حدیث نمبر13
(يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الْخَصَاصَةِ)
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الْخَصَاصَةِ وَهُمْ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ، حَتَّى يَقُولَ الْأَعْرَابُ: هَؤُلَاءِ مَجَانِينُ أَوْ مَجَانُونَ، فَإِذَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ لَأَحْبَبْتُمْ أَنْ تَزْدَادُوا فَاقَةً وَحَاجَةً، قَالَ فَضَالَةُ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
(حدیث نمبر: 2368)
فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو صف میں کھڑے بہت سے لوگ بھوک کی شدت کی وجہ سے گرپڑتے تھے، یہ لوگ اصحاب صفہ تھے، یہاں تک کہ اعراب (دیہاتی لوگ) کہتے کہ یہ سب پاگل اور مجنون ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو ان کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے: اگر تم لوگوں کو اللہ کے نزدیک اپنا مرتبہ معلوم ہوجائے تو تم اس سے کہیں زیادہ فقر و فاقہ اور حاجت کو پسند کرتے ۔فضالہ ؓ کہتے ہیں: میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
مَجَانِينُ پاگل - انْصَرَفَ چلے جانا - تَعْلَمُونَ تمہیں معلوم ہے
الْخَصَاصَةِ رازداری -
فضالہ بن عبید انصارؓ
فضالہ بن عبید انصار کے بہت بلند مرتبہ صحابی تھے۔والدہ کا نام عقبہ بنت محمد بن عقبہ بن الجلاج انصاریہ ہے۔عبید بن نافذ ( فضالہ کے والد) اپنے قبیلہ کے سر برآوردہ شخص تھے اوس و خزرج کی لڑائی میں نمایاں رہے،نہایت شجاع و بہادر تھے، گھوڑ دوڑ کراتے اوراس میں سب سے بازی لیجاتے،زور وقوت کا یہ حالت تھا کہ ایک پتھر دوسرے پر دے مارتے تو آگ نکلنے لگتی، سپہ گری کے ساتھ فن میں اور شاعری کا بھی کافی ذوق رکھتے تھے۔فضالہ مدینہ میں اسلام کے قدم آتے ہی مسلمان ہو گئے تھے۔لیکن کسی وجہ سے بدر میں شریک نہ ہوئے ،غزوۂ احد اور باقی تمام غزوات میں حضورﷺ کے ہمرکاب رہے اور بیعت الرضوان میں بھی شرکت کا شرف حاصل کیا۔
ایوانِ حکومت کے ساتھ مجلس علم میں بھی مرجع انام تھے،لوگ دور دراز سے حدیث سننے آتے تھے،ایک شخص اسی غرض سے ان کے پاس مصر پہنچا تھا۔ایک شخص مصر سے آیا اورحدیث سننے کے لیے ملاقات کی تو دیکھا کہ پراگندہ سر اوربرہنہ پا ہیں ،بڑا تعجب ہوا اور بولا کہ امیر شہر ہوکر یہ حالت؟ فرمایا ہم کو حضورﷺ نے زیادہ تن آسانی اوربناؤ سنگار کی ممانعت کی ہے اور کبھی کبھی ننگے پیر رہنے کو بھی فرمایا ہے۔وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے شرف صحبت سے مشرف اورحضرت عمرؓ اورحضرت ابودرداءؓ جیسے اساطین امت سے مستفیض ہوا ہو، اس کے فضل وکمال کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے، دار السلطنت دمشق کی مسند قضا کے لیے اور پھر حضرت ابودرداء جیسے بزرگ کی رائے سے منتخب ہونا، ان کی قابلیت کی سب سے بڑی سند ہے ،لیکن بایں ہمہ فضل وکمال صرف 50 حدیثیں ان کے سلسلہ سے ثابت ہیں ۔
