اور پختہ کرنے کے لئے جا رہے ہو؟ اُس بندے نے کہا: نہیں! میرے جانے کا باعث اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کے لئے مجھے اس بھائی سے محبت ہے( یعنی بس اسی للہٰی محبت کے تعلق اور تقاضے سے میں اس کی زیارت اور ملاقات کے لئے جا رہا ہوں) فرشتے نے کہا کہ میں تمہیں بتایا ہوں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس یہ بتانے کے لئے بھیجا ہے کہ اللہ تم سے محبت کرتا ہے، 

جیسا کہ تم اللہ کے لئے اس کے اس بندے سے محبت کرتے ہو۔“(صحیح مسلم)

حضرت علامہ امام قشیری  ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت جعفرؒ نے سمنون ؒسے روایت کی کہ محبت کرنے والے دنیا اور آخرت کا شرف حاصل کریں گے کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے (متفق علیہ حدیث میں) فرمایا : الْمَرء مَعَ مَنْ أحبّ ’’انسان اسی کے ساتھ ہوتا ہے جس سے اسے محبت ہو۔ لہٰذا  وہ 

اللہ کے ساتھ ہوئے۔(رسالۂ قشیری)

مزید فرمایا کہ حضرت عبد اللہ الانصاری نے الحسین الانصاری رحمہا اللہ سے روایت کی کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا قیامت برپا ہے اور ایک شخص عرش کے نیچے کھڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے : یہ کون ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : اللہ کو بہتر معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

یہ معروف کرخی ہے، یہ میری محبت میں مدہوش ہے، اب وہ میری ملاقات کے بغیر ہوش میں نہیں آ سکتا۔(رسالۂ قشیری)


سورہ الاعراف آیت نمبر128،پارہ 9 ( وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ) کی روشنی میں ایک واقعہ آپ سناتا ہوں کہ  جس کا ترجمہ ہے کہ ’’اور آخر میدان متقین کے ہاتھ ہے‘‘۔

اللہ کی خاطر محبت کرنے کی ایک مثال خلاصتہ العارفین میں ہے کہ حضرت بابا فرید شکر گنج قدس سرہ فرماتے ہیں کہ خواجہ بہاؤاؒ لحق ملتانی کی عادت تھی جب کوئی فوت ہوجاتا تو آپؒ اس کے جنازے کے پیچھے پیچھے جاتے اور جب وہ مُردہ دفن کیا جاتا تو آپ اس کی قبر پر جا کر کچھ دیر درود پاک وغیرہ پڑھتے اور پھر واپس آجاتے ۔ایک دن آپ کا ہمسایہ فوت ہوگیا۔آپؒ اپنی عادتِ مبارکہ کے مطابق جنازے کے پیچھے ہو لئے اور جب اسے دفن کر چکے تو آپؒ کچھ دیر اس کی قبر کے پاس بیٹھ گئے ازاں بعد آپؒ نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اورکہا الحمدللہ،صدرالدینؒ وہاں موجود تھے اُنہوں نے سبب دریافت کیا تو فرمایا۔ جب اس شخص کو دفن کیا گیا تو منکر نکیر آگئے۔ازاں بعد آگ نے اسے جلانا چاہا اتنے میں اس کے پیرشیخ جلالؒ الدین زکریا آگئے اور درمیان میں کھڑے ہوگئے اور آگ کو للکارا کہ دور ہو جا یہ میرا مرید ہے...آواز آئی اے جلال الدینؒ !

ہے توایسا ہی جیسے تو نے کہا ہے ،لیکن اس نے تیرے حکم کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کو چھوڑ دے تاکہ اسے آگ جلائے۔شیخ جلال الدین زکریاؒ نے عرض کی میرے مولا اس نے اگرچہ میری مخالفت کی ہے لیکن اتنا تو کہتا تھا کہ میں جلال الدؒ ین کا مرید ہوں،حکمِ الہٰی ہوا اچھا ہم نے تیری خاطر اسے معاف کردیا۔ تو یہ مرشد کی محبت ہی تھی اللہ کی خاطر جو اس مرید کی بخشش کا باعث بنی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ( سورہ العمران، آیت ۷۶)ترجمہ!’’ اور بے شک اللہ متقین سے محبت فرماتا ہے۔ملاحظہ فرمائیں۔

بابا فرید الدین مسعود شکر گنج قدس سرہ ‘ نے فرمایا ایک دفعہ ایک نوجوان جوکہ بڑا فاسق وفاجر تھا ،ملتان میں فوت ہوا ،اس کے مرنے کے بعد اسے کسی نے خواب میں دیکھ کر دریافت کیا کہ تیرے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا ؟اس نے بتایاکہ مجھے خدا تعالیٰ نے بخش دیااور عزت والوں میں شامل فرمایا ہے، جب اس نے بخشش کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا ایک دن حضرت غوث بہاؤالحق زکریا قدس سرہ‘ ایک راستے پر جارہے تھے تو میں نے عقیدت کے ساتھ ان کے دست مبارک کو بوسہ دیا تھاپس اللہ کے ولی کی تعظیم میری بخشش کا باعث بن گئی ہے، نیز بابا فرید ’’اسرارالاولیاء صفحہ182‘‘پر فرماتے ہیں کہ بروزِ حشر بہت سے گناہ گاروں کو متقین کی دست بوسی کی وجہ سے بخش دیا جائے گا اور انہیں عذابِ دوزخ سے نجات مل جائے گی۔کیونکہ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ( سورہ العمران، آیت ۷۶)ترجمہ!’’ اور بے شک اللہ متقین سے محبت فرماتا ہے۔

علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے :

  خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

میں اس کا بندہ بنوں گا  جس کو  خدا  کے  بندوں سے  پیار  ہو گا!

جو شخص محض اللہ کی خاطر محبت کے جذبات لے کر اپنے مسلمان بھائی کو ملنے جا رہا تھا اللہ تعالیٰ نے فرشتے کے ذریعے اس کو اپنی محبت کی خوشخبری سنائی۔اورغور طلب امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق سے بہت محبت ہے اور جو رب کی پریت میں ڈوب گیا،وہ رب کی مخلوق سے بھی پیار کرنے لگتا ہے۔یہی اللہ کی خاطر آپ میں محبت کا اَثر ہےکہ جس کی وجہ سے مخلوق کائنات ان ہستیوں سے فیض یاب ہوتی ہے اور پھر یہ ولی کاملین مخلوق کے ساتھ رحمدلی،پیار و محبت ، ایثار کا ایسا مظاہرہ کرتے ہیں کہ دل نہ چاہتے ہوئے بھی ان ہستیوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج مسلم و غیر مسلم ہر فرقہ و جماعت سے بالا تر ہو کر اللہ والوں کے نام کو جپتا جاتا ہے جیسے حق فرید ، حق نظام۔یہاں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اللہ کے ساتھ محبت کے زبانی دعوؤں کی کوئی حیثیت نہیں ،محبت وہ ہے جس کے نتیجے میں اطاعت پیداہو ۔خدا کا محبوب بننے کے لئے اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت پر پورے ذوق وشوق کے ساتھ عمل کرنا ہی رضائے الٰہی کے مقام پر فائز ہونا ہے۔



بدھ، 4 جنوری، 2023

حدیث نمبر16--مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ

0 Comments

 

حدیث نمبر16

(‏ مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ )

دو بھوکے بھیڑیوں کا بیان

سنن الدرامی -حدیث نمبر 2765

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَيُرْوَى فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ.

 أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 

"مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ".

تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2772]»

اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2376]، [ابن حبان 3228]، [موارد الظمآن 2472، وله شاهد عند الطبراني 96/19، 189] و [شعب الايمان للبيهقي 10265، وغيرهم]

ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، انہوں نے زکریا بن ابی زیدہ کی سند سے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ کی سند سے،حضرت ابن کعب بن مالک انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دو بھوکے بھیڑیئے 

بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا تقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لیئے نقصان دہ ہے۔

ذِئْبَانِ     دو بھیڑیے    -    جَائِعَانِ     بھوکا    -    أُرْسِلَا    بھیج دیا گیا    -    غَنَمٍ     بھیڑ

بِأَفْسَدَ    خراب    -    حِرْصِ    شوق    -    الْمَرْءِ     ایک    -    الْمَالِ     مال

حضرت کعب بن مالک انصاری ؓ صحابی رسولﷺ اور اصحاب صفہ میں شامل ہیں۔والدہ کا نام لیلی بنت زید بن ثعلبہ تھا اور بنو سلمہ سے تھیں۔ جاہلیت میں ابو بشیر کنیت کرتے تھے،حضور ﷺ نے بدل کر ابو عبد اللہ کر دی، مالک کے یہی ایک چشم و چراغ تھے۔ امام ابن ابی حاتم نے کعب کو اصحابِ صفہ میں شمار کیا ہے۔( کتاب الجرح والتعدیل)عقبہ ثانیہ میں 70 آدمیوں کے ساتھ مکہ آ کر بیعت کی۔حضورﷺ مدینہ تشریف لائے اور انصار و مہاجرین میں برادری قائم کی تو طلحہ بن عبید اللہ کو کہ جو عشرۂ مبشرہ میں سے تھے، ان کا بھائی بنایا۔غزوۂ احد میں اپنے مہاجر بھائی کی طرح داد شجاعت دی،حضورﷺ کی زرد زرہ پہن کر میدان میں آئے،حضور ﷺ ان کی زرہ زیب تن کی تھے، اس لڑائی میں 111 زخم کھائے۔الاستیعاب میں امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ تین انصاری صحابی رسول اللہﷺ کی مدافعت میں اشعار پڑھا کرتے تھے وہ حسان بن ثابت، عبد اللہ بن رواحہ اور کعب بن مالک ہیں۔ان کی شاعری کا موضوع کفار کو لڑائی سے ڈرانا اور مسلمانوں کا ان کے قلوب میں سکہ جمانا تھا، دربار رسالت ﷺمیں تین شاعر تھے اور تینوں کے موضوع جداگانہ تھے،ان کے کلام کے اثر کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ 

