حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَابِدُ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا، يَا عَائِشَةُ لَا تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمَسَاكِينَ وَقَرِّبِيهِمْ فَإِنَّ اللَّهَ يُقَرِّبُكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
حضرت انس ؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے دعا مانگی
اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
اے اللہ! مجھے مسکین زندہ رکھ اور مسکینی میں موت دینا اور قیامت کے روز مسکینوں میں اُٹھانا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی کیوں؟ یارسول اللہ ﷺ ! آپﷺ نے فرمایا مساکین امراء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اے عائشہ! مساکین کے سوال کو کبھی رَد نہ کرنا اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو اور انہیں اپنے قریب رکھنا۔بیشک اللہ تعالیٰ تم کو روز قیامت اپنے سے قریب کرے گا ۔(جامع الترمذی)
أَغْنِيَائِهِمْ امیر ہونا - تَرُدِّي واپس کرنا - تبِشِقِّ ٹکڑا
تَمْرَةٍ کھجور -
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ
انس نام، ابوحمزہ کنیت، خادم رسول اللہ لقب، قبیلہ نجار سے ہیں، جو انصار مدینہ کا معزز ترین خاندان تھا،والدہ ماجدہ کا نام ام سلیم سہلہ بنت لمحان انصاریہ ہے جن کا سلسلۂ نسب تین واسطوں سے انس بن مالک کے آبائی سلسلہ میں مل جاتا ہے اور رشتہ میں وہ حضورﷺ کی خالہ ہوتی تھیں۔حضرت انسؓ کا سن 8یا9 سال کا تھا کہ مدینہ میں اسلام کی صدا بلند ہوئی،بنو نجار نے قبول اسلام میں جو پیش دستی کی تھی اس کا اَثر یہ تھا کہ اس قبیلہ کے اکثر افراد حضورﷺ کے مدینہ تشریف لانے سے قبل توحید ورسالت کے علمبردار ہوچکے تھے، حضرت انسؓ کی والدہ (ام سُلیمؓ) نے بھی عقبہ ثانیہ سے پیشتر دین اسلام اختیار کرلیا تھا ۔ ان کے والد بت پرست تھے وہ بیوی کے اسلام پر برہم ہوکر شام چلے گئے تھے اور وہیں اُن کا انتقال ہو۔ادھر اُم سلیم ؓنے ابو طلحہ سے اس شرط پرنکاح کرلیا کہ وہ بھی مذہب اسلام قبول کریں،چنانچہ وہ مسلمان ہوچکے تھے اورعقبہ ثانیہ میں حضورﷺ کے دست حق پر ست پر مکہ جاکر بیعت کی تھی،اس طرح حضرت انسؓ کا پورا گھر نورِایمان سے منور تھا ،ان کی جنتی ماں (اُم سلیمؓ) شمع اسلام کی پروانہ تھیں اوران کے محترم باپ حضرت ابوطلحہؓ دین حنیف کے ایک پرجوش فدائی تھے بیٹے نے انہیں والدین کی آغوش ِمحبت میں تربیت پائی اورمسلمان ہوئے۔حضورﷺ نے مدینہ میں اَقامت فرمائی تو حضرت ابوطلحہؓ حضرت انسؓ کو لے کر خدمت اقدس ﷺمیں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ انسؓ کو اپنی غلامی میں لے لیجئے، حضورﷺ نے منظور فرمایا اور حضرت انسؓ خادمان خاص کے زمرہ میں داخل ہوگئےیعنی خانہ زادِ رسولﷺ۔(خادم ِ خاص)
بیعت عقبہ ثانیہ یہ بیعت13 نبوی میں ہوئی جس میں 73 مردوں اور دو عورتوں نے بیعت کی۔13 نبوی میں حج کے موقعے پر مدینہ منورہ کے 75 آدمیوں نے منیٰ کی اسی گھاٹی عقبہ کے مقام پراپنے بت پرست ساتھیوں سے چھپ کرحضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اسے بیعت عقبہ ثانیہ کہتے ہیں۔
وضاحت