وضاحت: اس حدیث ِ مبارکہ میں ــ’’ اصحابِ صُفّہ‘‘ اور فقر وفاقہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ اسی لیئے صوفیائے کرام کو اصحاب ِ صفہ کی اتباع کرنے کی وجہ سے ’’صوفی‘‘ کہا جاتا ہے اور اھل اللہ اختیاری طور پر فقر وفاقہ میں ہی خوش رہتے ہیں۔یہاں ایک بات عرض کرتا چلوں کہ حضور امین الاولیاء پیر و مرشد نے ایک مجلس میں صوفی کی ابتداء لفظ صوفہ سے ہوئی جو کہ ایک عبد الرحمن نامی بچے کو دیکھ کو اُن کی والدہ نے صوفہ فرمایا تھا کہ کیوں کہ وہ کعبہ معظمہ میں حالت ِ اعتکاف میں رہتے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصحاب صفہ کس قدر تنگی اور فقر و فاقہ کی حالت میں تھے، پھر بھی ان کی خودداری کا یہ عالم تھا کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے صبر و قناعت کی زندگی گزارتے تھے، یہ بھی معلوم ہوا کہ دینی علوم کے سیکھنے کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کرنا چاہیئے جہاں تعلیمی و تربیتی معیار اچھا ہو چاہے کھانے پینے کی سہولتوں کی کمی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اصحاب صفہ کی زندگی سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔کچھ مثالیں پیش کرتاہوں ، دل وروح کے کانوں سے سماعت کیجئے گا۔حضور امین الاولیاء پیر ومرشد نے ایک مقام پر عرض فرمائیں تھیں۔
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے گھر کئی وقت کا فاقہ تھا، وہ گھر سے نکل کر حضور اکرمﷺ کے پاس آئے،حضورﷺ کا بھی یہی حال تھا کہ آپ ﷺخود بھی کئی دنوں کے فاقے سے تھے۔ لیکن حضورﷺ نے پہچان لیا کہ عمرؓ اس وقت فاقے (۱) رواہ احمد. مشکاۃ المصابیح‘کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق‘ باب الحساب والقصاص والمیزان. اور بھوک کی حالت میں ہیں اورمیرے پاس اس لیے آئے ہیں کہ شاید یہاں کھانے کے لیے کچھ ہو، تھوڑی دیر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور ان کا بھی یہی حال تھا، نبی مکرمﷺ شایداپنے لیے تو کچھ نہ کرتے،لیکن آپﷺ اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لے کر ایک انصاری صحابی ابوالہیثم بن تیھان رضی اللہ عنہ کے باغ میں پہنچے۔ ان کی تو گویا عید ہو گئی کہ حضورﷺ آ گئے اور ابوبکر وعمر( رضی اللہ عنہما) بھی۔ وہ دوڑ کر کچھ کھجوریں لے آئے جسے عربی میں ’’نُزُل‘‘ کہتے ہیں ‘یعنی مہمان جیسے ہی آئے توابتدائی مہمان نوازی کے طور پر فوری طور پر کچھ پیش کرنا۔جیسے ہم مہمان کے آتے ہی اس سے پوچھتے ہیں کہ ٹھنڈاچلے گا یا گرم ؟اورپھر فوری طو رپر وہ پیش کردیتے ہیں اس کے بعد انصاری صحابیؓ نے چھری اُٹھائی تاکہ کسی جانور کو ذبح کریں اور گوشت پکائیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کسی دودھ والے جانور کو ذبح نہ کرنا۔ انہوں نے ایک جانور ذبح کیا اور اس کا گوشت بھون کر حضورﷺ اور ان دو اصحاب کے سامنے رکھا توانہوں نے وہ تناول فرمایا۔اس کے بعد رسول اللہﷺ نے ایک روٹی کے اوپر کچھ بوٹیاں رکھ کر کہا: جاؤ عائشہؓ کو دے آؤ،اسے بھی کئی وقت کا فاقہ ہے۔ اس موقع پر رسول اللہﷺ نے فرمایا:
ھٰذَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مِنَ النَّعِیْمِ الَّذِیْ تُسْاَلُوْنَ عَنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (سنن الترمذی)
’’قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، یاد رکھو کہ یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم سے قیامت کے دن پوچھاجائے گا‘‘۔