صرف دو بیعت کہے اور تمام قبیلۂ دوس مسلمان ہو گیا، وہ شعر یہ تھے:

؎ قضینا تہامۃ کل وتر وخیر ثمہ اغمدنا ایسونا یخرھا ولو نطقت لقالت قواطعھن دوسا او ثقیفا

تہامہ اور خیبر سے ہم نے کینہ کو دور کرکے تلواریں نیام میں کر لیں

اب ہم پھر ان کو اٹھاتے ہیں اور اگر وہ بول سکیں تو کہیں کہ اب دوس یا ثقیف کی باری ہے

دوسیوں نے سنا تو کہا کہ مسلمان ہو جانا بہتر ہے، ورنہ ثقیف کی طرح ہمارا بھی حشر ہوگا۔

وضاحت اس حدیث مبارکہ میں مال اور مرتبہ کی حرص کی مذمت کی گئی۔اسی لیے حقیقی صوفیاء مال و مرتبہ کی حرص میں مبتلا نہیں ہوتے، وہ مخلوق کے ساتھ محتاج ہوکر نذرانے نہیں بٹورتے ہیں اور نہ ہی اپنے نام کے ساتھ خود’’الحاج ، صوفی، حافظ ،قاری ،عارف باللہ وغیرہ کے الفاظ لکھ کر ’’آستانہ‘‘ اور ’’خانقاہ  ودربار‘‘ کے بورڈ لگاتے ہیں ،بلکہ دنیائے فانی کے مناصب کو ہرگز قبول نہیںکرتے۔

حرص کی تعریف کتاب مرقاۃ، کتاب الرقاق، باب الامل والحرص، ج۹، ص۱۱۹، تحت الباب: ۲، مرآۃ المناجیح، ج۷، ص۸۶مفصلاً

’’خواہشات کی زیادتی کے اِرادے کا نام حرص ہے اوربُری حرص یہ ہے کہ اپنا حصہ حاصل کرلینے کے باوجود دوسرے کے حصے کی لالچ رکھے ۔ یا کسی چیز سے جی نہ بھرنے اور ہمیشہ زیادتی کی خواہش رکھنے کو حرص ،اور حرص رکھنے والے کو حریص کہتے ہیں۔"

اس حدیث میں نبی کریمﷺ نے دو بھوکے بھیڑیوں اور بکریوں کی مثال دے کر یہ واضح فرمایا کہ بھوکے بھیڑیے بکریوں کو پا کر اپنی بھوک مٹانے اور نفس کی خواہش کو پوری کرنے کے لیے ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اور انتہائی بے دردی اور سفاکی سے اس ریوڑ کوتباہ و برباد کرتے ہیں۔ ایک طرف تو بکریوں کا نقصان ہوتا ہے اور دوسری طرف ریوڑ کے مالک کو بھی نقصان کا شدید احسا س ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ انہیں جو نقصان پہنچ رہا ہے، ان سے زیادہ شدید نقصان وہ لوگ دین اور سماج کو پہنچاتے ہیں جو مال و دولت کے جمع کرنے اور عزت و مرتبہ حاصل کرنے کے لیے اپنی نفسانی خواہشات کی غلامی کرتے ہیں اور نہ ختم ہونے والی حرص و ہوس کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔ انسانیت کے یہ بھیڑیے اللہ کے دین کو بھی پامال کرتے ہیں اور سماج کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ 

أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ‎﴿سورۃ الروم، آیت41،پارہ21﴾

ترجمہ: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انہیں ان کے بعض کوتکوں (برے کاموں) کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں ۔

جن دلوں میں اللہ اپنی محبت ڈال دے تو سمجھ لیں کہ اس نے ان دلوں کو چن لیا تھا اور یہ وہی تھے جن کے لئے جبرئیلؑ کو بتا دیا تھا۔ پس یہ لوگ محبوب پہلے ہوتے ہیں اور محب بعد میں ہوتے ہیں۔اپنے اولیاء کو حُبِّ دنیا سے بچانے کا خصوصی اہتمام اللہ خودکرتا ہے چونکہ اب یہ لوگ محبوب بھی بن گئے اور محب بھی بن گئے اور اللہ خود بھی ان لوگوں کی حفاظت کرتا ہے تاکہ ان کے دل کسی دوسری محبت میں پھنس نہ جائیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے :يَا دُنْيَا مُرِّ عَلٰی اَوْلِيآئِیْ وَلَا تَحْلَوْلِ لَهُمْ.

’’اے دنیا میرے اولیاء کے اوپر کڑوی بن کر رہ اور ان کے لئے بہت میٹھی نہ بن‘‘۔

اگر تو میرے اولیاء کے لئے ہمہ وقت بہت میٹھی بن گئی تو کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ (وَتَفْتَنِیْہِمْ) ان کے دل تیرے فتنے میں مبتلا ہو جائیں اور میں نہیں چاہتا کہ وہ تیرے فتنے میں الجھ جائیں اس لئے کہ مجھے ان سے محبت ہے اور انہیں مجھ سے محبت ہے۔ پس چاہتا ہوں کہ وہ میرے رہیں اور 

میں ان کا رہوں۔اللہ والوں کے لئے دنیا کو اللہ کا یہ حکم ہے۔ لہٰذا ان کی زندگیوں میں زیروبم آتے رہتے ہیں۔ آزمائشیں آتی رہتی ہیں۔ اگر میٹھا لقمہ دے دیا تو ساتھ کڑوا بھی دے دیا ۔ عسرت و یسرت (تنگی و آسانی) اللہ ان کے لئے ملا ملا کر چلاتا ہے۔ تاکہ ان کے دل دنیا میں الجھ نہ جائیں۔ دنیا کے فتنے میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ گویا اللہ ان دلوں کو اپنی محبت کے لئے خالص رکھنا چاہتا ہے اس لئے کہ یہی دل حامل محبت ہیں۔

ارشاد باری ہے : ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّاہَا ، وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاہَا﴾( الشمس: 9 تا10،پارہ30)

”بے شک وہ شخص کا م یاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور وہ نا کا م ونا مراد ہو گیا جس نے اپنے نفس کو مٹی آلود کر دیا“۔

مشائخ سلاسل نےجن رذائلِ اخلاق سے اپنے اندر کو پاک کرنے کی تعلیم دیں ہے وہ یہ ہیں : بد نیتی ،نا شکری، جھوٹ ، وعدہ خلافی ، خیانت ، بددیا نتی ، غیبت وچغلی ، بہتان ، بد گوئی و بدگمانی ، خوشامد و چاپلوسی ، بخل و حرص ، ظلم ، فخر ، ریا و نمود و حرام خوری و غیرہ ۔

اس حدیث کو امام طبرانی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ایک فرشتہ (بیٹھا) کہتا رہتا ہے : جو آج قرض دے گا کل اسے اس کی جزا دی جائے گی، اور دوسرا فرشتہ دوسرے دروازے پر (بیٹھا) کہتا رہتا ہے : اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا نعم البدل عطا فرما اور مال کو روک کر رکھنے والے (بخیل) کو (مال کی) بربادی عطا فرما۔‘‘

ایک بات یاد آئی کہ سورۃا لھمزۃ میں تین سخت گناہوں پر عذاب ِشدید کی وعید آئی ہے اور پھر اس عذاب کی شدت بیان کی گئی ہے۔ وہ تین گناہ یہ ہیں: غیبت، استہزا (دوسروں کا مذاق اڑانا) اور خوب مال جمع کرنا (اور اس مال کے حقوق ادا نہ کرنا)۔

 کلام الٰہی میں ایک بات واضح انداز میں بیان کردی گئی ہے:

الَّذِیۡ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَہٗ ۙ﴿۲﴾ جو مال جمع کرتا ہو اور اس کو بار بار گنتا ہو ﴿۲﴾

اس آیت کریمہ میں تیسرے بڑے گناہ کا ذکر آیا ہے۔ وہ گناہ یہ ہے کہ انسان خوب مال جمع کرنے کی فکر میں رہتا ہے اور ہر وقت مال گن گن کر رکھتا ہے۔ جس انسان کے دل میں مال کی بےحد محبّت، لالچ اور طمع ہوتی ہے، تو یہ مال کی لالچ اس کو اچھے کاموں میں مال خرچ کرنے سے روکتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے مال خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس آیت کریمہ میں جو وعید وارد ہوئی ہے وہ تمام مال داروں اور اہل ثروت کے لئے نہیں ہے؛ بلکہ وہ ان مال داروں کے لئے ہے جو مال اکٹھا کر کے رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا نہیں کرتے ہیں، نیز بندوں کے حقوق اور غرباء اور مساکین کے حقوق ادا نہیں کرتے ہیں۔

مال و دولت کے معاملے میں انسان کا کون سا رویہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور کون سا رویہ اس کے غضب کو دعوت دیتا ہے؟ قرآن میں اس کی متعدد مثالیں بیان کی گئی ہیں۔یہاں دو مثالیں پیش کروںگا:

پہلی مثال سورۂ کہف کی آیات:32۔44،پارہ 15میں سے ہیں۔اس میں دو انسانوں کے کردار پیش کیے گئے ہیں ۔ایک کردار ایسے انسان کا ہے جس کو اللہ تعالی نے خوب مال و دولت سے نوازا تھا۔اس کے پاس انگور کے دو باغات تھے۔ان کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگی ہوئی تھی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین تھی۔اس کے باغات خوب پھل دیتے تھے اور اس کے نتیجہ میں اس کے پاس کافی دولت اکٹھا ہو گئی تھی۔لیکن یہ سب کچھ پاکر اس کے اندر شکرگزاری کا جذبہ پیدا نہیں ہوا، بلکہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہو گیااور جن لوگو ں کے پاس اس سے کم تر دولت تھی ان کو خود سے حقیر سمجھنے لگا۔دوسرا کردار اس کے دوست کا ہے،جس کے پاس اگرچہ اس کے مقابلے میں کم دولت تھی،لیکن وہ تواضع،خاک ساری اور شکر گزاری کے اوصاف سے متصف تھا۔اس دوست نے اس گھمنڈی اور مغرور شخص کو سمجھانے کی بہت کوشش کی ۔اس نے کہا کہ اللہ تعالی کا شکر ادا کر،کیوں کہ تیرے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ تعالی کی توفیق سے ہے۔اگر وہ چاہے تو تجھ سے ان آسائشوں کو چھین بھی سکتا ہے۔مگر اس تنبیہ اور فہمائش کا اس گھمنڈی انسان پرکچھ بھی اثر نہیں ہوا اور وہ اپنی سابقہ روش پر قائم رہا۔بالآخر اللہ تعالی نے اس کے باغات کو تباہ و برباد کر دیا اور وہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔

دوسری مثال سورۃ القصص:76۔82پارہ 20 میں قارون کی ہے۔یہ حضرت موسی ؑ کی قوم کا آدمی تھا ،لیکن ان کی نافرمانی کرکے اللہ کے دشمن فرعون کے ساتھ جا ملا تھا۔اللہ تعالی نے اسے بے انتہا مال و دولت سے نوازا تھا۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے خزانوں کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھاسکتی تھی۔اس کی قوم کے لوگوں نے اسے سمجھایاکہ اللہ تعالی نے تجھے جن نعمتوں سے نوازا ہے ان پر اس کا شکر ادا کر اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کر۔جس طرح اللہ تعالی نے تجھ پر احسان کیا ہے اسی طرح تو دوسرے انسانوں کے ساتھ بھلائی کر۔دنیا سے بھی اپنا حصہ لے اور آخرت کی بھی فکر کر۔مگر ان باتوں کا اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔اس نے بڑے متکبرانہ انداز میں جواب دیا کہ جو کچھ میرے پاس ہے اسے میں نے اپنے علم و ہنر کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے۔بالآخر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور اسے اس کے خزانوں سمیت زمین میں دہنسادیاگیا۔ 

حضرت ابو ذر غفاری ؓ مشہور صحابی ہیں۔ بڑے زاہد حضرات میں تھے۔ مال سے عداوت کے ان کے بہت سے عجیب واقعات ہیں۔ ان سے بھی یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضورﷺ کے ساتھ تھا۔ حضورﷺ نے اُحد کے پہاڑ کو دیکھ کر یہ فرمایا کہ اگر یہ پہاڑ سونے کا بن جائے تو مجھے یہ پسند نہیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس تین دن سے زیادہ ٹھہرے، مگر وہ دینار جس کو میں قرض کے ادا کرنے کے لیے محفوظ رکھوں۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا کہ بہت زیادہ مال والے ہی اکثر کم ثواب والے ہیں، مگر وہ شخص جو اس طرح اس طرح کرے۔ حدیث نقل کرنے والے نے ’’اس طرح اس طرح‘‘ کی صورت دونوں ہاتھ ملا کر دائیں بائیں جانب کرکے بتائی۔ یعنی دونوں ہاتھ بھر کر دائیں طرف والے کو دے دے اور بائیں طرف والے کو۔ یعنی ہر شخص کو خوب تقسیم کرے۔ (بخاری)

کشف المحجوب میں حضرت سیّدناداتاعلی ہجویری  ؒ فرماتے ہیں :’’ مَیں نے استاد ابوالقاسم قشیری  ؒ سے سنا کہ لوگوں نےغربت و امیری میں گفتگو کرکے اپنے لیے ایک کو پسند کرلیاہے۔ مگرمَیں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے لیے میرا جمیلِ حقیقی (اللہ تعالیٰ )جو پسند فرمائے، اس میں ہی مجھے رکھے۔اگر میرے لیے دولت مند ہوناپسند فرمائے تو مجھے اپنی یاد سے غافل نہ کرے اور اگر غربت  پسند فرمائے ،تو اس میں حرص و لالچ  سے محفوظ رکھے۔

فتوح الغیب  میں حضور غوث الاعظم شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی ؓ نے فرمایا کہ اگر تجھے اللہ تعالیٰ مال و دولت عطا فرمائے اور تو اس کی وجہ سے اس کی عبادت سے منہ موڑے تو دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ تیرے لئے حجابات قائم کر دے گا اور ممکن ہے کہ نعمت کے باعث اپنی ذات سے غافل ہونے کی سزا میں تجھے مال سے محروم کرکے تیرے حالات بدل کر تجھے محتاج کر دے ، اور اگر تو مال کی طرف توجہ رکھنے کے بجائے اسی کی اطاعت میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ مال تجھے ہی عطا کئے رکھے گا اور اس میں ذرا بھی کمی نہ ہوگی ، چنانچہ مال و دولت تیری خدمت اور تو اللہ کی بندگی کرتا رہے گا لہٰذا تو دنیا بھی راحت میں گزارے گا اور آخرت میں بھی صدیقین ، شہدا اور صالحین کے ساتھ جنتُ الماویٰ میں عزت سے رہے گا۔

تنگدستی اور عسرت کے زمانے میں خیرات کرنا بڑا مشکل کام ہے ۔لیکن ان لوگوں کے لئے جنہیں اپنے مال اور اپنی اولاد اور اپنے ماں باپ بلکہ کل مخلوق سے زیادہ خدا اور اسکا رسول محبوب ہو یہ کام کچھ مشکل نہیں ۔کہنے کو تو ہر شخص خدا اور اس کے رسول سے محبت کا دعوی رکھتا ہے مگر عملا *لن تنالو البر حتی تنفقوا مما تحبون(آل عمران٩٢)* کی تصویر ایک محب ہی پیش کر سکتا ہے ۔حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا جس میں آپ نے روپیہ پیسے کو جمع کرنے یا دوسرے دن کے لئے کچھ بچا کر رکھ چھوڑنے پر عمل کیا ہو۔ آپکا تمام عمر یہی معمول رہا کہ جو کچھ آیا اسی وقت مساکین میں تقسیم کردیا ۔

ایک دن کسی شخص نے کچھ روپے جناب بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کئے ۔آپ نے وہ روپیہ مولانا سید بدر الدین  اسحق کو دے کر فرمایا اس کو تقسیم کردو۔حضرت مولانا نے وہ روپیہ تقسیم کردیا۔کچھ دیر بعد ایک روپیہ فرش پر پڑا ہوا ملا۔آپ نے اس کو اس خیال سے اٹھا لیا کہ صبح فقراء کے کھانے میں کام آجائے گا۔جب بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو نماز بے ذوق اور بے حلاوت تھی۔آپ نے نیت توڑ دی۔جناب بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے  مولانا سید بدر الدین  اسحق  ؒسے پوچھا مولانا کیا وجہ ہے نماز بے ذوق ہے ۔کیا تمہارے پاس کوئی شاہی روپیہ تو باقی نہیں ہے۔مولانا بدر الدین  اسحق  ؒنے عرض کیا حضور ایک روپیہ میرے پاس ہے ۔اور میں نے اسے صبح کے لئے رکھ چھوڑا ہے ۔حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے وہ روپیہ اظہار ناراضگی کے ساتھ مولانا سے لے کر پھینک دیا اور فرمایا اسے کیوں رکھ چھوڑا اگر کوئی لینے والا نہیں تھا تو باہر پھینک دیا ہوتا ۔جمع کرنا ہمارا شیوہ نہیں ہے۔

دُنیا میں اس وقت تباہی و بربادی انھیں مال پرستوں اور مغرور لوگوں کی جنگ کا نتیجہ ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں پوری دنیا کے وسائل کو ہڑپ کیے جارہی ہیں۔ اقوام کی معیشتوں کو، ان کے معاشروں کو، ان کی سیاست کو تہہ وبالا کررہی ہیں۔ غریب لوگ ایڑیاں رگڑرگڑ کر مر رہے ہیں۔ بیمار انسان اپنا علاج کروانے سے عاجز ہیں۔ عصرِ حاضر میں حُبِّ مال کا مرض بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ حضور ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق نہ صرف فرد کو حُبِّ مال کا مرض نقصان دیتا ہے، بلکہ یہ مرض قوموں اور جماعتوں میں آجائے تو اس کی تباہ کاری کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان اخلاقِ رذیلہ سے محفوظ فرمائے اور اخلاقِ عالیہ نصیب فرمائے۔



منگل، 3 جنوری، 2023

حدیث نمبر15--لُعِنَ عَبْدُ الدِّينَارِ لُعِنَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ

0 Comments

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بروز منگل 3 جنوری 2023/ 10 جمادی الثانی 1444 ہجری

تمام یارانِ طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام قبول ہو۔ ان شاء اللہ آج ہم حدیث نمبر 15 کا سبق سکھیں گے۔ تو چلتےہیں سبق کی طرف ۔

حدیث نمبر15

(لُعِنَ عَبْدُ الدِّينَارِ لُعِنَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ)

 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لُعِنَ عَبْدُ الدِّينَارِ لُعِنَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيث مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.(جامع ترمذی 2375)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لعنت کی گئی ہے درہم کے بندے اور دینار کے بندے پر۔

امام ترمذی کہتے ہیں:

۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،

۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ «عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے اور یہ بھی سند اس سے زیادہ مکمل اور طویل ہے۔

عَبْدُ     بندہ    -    الدِّينَارِ    دینار    -    لُعِنَ    لعنت    -    الدِّرْهَمِ    درہم

وضاحت: اس حدیث مبارکہ میں درہم و دینا کے بندوں سے مراد دولت کی لالچ وہوس میں حرام طریقوں سے مال کمانے والے ہیں،یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام ننانوے کے پھیر میں راتوں رات امیر بننے کے خواب نہیں دیکھتے بلکہ وہ دولت کی برائیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔

یہ بات اس طرح بھی روایت میں آئی سماعت کیجئے گا۔

(مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ , وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ , وَعَبْدُ الْقَطِيفَةِ , وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ , إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ , وَإِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَفِ".