اس حدیث میں تواضع کے اپنانے اور کبر و نخوت سے دور رہنے کی ترغیب ہے، ساتھ ہی فقراء مساکین سے محبت اور ان سے قربت اختیار کرنے کی تعلیم ہے۔اسی طرح صوفیاء مساکین کی طرح مال بھی جمع نہیں کرتے جیسا کہ حدیث میں ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دوسرے دن کے لیے کچھ جمع نہ کرتے تھے، اس حدیث مبارکہ میں ہر قسم کے دنیاوی مال و متاع کے جمع نہ کرنے کا تذکرہ ہے کیونکہ ہر دنیاوی شے فانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام بھی کوئی بھی شے جمع کرنا پسند نہیں کرتے بلکہ اکثر صوفیاء تو شام کے وقت اپنے گھروں میں جھاڑو پھرواکر جو کچھ ہوتا وہ بھی خیرات کردیا کرتے تھے۔
تواضع کیا ہے؟ دل میں کشادگی رکھنا، عجز و انکسار کو اپنانا، بندگان خدا سے محبت کرنا، اُن کی مدد اور اُن کے ساتھ حسن سلوک کرنا، وغیرہ۔ یہ لفظ کئی قیمتی صفات کو جامع ہے ، اللہ تواضع کرنے والوں کو رفعت عطا کرتا ہے۔تواضع ایک ایسی صفت حمیدہ اور صالحانہ خصلت ہے جو صاحب تواضع کی نیک طبیعت کی عکاس ہوا کرتی ہےاور ایسا وصف ہے جس کے ذریعہ مؤدت و اخوت،الفت و محبت اور عدل و مساوات کے پیغام کو عام کیا جا سکتا ہے،یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو تواضع اپنانے اور اسے اپنی زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ بنانے کی تلقین کی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا۔(فرقان ،آیت63،پارہ 19)
(اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام )
اسی طرح رب ذوالجلال نے اپنے بندے کو تواضع سے لیس ہونے کی رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ۔(شعراء ،آیت215،پارہ19)
(اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ اپنے پیرو مسلمانوں کے لیے)
وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۔ (الحجر: ۸۸)اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو۔
ہمارا یہ ہے کہ ہم اعلیٰ مقام و مرتبہ پر ہونے کی وجہ سے کسی قسم کی عاجزی و انکساری نہیں کریں گے، یہ عمل اور یہ رویہ اور یہ خلق ہماری عزت کو خاک میں ملائے گا، عاجزی ہمیں رسوائی دے گی۔ انکساری ہمیں خواری کی کیفیت سے دوچار کرے گی۔ اس لیے ہم اپنے اسٹیٹس کو قائم رکھنے میں کبرو غرور کا اظہار کریں گے تاکہ ہماری حیثیت اور فضیلت میں کمی نہ آئے۔ تواضع و انکساری کا عمل انسان کے درجے اور مقام اور اسٹیٹس کو کم نہیں کرتا بلکہ تواضع و انکساری کی وجہ سے انسان کا درجہ و فضیلت کو اللہ رب العزت نہ صرف اپنے حضور بڑھاتا ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت و تکریم میں مزید اضافہ کردیتا ہے اسے عاجزی و انکساری کی بنا پر وہ رفعت، وہ فضیلت اور وہ بلندی عطا کرتا ہے جس کا وہ پہلے کبھی تصور بھی نہیں کرسکتا۔
رسول اللہ کا خلق تواضع کو اپنانا،رسول اللہﷺ کو باری تعالیٰ نے جلیل المنصب بنایا۔ آپﷺ کو اختیار دیا گیا کہ آپ ﷺ نبی بادشاہ ہونا پسند کرتے ہیں یا نبی بندہ ہونا، تو آپ ﷺ نے نبی بندہ ہونا پسند کیا۔(السنن الكبرى:۷/۴۸)
رسول اللہ ﷺکی اسی تواضع و انکساری کی بنا پر باری تعالیٰ قیامت کے دن اولادِ آدم کی سرداری آپﷺ کو عطا فرمائے گا اور آپ ﷺہی قیامت کے دن وہ پہلےفرد ہوں گے جو اللہ کے حضور لوگوں کے لیے شفاعت کریں گے۔