اب جو بندہ فقر و افلاس پر صبر کرتا ہے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر قانع اور راضی رہتا ہے وہ امتحانِ صبر میں کامیاب اور جنت کی نعمتوں کا مستحق ٹھہرتا ہے، حدیث نبوی ﷺمیں اسی کی صراحت ہے جوکہ الاربعین فی التصوف میں کل کے سبق نمبر 9سے ہم نے سیکھی تھی کہ
﴿یدخل فقراء المسلمین الجنة قبل الأغنیاء بنصف یوم وہو خمس مأة عام﴾ (ترمذی)
فقراء مسلمین مالداروں سے آدھا دن یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے، مزید فرمایا ﴿اطّلعت فی الجنة فرأیت أکثر اہلہا الفقراء﴾ (بخاری ومسلم)
میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو میں نے اہل جنت میں زیادہ تعداد فقراء کی پائی۔
ایک حدیث میں آیا ہے ﴿ان حوضی ما بین عدن الی عمان أکوابہ عدد النجوم ماوٴہ أشد بیاضاً من الثلج وأحلیٰ من العسل، واکثر الناس ورودًا علیہ فقراء المہاجرین﴾ میرا حوض کوثر عدن سے لے کر عمان تک (کی مسافت کے بقدر لمباچوڑا) ہوگا، اس کے پیالے ستاروں کی طرح (بیشمار) ہوں گے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شریں ہوگا، اور اس سے سب سے زیادہ سیراب و متمتع ہونے والے فقراء مہاجرین ہوں گے، صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﴿صِفْہم لنا﴾ ان فقراء کے اوصاف ہم سے بیان کیجئے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿شعث الروٴوس، دُنس الثیاب، الذین لاینکحون المنعمات، ولا تُفتح لہم السُدد، الذین یعطون ما علیہم، ولا یعطون مالہم﴾ وہ پراگندہ بال، معمولی گندے لباس والے ہیں جو مالدار اور ناز و نعم میں پروردہ خواتین سے نکاح نہیں کرتے، اور جن کے لئے (فقر کی وجہ سے) دروازے نہیں کھولے جاتے، جو اپنے اوپر واجب حق ادا کرتے ہیں مگر ان کا حق انہیں نہیں دیا جاتا۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
مزید فرمایاگیا ﴿ان فقراء المسلمین یُزفون کما یزف الحمام، فیقال لہم: قِفوا للحساب، فیقولون: واللہ ما ترکنا شیئًا نحاسب بہ، فیقول اللّٰہ عز وجل: صدق عبادی، فیدخلون الجنة قبل الناس بسبعین عامًا﴾ (طبرانی)
فقراء مسلمین اس طرح تیز رفتاری سے آئیں گے جیسے کبوتر پر پھیلائے تیزی سے آتا ہے، ان سے کہا جائے گا: حساب کے لئے ٹھہرو، وہ کہیں گے بخدا ہم نے تو کچھ نہیں چھوڑا جس کاحساب دیں، اللہ فرمائے گا: میرے بندوں نے سچ کہا، چنانچہ وہ اور لوگوں سے ستر سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
ارشاد نبوی ﷺہے ﴿من قلّ مالہ، وکثر عیالہ، وحسنت صلاتہ، ولم یغتب المسلمین، جاء یوم القیامة وہو معی کہاتین﴾ (مسند ابویعلی) جس کا مال کم ہو، بچے زیادہ ہوں، نماز اچھی ہو اور وہ مسلمانوں کی غیبت نہ کرے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ وہ میرے ساتھ ہوگا (میرے قریب ہوگا)۔
فقرو احتیاج کے موقعے پر صبر کی روش اپنانا بہت مشکل کام ہے،مولانائے رومؒ کا مشہور شعر ہے:
؎ آنچہ شیراں ر ا کند ر و بہ مز ا ج احتیاج است احتیاج است احتیاج
حاجت مندی شیروں کو لومڑی بنا دیتی ہے۔