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”ہلاک ہوا دینار و درہم کا بندہ اور چادر اور شال کا بندہ، اگر اس کو یہ چیزیں دے دی جائیں تو خوش رہے، اور اگر نہ دی جائیں تو (اپنا عہد) پورا نہ کرے“۔(صحیح البخاری-2886)

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: أَفَرَءَيتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوىٰهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلىٰ عِلمٍ وَخَتَمَ عَلىٰ سَمعِهِ وَقَلبِهِ وَجَعَلَ عَلىٰ بَصَرِهِ غِشٰوَةً فَمَن يَهديهِ مِن بَعدِ اللَّهِ ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ {45:23}(سورۃ الجاثیہ، آیت23،پارہ25)

بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرالیا اور اللہ نے اسے با وصف علم کے گمراہ کیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے، تو کیا تم دھیان نہیں کرتے۔

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟یعنی اللہ جانتا تھا کہ اسکی استعداد خراب ہے اور اسی قابل ہے کہ سیدھی راہ سے اِدھر اُدھر بھٹکتا پھرے۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ بدبخت علم رکھنے کے باوجود اور سمجھنے بوجھنے کے بعد گمراہ ہوا۔

جو شخص محض خواہش نفس کو اپنا حاکم اور معبود ٹھہرا لے، جدھر اسکی خواہش لے چلے ادھر ہی چل پڑے اور حق و ناحق کے جانچنے کا معیار اسکے پاس یہ ہی خواہش نفس رہ جائے، نہ دل سچی بات کوسمجھتا ہے، نہ آنکھ سے بصیرت کی روشنی نظر آتی ہے ۔ ظاہر ہے اللہ جسکو اس کی کرتوت کی بدولت ایسی حالت پر پہنچا دے، کونسی طاقت ہے جو اسکے بعد اسے راہ پر لے آئے۔

  یحیی بن یوسف، ابوبکر، ابوحصین، ابوصالح، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، دینار و درہم اور قطیفہ وخمیصہ (ریشمی چادر اور اونی کپڑوں) کے بندے ہلاک ہوں اگر انہیں یہ چیز ملتی ہیں تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر نہیں ملتی ہیں، تو  ناراض ہوجاتے ہیں۔(صحیح بخاری)

اگر پانی کشتی کے نیچے رہے تو کشتی کے چلنے کا وہی ذریعہ بھی ہوتا ہے اور اگر پانی کشتی کے اندر داخل ہوجاوے تو اس کو ڈبونے کا بھی وہی ذریعہ بنتا ہے۔ پس دنیا اگر آخرت کی کشتی کے نیچے رہے تو وہی دنیا دین کی مددگار بن جاتی ہے اور اگر دنیا کی محبت دل کے اندر گھس جاوئے  (یعنی آخرت کی کشتی کے اندر) تو آخرت کو تباہ کردیتی ہے۔

کَمَا ھُوَ فِی الْحَدِیْثِ بِرِوَایَۃِ اَحْمَدَ لَابَأْسَ بِالْغِنٰی لِمَنِ اتَّقَی اللہَ عَزَّ وَجَلَّ  مال داری مضر نہیں اس کے لیے جو اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرتا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جاہل صوفیا جو متقی مال داروں کو بھی دنیا دار سمجھتے ہیں اور ان کو کسبِ معاش سے روکتے ہیں سخت غلطی پر ہیں۔

  ؎ کسبِ دنیا تو  کر  ہوس کم   کر اس  پہ  تو  دین  کو  مقدم  کر

کچھ معلومات درھم ودینا کرنسی کے متعلق لگے ہاتھوں سماعت کر لیجئے۔ اسلام کے خیر القرون میں کاغذی کرنسی کا تصور نہیں ملتا، بلکہ زمانہ قریب میں سلطنت عثمانیہ کے آخری دور تک بھی یہ مروج نہیں ہو سکی تھی، اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر ماضی قریب تک سونے، چاندی کے سکے یعنی درہم ودینار ہی بطور کرنسی استعمال ہوتے رہے ہیں، ان کا ذکر قرآن و حدیث میں بھی آیا ہے اور فقہا نے بھی ان کی اہمیت اور ان کے ذریعے لین دین کے تفصیلی احکام بیان فرمائے ہیں۔

عرب لوگ دینار کو’’عین‘‘ اور چاندی کے درہم کو ’’ورق‘‘ کہا کرتے تھے، درہم ودینا ر اسلام سے قبل اور اسلام آنے کے بعد عربوں میں زیراستعمال رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح 480 درہم مہر کے عوض کیا۔ آپ علیہ السلام کے دور میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بازنطینی اور چاندی کے ساسانی سکے جاری رہے، جن کا تناسب اس طرح تھا کہ دینار وزن میں 10 درہموں کے مساوی ہوتے تھے اور ایک درہم(3.06) گرام کا جبکہ ایک دینار(4.374)گرام کا ہوتا تھا۔

خلافت راشدہ کے دور میں دار الضرب (ٹیکسال) موجود تھا اس میں سکے ڈھالے جاتے تھے، سونے چاندی کے قسم قسم کے سکے موجود تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فارس حکومت کے طرز پر دارالضرب قائم کیا، بعض سکوں پر ’’الحمد للہ‘‘ اور بعض پر ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے نقش کا اضافہ کیا۔ اسی طرح ان کے زمانہ میں 10 درہم کا مجموعی وزن 6 مثقال کے برابر ہوا کرتا تھا۔ (اسلام کا اقتصادی نظام،ص:473شیح الہند اکیڈمی کراچی)

درہم ودینار کا مسلسل استحکام:

نبی کریم ﷺ کےظاہری وصال کے کچھ عرصہ بعد مسلمانوں میں زر کے جو معیاری سکے وجود میں آئے، ان میں دینار(4.374)گرام سونے  کا تھا اور درہم (3.018)گرام چاندی کا تھا۔ اکتوبر2011ء کے اوائل کی قیمتوں کے مطابق دینار تقریبا دو سو اٹھارہ امریکی ڈالر اور درہم تقریبا سوا تین امریکی ڈالر کا تھا۔ یہ قدری تعین ایک اہم نکتہ نظر پہ لاتا ہے، مگر اکثر طور پر نظر انداز کیا گیا۔ اگر سونے اور چاندی کو قدر کے پیمانے کے طور پر استعمال کیا جاتا تو مکہ اور مدینہ کی14سو سال پیشتر کی قیمتیں آج کی قیمتوں سے زیادہ مختلف نہ ہوتیں۔ 

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺنے انہیں بھیڑخریدنے کے لیے ایک دینار دیا۔ حضرت عروہ نے آپ کے لیے اتنے پیسوں سے دو بھیڑ یں خریدیں۔ پھر انہوں نے ایک بھیڑ ایک دینار میں بیچ دی اور ایک بھیڑ نبی کریم ﷺکے پاس لے آئے۔ اس پر نبی کریم ﷺنے تجارت میں برکت کی دعا دی، چنانچہ حضرت عروہؓ ہر سودے میں ہمیشہ ہی نفع کمایا کرتے تھے،خواہ وہ سودا مٹی کا ہی کیوں نہ ہو۔(صحیح البخاری: 1332/3)

اب صورت حال یہ ہے کہ آج بھی ایک دینار کی مقدار کے برابر سونے سے ایک بھیڑ خریدی جا سکتی ہے اور اگر کوئی تھوڑی زیادہ کوشش کرے تو اس سے دو بھیڑیں بھی خریدی جا سکتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دینار ودرہم کی قیمت میں مسلسل استحکام پایا جاتا ہے، جبکہ کاغذی زر کبھی اور کسی بھی صورت میں اپنی قیمت برقرار نہیں رکھ سکتا اور روز بروز انحطاط کا شکار ہوتا ہے۔

حضرت خواجہ عثمان ہرونی  ؒ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ مرد کو ایسا ہونا چاہئیکہ اس دنیا کی طرف نگاہ نہ کرے اور نزدیک نہ پھٹکے اور جو کچھ اسے ملے خداکی راہ میں خرچ کردے اور کچھ ذخیرہ نہ کرے۔پھر فرمایا کہ میں نے خواجہ یوسف چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ ما ل کا شکریہ ادا کرنا صدقہ دینا ہے اور اسلام کا شکریہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہنا ہے۔اور جو شخص اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہتا ہے اسلام کا شکریہ بجا لاتا ہے اور جو شخص زکوٰۃ اور صدقہ دیتا ہے وہ مال کا حق ادا کرتا ہے۔

-----

----



اس میں شبہ نہیں کہ دولت وثروت اللہ کی نعمت ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے، اسے اللہ کی معصیت میں نہیں بلکہ اللہ کو راضی کرنے والے راستوں میں خرچ کرنا چاہیے، اسراف وفضول خرچی سے بچنا چاہیے اور غریبوں وناداروں کا خیال رکھنا چاہیے۔ اہل علم کو بھی چاہیے کہ وہ حکمت ودانائی کے ساتھ اہل ثروت تک حق بات پہچانتے رہیں اور حق بات کہنے سے محض مالداروں کو خوش کرنے کیلئے خاموشی اختیار نہ کریں کہ بسا اوقات ان سے خلاف شر ع باتوں کا صدور نادانی وغفلت اور ناواقفیت ولاعلمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان میں قبول حق کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، اگر بھلے طریقے پر ناصحانہ انداز میں انہیں درست بات کہی جائے اور اس میں اخلاص ہو تویہ بات سنی جاتی اور اس پر اثر ہوتا ہے۔



ہفتہ، 31 دسمبر، 2022

حدیث نمبر14---يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الْخَصَاصَةِ

0 Comments

 


حدیث نمبر14

(يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الْخَصَاصَةِ)

(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ".(بخاری-6446)

ترجمہ: ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا، ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوھریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 مالداری، مال کی کثرت سے نہیں بلکہ اصل مالداری ننفس کا غنی ہونا۔(بخاری)

وضاحت : اس حدیث مبارکہ میں اصل مالداری کی تعریف بیان کی گئی ہے کہ وہ نفس یعنی دل کا غنی ہونا ہے۔ اس سے مراد اللہ کے سوا ہر شے سے بے نیاز ہوکر ہر کچھ یہاں تک کہ اپنی جان بھی اللہ کی راہ میں قربان کردیناہے ، یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام اس فانی دنیا کی ہر شے سے بے نیاز ہوتےہیں اور جو کچھ انہیں میّسر ہوتا ہے وہ بھی اور اپنی جان بھی اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے۔

خواہ فُقرا ہوں خواہ دنیادار ، احکامِ شرع سب پر یکساں (یعنی برابر Equal) ہیں۔

غنا کی تعریف ہے کہ جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اُس سے نااُمید ہونا غنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا ہے: وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ (پ۲۷، النجم: ۴۸) 

’’ اور یہ کہ اُس نے غنٰی دی اور قناعت دی ۔‘‘(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۵۷)

{ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِ ج وَاللّٰہُ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُo} (فاطر:ع۳)

تم سب کے سب اللہ تعالیٰ شانہٗ کے محتاج ہو، وہ پاک ذات بے اِحتیاج ہے، ہر قسم کی تعریف والا ہے۔

دوسرے معنی حاجات کی کمی کے ہیں۔ اس معنی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے حضورِاقدس ﷺکے متعلق سورہ والضحیٰ میں ارشاد فرمایا:

{وَوَجَدَکَ عَآئِلاً فَاَغْنٰی}اور تمہیں حاجت مند پایا پھر غنی کردیا۔

اور اسی معنی کے اعتبا رسے حضورِ اقدس ﷺکا پاک ارشاد حدیثِ ہے کہ اصل غنا دل کا غنی ہونا ہے۔

ابن حبان کتاب الرقائق، باب الفقر والزھد والقناعۃ، ۱ / ۳۷، حدیث: ۶۸۴میں ہے :حضرت سیدنا ابو ذرغفاری ؓ بیان کرتے ہيں کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اے ابو ذر! کيا تم کثرتِ مال کو غنا سمجھتے ہو؟‘‘ ميں نے عرض کی: جی ہاں! یارسولَ اللہ! آپ ﷺ نے فرمايا: ’’کيا تم مال کی کمی کو فقرسمجھتے ہو؟‘‘ ميں نے عرض کی: جی ہاں! یارسولَ اللہ! آپﷺ نے فرمایا: ’’اصل غنا تو دل کی تونگری ہے۔‘‘

ایک گُر کی بات بتاتاہوںزُہد دنیاسے بے رغبتی دلاتا ہے جبکہ قناعت تھوڑے پر راضی ہونے پر اُبھارتا ہے اور یہ دونوں چیزیں غنا پر معاون ثابت ہوتی ہیں کہ آدمی زُہد وقناعت اختیار کرکے دوسروں سے بے نیازہوجاتاہےاور تھوڑے پر راضی رہ کر دنیاسے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے یوں وہ زُہد وقناعت کے ساتھ غنا کی دولت بھی سمیٹ لیتا ہے۔یعنی جس شخص کی نظر لوگوں کے مال واسباب پر نہیں ہوتی اور وہ لوگوں سے بے نیاز ہوتا ہے تو لوگ ایسے شخص کو پسند کرتے ہیں اور اس کے استغناء کو اچھی نظر سے دیکھتے ہیں۔

نوٹ: غناسے متعلق امام ابوطالب مکی  ؒ کی کتاب ’’قوت القلوب‘‘ اور امام محمد بن محمد غزالی  ؒکتاب ’’احیاء العلوم‘‘ اور امام ابو القاسم قشیری ؒ کی کتاب ’’رسالۂ قشیریہ‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔

اگر آدمی کادل غنی نہیں ہے تو جتنا مال بھی اس کے پاس زیادہ ہو وہ مال کے خرچ کرنے میں فقیروں سے زیادہ کم خرچ ہوگا۔ اور جتنا بھی مال اس کے پاس ہو وہ ہر وقت اس کے بڑھانے کی فکر میں محتاجوں سے زیادہ پریشان ہوگا اور اگر اس کا دل غنی ہے تو تھوڑا سا مال بھی اس کو بے فکر رکھے گا ،اور جتنا ہوگا اس کے ہر وقت بڑھانے کے فکر سے آزاد ہوگا۔امام راغب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ غنا کئی معنی میں بولا جاتا ہے۔ ایک تو غنا کے معنی کسی قسم کی حاجت نہ ہونے کے ہیں۔ اس معنی کے اعتبار سے تو صرف اللہ تعالیٰ غنی ہے کہ اس کو کسی چیز کی اِحتیاج نہیں ہے۔ 

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس ﷺنے مجھ سے ارشاد فرمایا: ابوذرّ! کیا تمہارا خیال ہے کہ مال کی کثرت غنا ہے؟ میں نے عرض کیا: بے شک۔ پھر حضور ﷺنے فرمایا: کیا تمہارا خیال ہے کہ مال کی قلت فقر ہے؟ میں نے عرض کیا: بے شک۔ 

حضور ﷺنے ارشاد فرمایا کہ غنا صرف دل کا غنا ہے اور فقر صرف دل کا فقر ہے۔ (الترغیب و الترہیب)

حقیقت یہی ہے کہ اصل غنا دل کا غنا ہے، جس خوش قسمت کو حق تعالیٰ شانہٗ نصیب فرما دے اور یہی حقیقی زہد ہے۔ جس دل کے اندر مال کی محبت بالکل نہ ہو وہی غنی ہے، وہی زاہد ہے، چاہے ظاہر میں اس کے پاس مال نہ ہو۔ اور جس دل میں دنیا کی محبت ہووہ فقیر ہے، وہ دنیا دا ر ہے، چاہے کتنا ہی مال اس کے پاس ہو۔

فقیہ ابواللیث ؒ ایک حکیم کا مقولہ نقل کرتے ہیں کہ ہم نے چار چیزیں تلاش کیں اور ان کی تلاش کا غلط راستہ اختیارکیا۔ ہم نے غنا کو مال میں تلاش کیا، حالاںکہ وہ مال میں نہیں تھا، بلکہ قناعت میں تھا (ہم اس کو مال میں تلاش کرتے رہے اور جب وہ وہاں تھا ہی نہیں تو کیسے ملتا)، ہم نے راحت کو (جان و مال کی )کثرت میں تلاش کیا، حالاںکہ راحت ان کی کمی میں تھی۔ ہم نے اِعزاز کو مخلوق میں تلاش کیا (کہ ان کی خوشی کے اسباب اختیار کریں تاکہ ان کے یہاں اِعزاز ہو)، مگر وہ تقویٰ میں ملا (اور بالکل صحیح ہے، جس قدر آدمی میں تقویٰ زیادہ ہوگا اتنا ہی اس کا اِعزاز زیادہ ہوگا)۔ ہم نے اللہ کی نعمت کو کھانے اور پہننے میں تلاش کیا (اوریہ سمجھا کہ یہ اللہ کے بڑے انعامات ہیں) حالاںکہ اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام اسلام کی دولت اور گناہوں کی ستاری ہے (جس کو یہ دو نعمتیں حاصل ہیں اس پر اللہ کا بڑا انعام ہے)۔

حضورﷺکا ارشاد نقل کیا گیا کہ جس شخص کا دنیا مقصد بن جائے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر تین چیزیں مسلط کر دیتا ہے۔ ایک ایسا غم جو کبھی ختم ہونے والا نہ ہو اور ایسا مشغلہ جس سے فراغت نصیب نہ ہو اور ایسا فقر جس کا کبھی خاتمہ نہ ہو۔ (تنبیہ الغافلین)

ٍحضورِاقدسﷺ کا ارشادہے کہ جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جس کواللہ تعالیٰ نے دنیا سے بے رغبتی اور کم بولنا عطا فرمایا ہو تو اس کے پاس رہا کرو، اس کو حکمت دی گئی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح)

 حدیث میں ہے کہ اپنے سے زیادہ مال داروں کی طرف نگاہیں نہ لے جایا کرو، اپنے سے کم درجہ والوں کو سوچا کرو، اس سے اس نعمت کی حقارت تمہارے دلوں میں نہیں ہوگی جو اللہ نے تمہیں عطا کر رکھی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح)

حضرت ابوذرّ غفاریؓ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب (ﷺ) نے سات نصیحتیں کی ہیں۔

۱۔ مجھے اس کاحکم فرمایا ہے کہ مسکینوں سے محبت کیا کروں اور ان کے قریب رہا کروں.

۲۔ مجھے اس کا حکم فرمایا ہے کہ میںاپنے سے اونچے لوگوں (زیادہ مال دار وں پر) نگاہ نہ رکھا کروں، اپنے سے کم درجہ والوں پر نگاہ رکھوں (ان پر غور کیا کروں)۔

۳۔ مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں صلہ رحمی کیا کروں اگرچہ وہ مجھ سے منہ پھیرے۔ (یعنی جس کے ساتھ صلہ رحمی کروں وہ مجھ سے غائب ہو، دور ہو، یا یہ کہ وہ میرے ساتھ توجہ سے پیش نہ آئے بلکہ مجھ سے روگردانی کرے۔ ’’ترغیب ترہیب‘‘ کے الفاظ یہ ہیں کہ اگرچہ وہ مجھ پر ظلم کرے۔ اس سے دوسرے معنی کی تائید ہوتی ہے)

۴۔ مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں کسی شخص سے کوئی چیز نہ مانگوں۔

۵۔مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں حق بات کہوں چاہے کسی کو کڑوی ہی لگے۔

۶۔ مجھے حکم فرمایا ہے کہ میںاللہ تعالیٰ شانہٗ کی رضا کے مقابلہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کروں (یعنی جس چیز سے اللہ تعالیٰ 

راضی ہو، اس کو اختیار کروں، اس کے کرنے پر اَحمق لوگ ملامت کریں تو کیا کریں)۔

۷۔ مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں لَاحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ کثرت سے پڑھا کروں۔ اس لئے کہ یہ کلمات ایسے خزانہ سے اُترے ہیں جو خاص عرش کے نیچے ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح)  لَاحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ کو کثرت سے پڑھنے کی ترغیب بہت کثرت سے روایات میں آئی ہے۔