جو چیز شیر (جیسے بہادر) کو گیدڑ (جیسا بزدل) بنادیتی ہے وہ فقرواحتیاج ہے، اس لئے فقر کی حالت میں جو بندہ صبر و ثبات کی راہ پر گامزن رہتا ہے وہی کامیاب و بامراد ہوتا ہے، انبیاء واولیاء، صدیقین و شہداء وصالحین سب کو اس امتحانِ فقر سے گذرنا پڑا، اور سب صابرانہ کامیاب گذرے۔اہل اسلام کے لئے سب سے بڑا نمونہ اور مشعل راہ سید الاولین والآخرین محمد عربی ﷺکی زندگی ہے، فقر وفاقہ کی آزمائش پر صبر آپﷺ کا امتیاز تھا، آپ ﷺنے آخری لمحہٴ زندگی تک فقر کا سامنا کیا، آپ ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ لگاتار دو ماہ گذر جاتے تھے اور آپ کے گھر میں چولھا گرم نہیں ہوتا تھا اور کھجور و پانی پر گذارہ ہوتا تھا۔ (بخاری ومسلم)
حضورﷺفرمارہے ہیں: ”آج کی رات اس شخص کی میزبانی کون کرے گا؟“ ابوطلحہ انصاریؓ اُٹھ کر عرض کرتے ہیں: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا گھر حاضر ہے“ پھر اس شخص کو ساتھ لے کر گھر آتے ہیں بیوی اُمّ سلیم سے پوچھتے ہیں ”کھانے کو کچھ ہے؟ رسول اللہﷺ کے ایک مہمان ساتھ آئے ہیں“ نیک بخت کہتی ہیں ”میرے پاس تو بچوں کے کھانے کے سوا کچھ بھی نہیں“ ابو طلحہؓ کہتے ہیں ”بچوں کو سلادو اور کھانا دسترخوان پر چن کر چراغ گل کردو ہم مہمان کے ساتھ بیٹھے یونہی دکھاوے کو منھ چلاتے رہیں گے اور وہ پیٹ بھرکر کھالے گا۔“ام سلیم ؓایسا ہی کرتی ہیں، اندھیرے میں مہمان یہی سمجھتا ہے کہ میزبان بھی اس کے ساتھ کھانا کھارہے ہیں، مہمان کو کھانا کھلاکر سارا گھر فاقے سے پڑا رہتا ہے، صبح ہوتی ہے توابوطلحہ ؓرسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، حضورﷺ اُنہیں دیکھ کر تبسم فرماتے ہیں اور کہتے ہیں تم دونوں میاں بیوی رات مہمان کے ساتھ جس سلوک سے پیش آئے، اللہ تعالیٰ اس سے بہت خوش ہوا ہے، پھر حضورﷺآیت تلاوت فرماتے ہیں جواس موقع پر نازل ہوئی ﴿ویوٴثرون علی أنفسہم ولو کان بہم خصاصة﴾ اور وہ اپنی ذات پر دوسروں کوترجیح دیتے ہیں، خواہ خود محتاج کیوں نہ ہوں (الحشر:۹) اس طرح ابوطلحہ ؓاور ان کے گھر والوں کے ایثار کی داستان رہتی دنیا تک کلام الٰہی میں ثبت ہوجاتی ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرمﷺ کی زندگی حد سے زیادہ زاہدانہ اور فقیرانہ زندگی تھی۔(سیر الصحابہ)
حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنے زمانہٴ خلافت میں جمعہ کی نماز میں کچھ تاخیر سے آئے، حاضرین کو اس سے ناگواری ہوئی، آپ نے فرمایا کہ میرے پاس بس ایک قمیص ہے، اسے دُھل دیا تھا، اس کے سوکھنے میں دیر ہوگئی۔
حضرت سفیان ثوری ایک بار حضرت رابعہ عدویہ سے ملاقات کے لئے گئے، حضرت رابعہ بدحالی اور فقر کا شکار تھیں، حضرت سفیان نے انہیں اپنے کسی مالدار پڑوسی سے مدد طلبی کے لئے کہا، اس پر حضرت رابعہ نے جواب دیا ﴿یا سفیان وما تریٰ من سوء حالی؟﴾ اے سفیان! تم میری بدحالی کیا دیکھتے ہو؟ ﴿ألست علی الاسلام﴾ کیا تم اسلام پر یقین نہیں رکھتے؟ ﴿فہو العز الذی لا ذلّ معہ، والغنیٰ الذی لا فقر معہ، والأنس الذی لاوحشة معہ﴾ اسلام سراپا عزت ہے، اس کے ساتھ ذلت نہیں، وہ غنی ہے جس کے ساتھ فقر نہیں، وہ انس ہے جس کے ساتھ وحشت نہیں، ﴿واللّٰہ انی لأستحی أن اسأل الدنیا من یملکہا فکیف أسألہا من لا یملکہا؟﴾ بخدا میں تو اس اللہ سے دنیامانگنے سے شرماتی ہوں جو دنیا کا مالک ہے، تو میں کیسے اس سے دنیا مانگ سکتی ہوں جو دنیا کا مالک نہیں ہے، یہ سن کر حضرت سفیان ثوری ؒ بول اُٹھے کہ ﴿ما سمعت مثل ہذا الکلام﴾ میں نے اس جیسا (عمدہ و موٴثر) کلام نہیں سنا۔