  ابنِ سماک رحمۃ اللہ علیہ ایک بادشاہ کے پاس گئے۔ بادشاہ کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا۔ بادشاہ نے ان سے درخواست کی کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ ابنِ سماک رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ گلاس پانی کا اسی ساری سلطنت کے بدلہ میں مل سکتا ہے جو تمہارے پاس ہے اور نہ خریدا جائے تو پانی ملنے کی کوئی صورت نہیں، پیاسے ہی رہنا ہوگا، کیاتم راضی ہو جائو گے کہ ساری سلطنت دے کر پانی خریدو، ورنہ پیاسے مرجائو؟ بادشاہ نے کہا: یقیناً راضی ہوجائوں گا۔ ابنِ سماک رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ ایسی بادشاہت پر کیا خوش ہونا جس کی ساری کی قیمت ایک گلاس پانی ہو۔

عون بن عبداللہ ؒکہتے ہیں کہ میں اکثر مال داروں کے پاس بیٹھا کرتاتھا تومیری طبیعت غمگین رہتی۔ کسی کا کپڑا اپنے کپڑے سے بہتر دیکھتا (تو اپنے کپڑے کے ادنیٰ ہونے پراپنی ذلت محسوس کرتا جس سے رنج ہوتا)، کسی کا گھوڑا اپنے گھوڑے سے اعلیٰ دیکھتا۔ پھر میں نے فقرا کے پاس اپنی نشست شروع کر دی تو مجھے اس رنج سے راحت مل گئی (کہ ان لوگوں سے اپنی چیزوں کو افضل دیکھتا ہوں)۔ (اِحیاء العلوم)

نفیساتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پریشانیوں ،غموں، دِل و رُوح کی بے سُکونی اور نفسیاتی دباوؤں کے بڑے بنیادی اسباب میں سے اہم بنیادی سبب ، جو کہ سب سے زیادہ موجود ہوتا ہے ، اپنے پاس ہونے والے چیزوں پر راضی نہ ہونا ہوتا ہے ،اور ہمارےنبی کریمﷺ نے صدیوں پہلے ہمیں سکھایا تھا کہ وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ

جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے حصہ مقرر کیا ہے اُس پر راضی رہو تو تونگر(غِنیِ) ترین لوگوں میں سے ہو جاؤ گے(سُنن الترمذی )

جو کہ کچھ ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اُس کا نہ ملنا کوئی انوکھی بات نہیں ، بلکہ ایسا ہونا ہماری زندگیوں کے معمولات میں سے ایک ہے ، لیکن ہم اس معمول کو معمول سمجھنے کی بجائے اسےحسرت اور دُکھ بنا لیتے ہیں اور پھر وہ حسرت اور دُکھ ہمارے اندر طرح طرح کی پریشانیاں ، غم ، اور نفسیاتی دباؤ پیدا کرنے کے سبب بنتے ہیں ، بلکہ بسا اوقات تو مادی طور پر جسمانی بیماریوں کا بھی سبب بن جاتے ہیں۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ مل توجاتا ہےلیکن اُس کے ملنے کے نتیجے میں جو کچھ توقعات لگائے ہوتے ہیں وہ پوری نہیں ہو پاتِیں ، پس اس صورت میں بھی ہم اپنی خواہش کے مطابق چیز ملنے کے باوجود مطمئن نہیں ہوتے ، سُکون نہیں پاتے ، بلکہ مزید حسرتوں اور دُکھوں کو خود پر مسلط کر لیتے ہیں اور نتیجہ پہلی صُورت سے زیادہ منفی اور تکلیف دہ ہوجاتا ہے ،اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ پاناچاہتے ہیں وہ مل بھی جاتا ہے ، اور اس کے ملنے کے نتیجے میں جو کچھ توقعات ہوتی ہیں وہ بھی پوری ہوتی ہیں ، لیکن ہمیں اُس چیز کے کھو جانے ، ختم ہوجانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے اور اُس کے کھو جانے ، ختم ہوجانے کے بعد اُس کے بغیر ہو سکنے والی ممکنہ پریشانی کی سوچ ہمیں مذکورہ بالا دونوں حالتوں سے زیادہ حسرت زدہ کر کے خوف ، غم اور نفیساتی دکھوں کے حوالے کرتی ہے ،اِن تمام حالتوں کا ایک ہی سبب ہے ، اور وہ ہے ،اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سےکی گئی تقسیمء رزق پر ، اللہ کے فیصلہ کردہ رزق کے ملنے پر ، اللہ کے فیصلے کے مطابق رزق میں سے کچھ کم ہوجانے پر ، اللہ کی طرف سے مقرر کردہ دُنیا کے مال و اسباب میں سے ملنے والے حصے پر راضی نہ ہونا ۔



جمعہ، 30 دسمبر، 2022

حدیث نمبر13--يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الْخَصَاصَةِ

0 Comments

 

حدیث نمبر13

(يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الْخَصَاصَةِ)

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الْخَصَاصَةِ وَهُمْ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يَقُولَ الْأَعْرَابُ:‏‏‏‏ هَؤُلَاءِ مَجَانِينُ أَوْ مَجَانُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ لَأَحْبَبْتُمْ أَنْ تَزْدَادُوا فَاقَةً وَحَاجَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فَضَالَةُ:‏‏‏‏ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

(حدیث نمبر: 2368)


فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو صف میں کھڑے بہت سے لوگ بھوک کی شدت کی وجہ سے گرپڑتے تھے، یہ لوگ اصحاب صفہ تھے، یہاں تک کہ اعراب (دیہاتی لوگ) کہتے کہ یہ سب پاگل اور مجنون ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو ان کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے: اگر تم لوگوں کو اللہ کے نزدیک اپنا مرتبہ معلوم ہوجائے تو تم اس سے کہیں زیادہ فقر و فاقہ اور حاجت کو پسند کرتے ۔فضالہ ؓ کہتے ہیں: میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔

مَجَانِينُ       پاگل    -    انْصَرَفَ     چلے جانا    -    تَعْلَمُونَ     تمہیں معلوم ہے

الْخَصَاصَةِ     رازداری    -    

فضالہ بن عبید انصارؓ

فضالہ بن عبید انصار کے بہت بلند مرتبہ صحابی تھے۔والدہ کا نام عقبہ بنت محمد بن عقبہ بن الجلاج انصاریہ ہے۔عبید بن نافذ ( فضالہ کے والد) اپنے قبیلہ کے سر برآوردہ شخص تھے اوس و خزرج کی لڑائی میں نمایاں رہے،نہایت شجاع و بہادر تھے، گھوڑ دوڑ کراتے اوراس میں سب سے بازی لیجاتے،زور وقوت کا یہ حالت تھا کہ ایک پتھر دوسرے پر دے مارتے تو آگ نکلنے لگتی، سپہ گری کے ساتھ فن میں اور شاعری کا بھی کافی ذوق رکھتے تھے۔فضالہ مدینہ میں اسلام کے قدم آتے ہی مسلمان ہو گئے تھے۔لیکن کسی وجہ سے بدر میں شریک نہ ہوئے ،غزوۂ احد اور باقی تمام غزوات میں حضورﷺ کے ہمرکاب رہے اور بیعت الرضوان میں بھی شرکت کا شرف حاصل کیا۔

ایوانِ حکومت کے ساتھ مجلس علم میں بھی مرجع انام تھے،لوگ دور دراز سے حدیث سننے آتے تھے،ایک شخص اسی غرض سے ان کے پاس مصر پہنچا تھا۔ایک شخص مصر سے آیا اورحدیث سننے کے لیے ملاقات کی تو دیکھا کہ پراگندہ سر اوربرہنہ پا ہیں ،بڑا تعجب ہوا اور بولا کہ امیر شہر ہوکر یہ حالت؟ فرمایا ہم کو حضورﷺ نے زیادہ تن آسانی اوربناؤ سنگار کی ممانعت کی ہے اور کبھی کبھی ننگے پیر رہنے کو بھی فرمایا ہے۔وہ  شخص رسول اللہ ﷺ کے شرف صحبت سے مشرف اورحضرت عمرؓ اورحضرت ابودرداءؓ جیسے اساطین امت سے مستفیض ہوا ہو، اس کے فضل وکمال کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے، دار السلطنت دمشق کی مسند قضا کے لیے اور پھر حضرت ابودرداء جیسے بزرگ کی رائے سے منتخب ہونا، ان کی قابلیت کی سب سے بڑی سند ہے ،لیکن بایں ہمہ فضل وکمال صرف 50 حدیثیں ان کے سلسلہ سے ثابت ہیں ۔

وضاحت: اس حدیث ِ مبارکہ میں ــ’’ اصحابِ صُفّہ‘‘ اور فقر وفاقہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ اسی لیئے صوفیائے کرام کو اصحاب ِ صفہ کی اتباع کرنے کی وجہ سے ’’صوفی‘‘ کہا جاتا ہے اور اھل اللہ اختیاری طور پر فقر وفاقہ میں ہی خوش رہتے ہیں۔یہاں ایک بات عرض کرتا چلوں کہ حضور امین الاولیاء پیر و مرشد نے ایک مجلس میں صوفی کی ابتداء لفظ صوفہ سے ہوئی جو کہ ایک عبد الرحمن نامی بچے کو دیکھ کو اُن کی والدہ نے صوفہ فرمایا تھا کہ کیوں کہ وہ کعبہ معظمہ میں حالت ِ اعتکاف میں رہتے تھے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصحاب صفہ کس قدر تنگی اور فقر و فاقہ کی حالت میں تھے، پھر بھی ان کی خودداری کا یہ عالم تھا کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے صبر و قناعت کی زندگی گزارتے تھے، یہ بھی معلوم ہوا کہ دینی علوم کے سیکھنے کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کرنا چاہیئے جہاں تعلیمی و تربیتی معیار اچھا ہو چاہے کھانے پینے کی سہولتوں کی کمی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اصحاب صفہ کی زندگی سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔کچھ مثالیں پیش کرتاہوں ، دل وروح کے کانوں سے سماعت کیجئے گا۔حضور امین الاولیاء پیر ومرشد نے ایک مقام پر عرض فرمائیں تھیں۔

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے گھر کئی وقت کا فاقہ تھا، وہ گھر سے نکل کر حضور اکرمﷺ کے پاس آئے،حضورﷺ کا بھی یہی حال تھا کہ آپ ﷺخود بھی کئی دنوں کے فاقے سے تھے۔ لیکن حضورﷺ نے پہچان لیا کہ عمرؓ اس وقت فاقے (۱) رواہ احمد. مشکاۃ المصابیح‘کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق‘ باب الحساب والقصاص والمیزان. اور بھوک کی حالت میں ہیں اورمیرے پاس اس لیے آئے ہیں کہ شاید یہاں کھانے کے لیے کچھ ہو، تھوڑی دیر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور ان کا بھی یہی حال تھا، نبی مکرمﷺ شایداپنے لیے تو کچھ نہ کرتے،لیکن آپﷺ اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لے کر ایک انصاری صحابی ابوالہیثم بن تیھان رضی اللہ عنہ کے باغ میں پہنچے۔ ان کی تو گویا عید ہو گئی کہ حضورﷺ آ گئے اور ابوبکر وعمر( رضی اللہ عنہما) بھی۔ وہ دوڑ کر کچھ کھجوریں لے آئے جسے عربی میں ’’نُزُل‘‘ کہتے ہیں ‘یعنی مہمان جیسے ہی آئے توابتدائی مہمان نوازی کے طور پر فوری طور پر کچھ پیش کرنا۔جیسے ہم مہمان کے آتے ہی اس سے پوچھتے ہیں کہ ٹھنڈاچلے گا یا گرم ؟اورپھر فوری طو رپر وہ پیش کردیتے ہیں اس کے بعد انصاری صحابیؓ نے چھری اُٹھائی تاکہ کسی جانور کو ذبح کریں اور گوشت پکائیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کسی دودھ والے جانور کو ذبح نہ کرنا۔ انہوں نے ایک جانور ذبح کیا اور اس کا گوشت بھون کر حضورﷺ اور ان دو اصحاب کے سامنے رکھا توانہوں نے وہ تناول فرمایا۔اس کے بعد رسول اللہﷺ نے ایک روٹی کے اوپر کچھ بوٹیاں رکھ کر کہا: جاؤ عائشہؓ کو دے آؤ،اسے بھی کئی وقت کا فاقہ ہے۔ اس موقع پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: 

ھٰذَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مِنَ النَّعِیْمِ الَّذِیْ تُسْاَلُوْنَ عَنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (سنن الترمذی) 

’’قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، یاد رکھو کہ یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم سے قیامت کے دن پوچھاجائے گا‘‘۔

اب جو بندہ فقر و افلاس پر صبر کرتا ہے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر قانع اور راضی رہتا ہے وہ امتحانِ صبر میں کامیاب اور جنت کی نعمتوں کا مستحق ٹھہرتا ہے، حدیث نبوی ﷺمیں اسی کی صراحت ہے جوکہ الاربعین فی التصوف میں کل کے سبق نمبر 9سے ہم نے سیکھی تھی کہ

 ﴿یدخل فقراء المسلمین الجنة قبل الأغنیاء بنصف یوم وہو خمس مأة عام﴾ (ترمذی)

 فقراء مسلمین مالداروں سے آدھا دن یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے، مزید فرمایا  ﴿اطّلعت فی الجنة فرأیت أکثر اہلہا الفقراء﴾ (بخاری ومسلم) 

میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو میں نے اہل جنت میں زیادہ تعداد فقراء کی پائی۔

ایک حدیث میں آیا ہے ﴿ان حوضی ما بین عدن الی عمان أکوابہ عدد النجوم ماوٴہ أشد بیاضاً من الثلج وأحلیٰ من العسل، واکثر الناس ورودًا علیہ فقراء المہاجرین﴾ میرا حوض کوثر عدن سے لے کر عمان تک (کی مسافت کے بقدر لمباچوڑا) ہوگا، اس کے پیالے ستاروں کی طرح (بیشمار) ہوں گے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شریں ہوگا، اور اس سے سب سے زیادہ سیراب و متمتع ہونے والے فقراء مہاجرین ہوں گے، صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﴿صِفْہم لنا﴾ ان فقراء کے اوصاف ہم سے بیان کیجئے! آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿شعث الروٴوس، دُنس الثیاب، الذین لاینکحون المنعمات، ولا تُفتح لہم السُدد، الذین یعطون ما علیہم، ولا یعطون مالہم﴾ وہ پراگندہ بال، معمولی گندے لباس والے ہیں جو مالدار اور ناز و نعم میں پروردہ خواتین سے نکاح نہیں کرتے، اور جن کے لئے (فقر کی وجہ سے) دروازے نہیں کھولے جاتے، جو اپنے اوپر واجب حق ادا کرتے ہیں مگر ان کا حق انہیں نہیں دیا جاتا۔ (ترمذی و ابن ماجہ)

مزید فرمایاگیا ﴿ان فقراء المسلمین یُزفون کما یزف الحمام، فیقال لہم: قِفوا للحساب، فیقولون: واللہ ما ترکنا شیئًا نحاسب بہ، فیقول اللّٰہ عز وجل: صدق عبادی، فیدخلون الجنة قبل الناس بسبعین عامًا﴾ (طبرانی)

 فقراء مسلمین اس طرح تیز رفتاری سے آئیں گے جیسے کبوتر پر پھیلائے تیزی سے آتا ہے، ان سے کہا جائے گا: حساب کے لئے ٹھہرو، وہ کہیں گے بخدا ہم نے تو کچھ نہیں چھوڑا جس کاحساب دیں، اللہ فرمائے گا: میرے بندوں نے سچ کہا، چنانچہ وہ اور لوگوں سے ستر سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔

ارشاد نبوی ﷺہے ﴿من قلّ مالہ، وکثر عیالہ، وحسنت صلاتہ، ولم یغتب المسلمین، جاء یوم القیامة وہو معی کہاتین﴾ (مسند ابویعلی) جس کا مال کم ہو، بچے زیادہ ہوں، نماز اچھی ہو اور وہ مسلمانوں کی غیبت نہ کرے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ وہ میرے ساتھ ہوگا (میرے قریب ہوگا)۔

فقرو احتیاج کے موقعے پر صبر کی روش اپنانا بہت مشکل کام ہے،مولانائے رومؒ کا مشہور شعر ہے:

؎ آنچہ شیراں  ر ا  کند  ر و بہ مز ا ج احتیاج است احتیاج است احتیاج

حاجت مندی شیروں کو لومڑی بنا دیتی ہے۔

جو چیز شیر (جیسے بہادر) کو گیدڑ (جیسا بزدل) بنادیتی ہے وہ فقرواحتیاج ہے، اس لئے فقر کی حالت میں جو بندہ صبر و ثبات کی راہ پر گامزن رہتا ہے وہی کامیاب و بامراد ہوتا ہے، انبیاء واولیاء، صدیقین و شہداء وصالحین سب کو اس امتحانِ فقر سے گذرنا پڑا، اور سب صابرانہ کامیاب گذرے۔اہل اسلام کے لئے سب سے بڑا نمونہ اور مشعل راہ سید الاولین والآخرین محمد عربی ﷺکی زندگی ہے، فقر وفاقہ کی آزمائش پر صبر آپﷺ کا امتیاز تھا، آپ ﷺنے آخری لمحہٴ زندگی تک فقر کا سامنا کیا، آپ ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ لگاتار دو ماہ گذر جاتے تھے اور آپ کے گھر میں چولھا گرم نہیں ہوتا تھا اور کھجور و پانی پر گذارہ ہوتا تھا۔ (بخاری ومسلم)

حضورﷺفرمارہے ہیں: ”آج کی رات اس شخص کی میزبانی کون کرے گا؟“ ابوطلحہ انصاریؓ اُٹھ کر عرض کرتے ہیں: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا گھر حاضر ہے“ پھر اس شخص کو ساتھ لے کر گھر آتے ہیں بیوی اُمّ سلیم سے پوچھتے ہیں ”کھانے کو کچھ ہے؟ رسول اللہﷺ کے ایک مہمان ساتھ آئے ہیں“ نیک بخت کہتی ہیں ”میرے پاس تو بچوں کے کھانے کے سوا کچھ بھی نہیں“ ابو طلحہؓ کہتے ہیں ”بچوں کو سلادو اور کھانا دسترخوان پر چن کر چراغ گل کردو ہم مہمان کے ساتھ بیٹھے یونہی دکھاوے کو منھ چلاتے رہیں گے اور وہ پیٹ بھرکر کھالے گا۔“ام سلیم ؓایسا ہی کرتی ہیں، اندھیرے میں مہمان یہی سمجھتا ہے کہ میزبان بھی اس کے ساتھ کھانا کھارہے ہیں، مہمان کو کھانا کھلاکر سارا گھر فاقے سے پڑا رہتا ہے، صبح ہوتی ہے توابوطلحہ ؓرسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، حضورﷺ اُنہیں دیکھ کر تبسم فرماتے ہیں اور کہتے ہیں تم دونوں میاں بیوی رات مہمان کے ساتھ جس سلوک سے پیش آئے، اللہ تعالیٰ اس سے بہت خوش ہوا ہے، پھر حضورﷺآیت تلاوت فرماتے ہیں جواس موقع پر نازل ہوئی ﴿ویوٴثرون علی أنفسہم ولو کان بہم خصاصة﴾ اور وہ اپنی ذات پر دوسروں کوترجیح دیتے ہیں، خواہ خود محتاج کیوں نہ ہوں (الحشر:۹) اس طرح ابوطلحہ ؓاور ان کے گھر والوں کے ایثار کی داستان رہتی دنیا تک کلام الٰہی میں ثبت ہوجاتی ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرمﷺ کی زندگی حد سے زیادہ زاہدانہ اور فقیرانہ زندگی تھی۔(سیر الصحابہ)

حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنے زمانہٴ خلافت میں جمعہ کی نماز میں کچھ تاخیر سے آئے، حاضرین کو اس سے ناگواری ہوئی، آپ نے فرمایا کہ میرے پاس بس ایک قمیص ہے، اسے دُھل دیا تھا، اس کے سوکھنے میں دیر ہوگئی۔

حضرت سفیان ثوری ایک بار حضرت رابعہ عدویہ سے ملاقات کے لئے گئے، حضرت رابعہ بدحالی اور فقر کا شکار تھیں، حضرت سفیان نے انہیں اپنے کسی مالدار پڑوسی سے مدد طلبی کے لئے کہا، اس پر حضرت رابعہ نے جواب دیا ﴿یا سفیان وما تریٰ من سوء حالی؟﴾ اے سفیان! تم میری بدحالی کیا دیکھتے ہو؟ ﴿ألست علی الاسلام﴾ کیا تم اسلام پر یقین نہیں رکھتے؟ ﴿فہو العز الذی لا ذلّ معہ، والغنیٰ الذی لا فقر معہ، والأنس الذی لاوحشة معہ﴾ اسلام سراپا عزت ہے، اس کے ساتھ ذلت نہیں، وہ غنی ہے جس کے ساتھ فقر نہیں، وہ انس ہے جس کے ساتھ وحشت نہیں، ﴿واللّٰہ انی لأستحی أن اسأل الدنیا من یملکہا فکیف أسألہا من لا یملکہا؟﴾ بخدا میں تو اس اللہ سے دنیامانگنے سے شرماتی ہوں جو دنیا کا مالک ہے، تو میں کیسے اس سے دنیا مانگ سکتی ہوں جو دنیا کا مالک نہیں ہے، یہ سن کر حضرت سفیان ثوری ؒ  بول اُٹھے کہ ﴿ما سمعت مثل ہذا الکلام﴾ میں نے اس جیسا (عمدہ و موٴثر) کلام نہیں سنا۔

امام دارالہجرة امام مالک بن انسؒ کو طلب علم کی راہ میں اپنے گھر کی شہتیریں تک فروخت کرنی پڑیں، اتنی مشقتوں کے بعد ان کو علم ملا، پھر جب وہ مسند مشیخت حدیث پر متمکن ہوئے تو دنیا ان پر ٹوٹ پڑی، وہ فرمایا کرتے تھے ﴿لاینال ہذا الأمر حتی یذاق فیہ طعم الفقر﴾ دین کا علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے ساتھ فقر کاذائقہ نہ چکھا جائے۔

کیمیائے سعادت میں امام غزالی  ؒجانِ کائناتﷺ کے متعدد اقوال نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں؛ محمد الرسول اللہ ﷺنے فرمایا:"بھوک اور پیاس سے جہاد کرو کہ اس کا ثواب کافروں کے ساتھ جہاد کی مانند ہے"۔ 

آپﷺ سے لوگوں نے پوچھا زیادہ فضیلت والا کون ہے تو فرمایا:تھوڑا کھانے والا، تھوڑا ہنسنے والا"، اور فرمایا؛ "بھوک سب کاموں کی سردار ہے۔

 آپ ﷺنے فرمایا: "پرانا کپڑا استعمال کرو اور آدھے پیٹ کی مقدار کھاو پیو کہ یہ فعل نبوت کا جزو ہے"۔

 آپ ﷺنے ارشاد فرمایا؛ "اللہ کی مخلوق میں تفکر نصف عبادت ہے اور کم کھانا پوری عبادت ہے"۔ 

اور فرمایا وہ شخص اللہ کا بڑا دشمن ہے جو بہت کھائے پیئے اور بہت سوئے"۔ 

اور فرمایا: "مومن تو ایک انتڑی میں کھاتا ہے اور منافق سات میں"۔

 حضرت ابو سلیمان دارانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "رات کے کھانے میں ایک لقمہ کم کھانا اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ رات بھر نفل پڑھی جائے"۔

کُل چار جوڑے  یہ بات بڑی مشہور ہے حضرت خواجہ بابا فرید الدین مسعود الدین گنج شکر ؒکے حوالے سے کہ آپؒ ہمیشہ سادہ اور عام لباس زیب تن فرماتے اور وہ بھی اکثر پھٹا ہوتا۔ ہانسی ضلع حصار میں مولانا نورترک کا وعظ سننے پہنچے تو اس وقت بھی آپ کے کپڑے بہت پرانے اور پھٹے ہوئے تھے‘ حضرت سید محمد حسینی گیسودراز  ؒ  فرماتے ہیں کہ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے پاس کُل چار جوڑے تھے، ایک پہنے رہتے اور دوسرا دھلانے والے کے پاس رہتا، تیسرا مستحقین کی تقسیم کیلئے موجود رہتا جسے آپؒ وقت بے وقت اور خاص مشغولی میں استعمال فرماتے۔

یہاں پر طاعت کے بارے میں عرض کرتا چلوں وہ یہ کہ محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاءؒ نے ایک گفتگو کے دوران میں اطاعت کی دو قسمیں بیان فرمائیں۔ اطاعت لازمی اور اطاعت متعدی۔

اطاعت لازمی وہ ہے جس کا فائدہ صرف اطاعت کرنے والے کے نفس کو پہنچے مثلاً نماز، روزہ، حج اور تسبیحات اور اس قسم کی چیزیں۔ 

اطاعت متعدی یہ ہے کہ جس کی راحت اور منفعت دوسروں کو پہنچے یعنی انسان ، محبت اور شفقت کے ساتھ جہاں تک اس کے بس میں ہو، دوسروں کی خدمت کرے۔ اس کو اطاعت متعدیہ کہتے ہیں اور اس کا ثواب حد اور اندازہ سے زیادہ ہے۔ اطاعت لازمی کے لئے خلوصِ نیت ضروری ہے لیکن اطاعت متعدیہ جس طرح بھی ہو باعث ثواب ہے۔" اُمید کرتا ہوں آپ ایثار کو سمجھ رہے ہوں گےکہ حدیث پر عمل ہمیں ہمارے اسلاف کی زندگیوں میں عملی تفسیر بن کر ہمیں جھنجوڑ رہا ہے کہ دیکھو اللہ کی قرب چاہتے ہوتو فقر ، ایثار،خدمت خلق کے جذبے کی آگ اپنے اندر پیدا کرو، جب آگ اندر جلے گی تو روشنی پورے وجود میں پھیلے گی اور پھر جب وجود سے باہر آئے گی تو عالم کو منور کرے گی۔

شیخ سعدی نے بڑے سادہ الفاظ میں یہ بہت بڑی حقیقت بیان کر دی تھی:

؎  طریقت بجُز خدمتِ خلق نیست بہ تسبیح و سجّادہ و دلق نیست

(طریقت، خدمتِ خلق کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے کہ یہ تسبیح اور سجادہ (مُصلٰی) اور گُدڑی میں نہیں ہے)

ایک واقعہ جو کہ (معجم طبرانی) میں موجود ہے ہمارے لیئے مشعل راہ سماعت کیجئے گا کہ حضرت میمونہ بنت حارث ؓ فرماتی ہیں کہ ایک سال قحط پڑا تو دیہاتی لوگ مدنہ منورہ آنے لگے،حضور ﷺ کے حکم کے مطابق ہر صحابی ان میں سے ایک آدمی کو اپنے ساتھ لے جاتے اور اپنا مہمان بنا کر اپنے ساتھ کھانا کھلاتے،ایک رات ایک دیہاتی کو حضورﷺ اپنے ساتھ لے کر آئے ، خود حضور ﷺ کے پاس تھوڑا سا کھانا اور دودھ تھاہ دیہاتی سب کچھ کھا پی گیا،اور حضور  ﷺ کے لئے کچھ نہ چھوڑا ،حضور ﷺ ایک یا دو راتیں اور اس کو اپنے ساتھ لاتے رہے اور ہر روز یہی واقعہ ہوا کہ اس نے سب کچھ ہضم کرلیا اور حضور ﷺ کے لئے کچھ نہ بچا ،یہ دیکھ کر میں نے کہا : اے اللہ اسے برکت نہ دے، کیونکہ یہ حضور  ﷺ کا سارا کھانا کھا جاتا ہے اور حضور ﷺ کے لئے کچھ نہیں چھوڑتا ، پھر وہ مسلمان ہوگیا اور اسے پھرحضور ﷺ اپنے ساتھ لے کر آئے اس رات اس نے تھوڑا سا کھانا کھایا،میں حضور ﷺسے عرض کیا کہ کیا یہ وہی شخص ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا (ہاں یہ وہی شخص ہے؟ لیکن پہلے کافر تھا اور اب مسلمان ہوگیا ہے )اور کافرسات آنتوں میں کھاتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے۔اللہ اکبر۔

خانقاہ نظامیہ گلزارِ سعیدیہ کے سجادہ نشین حضور خواجہ شفیق الملت محترم شفیق احمد فاروقی نظامی  ؒ (مدفن بقیع) فرمایا کرتے کہ لوگو تم اگر 3 روٹیاں کھاتے ہوتو اُس میں ڈھائی کھایا کرو کیوں کہ اگر اللہ کا نور اپنے اندر دیکھنا چاہتے ہوتو کم کھانے سے ایمان کے نور میں اضافہ ہوتا ہے اور نفس کشی بھی میسر آتی ہے۔اور ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کے سنت پر عمل کرنے سعادت میسر آتی ہے۔

  اس گفتگو سے جان کائنات ﷺ  اور آپﷺ کے رفقاء کے ایثار وقربانی ،اور غرباء پروری کی حقیقت آشکارا ہوتی ہے ،اور ان واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ محض ایثار کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ خود کو بھوکا رکھ کر بھوکوں کو شکم سیرکرکے( چاہے وہ بھوکے کافر ہی کیوں نہ ہوں) ایثار کی عملی شکل بھی پیش کی ہے ،۔اللہ کریم اپنے محبوب جان کائناتﷺ کے وسیلہ و طفیل ہم سب کو عمل کی سعادتوں سے بہرہ مند فرمائے۔آمین

 بحرمت طٰہٰ ویٰسٓﷺ