امام دارالہجرة امام مالک بن انسؒ کو طلب علم کی راہ میں اپنے گھر کی شہتیریں تک فروخت کرنی پڑیں، اتنی مشقتوں کے بعد ان کو علم ملا، پھر جب وہ مسند مشیخت حدیث پر متمکن ہوئے تو دنیا ان پر ٹوٹ پڑی، وہ فرمایا کرتے تھے ﴿لاینال ہذا الأمر حتی یذاق فیہ طعم الفقر﴾ دین کا علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے ساتھ فقر کاذائقہ نہ چکھا جائے۔
کیمیائے سعادت میں امام غزالی ؒجانِ کائناتﷺ کے متعدد اقوال نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں؛ محمد الرسول اللہ ﷺنے فرمایا:"بھوک اور پیاس سے جہاد کرو کہ اس کا ثواب کافروں کے ساتھ جہاد کی مانند ہے"۔
آپﷺ سے لوگوں نے پوچھا زیادہ فضیلت والا کون ہے تو فرمایا:تھوڑا کھانے والا، تھوڑا ہنسنے والا"، اور فرمایا؛ "بھوک سب کاموں کی سردار ہے۔
آپ ﷺنے فرمایا: "پرانا کپڑا استعمال کرو اور آدھے پیٹ کی مقدار کھاو پیو کہ یہ فعل نبوت کا جزو ہے"۔
آپ ﷺنے ارشاد فرمایا؛ "اللہ کی مخلوق میں تفکر نصف عبادت ہے اور کم کھانا پوری عبادت ہے"۔
اور فرمایا وہ شخص اللہ کا بڑا دشمن ہے جو بہت کھائے پیئے اور بہت سوئے"۔
اور فرمایا: "مومن تو ایک انتڑی میں کھاتا ہے اور منافق سات میں"۔
حضرت ابو سلیمان دارانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "رات کے کھانے میں ایک لقمہ کم کھانا اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ رات بھر نفل پڑھی جائے"۔
کُل چار جوڑے یہ بات بڑی مشہور ہے حضرت خواجہ بابا فرید الدین مسعود الدین گنج شکر ؒکے حوالے سے کہ آپؒ ہمیشہ سادہ اور عام لباس زیب تن فرماتے اور وہ بھی اکثر پھٹا ہوتا۔ ہانسی ضلع حصار میں مولانا نورترک کا وعظ سننے پہنچے تو اس وقت بھی آپ کے کپڑے بہت پرانے اور پھٹے ہوئے تھے‘ حضرت سید محمد حسینی گیسودراز ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے پاس کُل چار جوڑے تھے، ایک پہنے رہتے اور دوسرا دھلانے والے کے پاس رہتا، تیسرا مستحقین کی تقسیم کیلئے موجود رہتا جسے آپؒ وقت بے وقت اور خاص مشغولی میں استعمال فرماتے۔
یہاں پر طاعت کے بارے میں عرض کرتا چلوں وہ یہ کہ محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاءؒ نے ایک گفتگو کے دوران میں اطاعت کی دو قسمیں بیان فرمائیں۔ اطاعت لازمی اور اطاعت متعدی۔
اطاعت لازمی وہ ہے جس کا فائدہ صرف اطاعت کرنے والے کے نفس کو پہنچے مثلاً نماز، روزہ، حج اور تسبیحات اور اس قسم کی چیزیں۔
اطاعت متعدی یہ ہے کہ جس کی راحت اور منفعت دوسروں کو پہنچے یعنی انسان ، محبت اور شفقت کے ساتھ جہاں تک اس کے بس میں ہو، دوسروں کی خدمت کرے۔ اس کو اطاعت متعدیہ کہتے ہیں اور اس کا ثواب حد اور اندازہ سے زیادہ ہے۔ اطاعت لازمی کے لئے خلوصِ نیت ضروری ہے لیکن اطاعت متعدیہ جس طرح بھی ہو باعث ثواب ہے۔" اُمید کرتا ہوں آپ ایثار کو سمجھ رہے ہوں گےکہ حدیث پر عمل ہمیں ہمارے اسلاف کی زندگیوں میں عملی تفسیر بن کر ہمیں جھنجوڑ رہا ہے کہ دیکھو اللہ کی قرب چاہتے ہوتو فقر ، ایثار،خدمت خلق کے جذبے کی آگ اپنے اندر پیدا کرو، جب آگ اندر جلے گی تو روشنی پورے وجود میں پھیلے گی اور پھر جب وجود سے باہر آئے گی تو عالم کو منور کرے گی۔
شیخ سعدی نے بڑے سادہ الفاظ میں یہ بہت بڑی حقیقت بیان کر دی تھی:
؎ طریقت بجُز خدمتِ خلق نیست بہ تسبیح و سجّادہ و دلق نیست
(طریقت، خدمتِ خلق کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے کہ یہ تسبیح اور سجادہ (مُصلٰی) اور گُدڑی میں نہیں ہے)
ایک واقعہ جو کہ (معجم طبرانی) میں موجود ہے ہمارے لیئے مشعل راہ سماعت کیجئے گا کہ حضرت میمونہ بنت حارث ؓ فرماتی ہیں کہ ایک سال قحط پڑا تو دیہاتی لوگ مدنہ منورہ آنے لگے،حضور ﷺ کے حکم کے مطابق ہر صحابی ان میں سے ایک آدمی کو اپنے ساتھ لے جاتے اور اپنا مہمان بنا کر اپنے ساتھ کھانا کھلاتے،ایک رات ایک دیہاتی کو حضورﷺ اپنے ساتھ لے کر آئے ، خود حضور ﷺ کے پاس تھوڑا سا کھانا اور دودھ تھاہ دیہاتی سب کچھ کھا پی گیا،اور حضور ﷺ کے لئے کچھ نہ چھوڑا ،حضور ﷺ ایک یا دو راتیں اور اس کو اپنے ساتھ لاتے رہے اور ہر روز یہی واقعہ ہوا کہ اس نے سب کچھ ہضم کرلیا اور حضور ﷺ کے لئے کچھ نہ بچا ،یہ دیکھ کر میں نے کہا : اے اللہ اسے برکت نہ دے، کیونکہ یہ حضور ﷺ کا سارا کھانا کھا جاتا ہے اور حضور ﷺ کے لئے کچھ نہیں چھوڑتا ، پھر وہ مسلمان ہوگیا اور اسے پھرحضور ﷺ اپنے ساتھ لے کر آئے اس رات اس نے تھوڑا سا کھانا کھایا،میں حضور ﷺسے عرض کیا کہ کیا یہ وہی شخص ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا (ہاں یہ وہی شخص ہے؟ لیکن پہلے کافر تھا اور اب مسلمان ہوگیا ہے )اور کافرسات آنتوں میں کھاتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے۔اللہ اکبر۔
خانقاہ نظامیہ گلزارِ سعیدیہ کے سجادہ نشین حضور خواجہ شفیق الملت محترم شفیق احمد فاروقی نظامی ؒ (مدفن بقیع) فرمایا کرتے کہ لوگو تم اگر 3 روٹیاں کھاتے ہوتو اُس میں ڈھائی کھایا کرو کیوں کہ اگر اللہ کا نور اپنے اندر دیکھنا چاہتے ہوتو کم کھانے سے ایمان کے نور میں اضافہ ہوتا ہے اور نفس کشی بھی میسر آتی ہے۔اور ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کے سنت پر عمل کرنے سعادت میسر آتی ہے۔
اس گفتگو سے جان کائنات ﷺ اور آپﷺ کے رفقاء کے ایثار وقربانی ،اور غرباء پروری کی حقیقت آشکارا ہوتی ہے ،اور ان واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ محض ایثار کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ خود کو بھوکا رکھ کر بھوکوں کو شکم سیرکرکے( چاہے وہ بھوکے کافر ہی کیوں نہ ہوں) ایثار کی عملی شکل بھی پیش کی ہے ،۔اللہ کریم اپنے محبوب جان کائناتﷺ کے وسیلہ و طفیل ہم سب کو عمل کی سعادتوں سے بہرہ مند فرمائے۔آمین
بحرمت طٰہٰ ویٰسٓﷺ
سلام علیکم طبتم
تمامی یارانِ طریقت کی خدمت میں سلام پیش ہے ۔ ان شاءاللہ آج حدیث نمبر 13 کا سبق شروع کریں گے۔
اُمید آپ سب اس سے مستفیض ہونگے۔
آپ سب کی خدمت میں عرض پرداز ہوں کہ آن لائن بلاگ کی مدد یقیناً آپ سب کے معاون ثابت ہورہی ہوگی۔ کوئی بھی سوال آُپ مجھکو واٹس ایپ کر براہ راست کرسکتے ہیں۔
نوٹس بنائیں سنےسمجھیں اور کم از کم 6 نقاط آپ لکھ کر بھیجیں۔ زیادہ خوشی ہوگی۔ عنقریب فیڈ بیک کے لیئے ایک آن لائن پیپر بھی لیا جائے گا۔ ان شاءاللہ۔
دعاگو
قدمبوس نظامی
خواجہ طہ عامر نظامی











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