حضرت ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں:قال خرج علينا رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم متوکئا علی عصا فقمنا له فقال لا تقوموا کما تقوم الا عاجم یعظم بعضهم بعضا وقال انما انا عبدا اکل کما ياکل العبد واجلس کما يجلس العبد.(سنن ابی داؤد: ۵/۳۹۸۔سنن ابن ماجہ: ۲/۱۶۶۱) رسول اللہ ﷺ عصا مبارک کا سہارا لیے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم سب آپ کے لیے کھڑے ہوگئے۔ آپﷺ نے فرمایا عجمیوں کی طرح نہ کھڑے ہوا کرو اس لیے وہ یونہی ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہیں۔ اس منع کرنے کی وجہ یہ بیان کی میں تو ایک بندہ ہوں میں اسی طرح کھاتا ہوں جیسے کوئی عام آدمی کھاتا ہے اور اسی طرح بیٹھتا ہوں جیسے کوئی عام آدمی بیٹھتا ہے۔
آپ ﷺنے اس حدیث مبارکہ میں اپنی ذات کے لیے کھڑے اور قیام کرنے کے عمل سے اپنی صفت تواضع اور اپنے خلق عاجزی و انکساری کی بنا پر منع کردیا جبکہ آپﷺ نے اپنے اسی عمل کو دوسرے افراد کے لیے اختیار کرنے کا حکم دیا۔یہاں مجھ ایک بات یاد آئی کہ پیر و مرشد حضور امین الاولیاء خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی فرماتے ہیں کہ جب آپﷺ کی خدمت میں حضرت سعد ؓآتے ہیں تو آپ ﷺ اپنی مجلس میں موجود تمام صحابہ کرام کو حکم دیتے ہیں:قوموا لسيدکم.سب کھڑے ہوکر اپنے سردار کا استقبال اور احترام بجا لاؤ۔
اب دونوں احادیث مبارکہ سے اُمت کو یہ تعلیم ملتی ہےکہ کوئی بھی داعی ہو، مربی ہو، معلم و قائد ہو، راہنما و رہبر ہو اس کی ذاتی خواہش نہ ہو کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں، اس کا احترام بجا لائیں، ہاں اگر وہ از خود کھڑے ہوکر اس کا استقبال کریں اور اس کا احترام کریں اور اس کی عزت افزائی کریں تو یہ دونوں عمل احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں۔لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ کوئی صاحب مقام یا صاحب نسبت ہو تو وہ اپنی تعظیم کو اپنے چاہنے والے پر واجب خیال کرے جیسا کہ ہمارے دور کے اکثر اہل نسبت کا حال ہے کہ وہ اپنے چاہنے والے کی جیب پر تو اپنا واجبی حق سمجھتے ہی ہیں ،اپنی تعظیم و تکریم کو بھی دوسروں پر واجب خیال کرتے ہیں ،ہمارے دور کے اکثراہل نسبت حضرات دست بوسی اور قدم بوسی کرانا اپنا واجبی حق سمجھنے لگے ہیں ، اگر کسی مرید نے کبھی دست بوسی نہ کی تو کہا جاتا ہے کہ فلاں مرید آج کل مغرور ہوگیا ہے جب کہ اہل نسبت کو مقام حجریت (پتھر)پر ہونا چاہیے، کوئی ہاتھ پاؤں چومے یا نہ چومے کوئی فرق نہ پڑے ۔اگر ایسا نہیں تو یہ مقام ہلاکت ہے جب کہ چومنے والا مقام تواضع پر ہوتا ہے اور تواضع و انکساری میں ہی انسان کے لیے نجات ہے۔
ہم حضور خواجہ بابا فرید گنج شکر ؒ کے حالات دیکھتے ہیں تو تواضع کا اَثر جابجا نظر آتا ہے جس کی بدولت ہندوؤں سے خوش اخلاقی سے پیش آتے ۔چونکہ اجودھن کا بیشتر علاقہ ہندوؤں پر مشتمل تھا اور جو اپنے مذہب پر بھی سختی سے کاربند تھے سوآپ ان سے ہمیشہ خوش اخلاقی اور تواضع سے پیش آتے اور یہ آپکی مذہبی رواداری اورحسن سلوک ہی تھا جسکے نتیجے میں سیال، میو، وٹو، راجپوت، نون، ٹوانے، گوندل، کمبوہ، کھوکھر جولاہے، ماچھی سمیت سولہ بڑے قبائل اسلام کے دامن عافیت میں آگئے اور غیر مسلموں سے حسن سلوک کا یہی وصف ہمیں ولیوںکے سلطان جی، محبوب الہٰی حضرت نظام الدین اولیاءؒکی شخصیت میں بھی نظرآتا ہے جو انہوں نے اپنے محبوب مرشد حضرت بابا صاحب ؒکی زیر تربیت حاصل کیا تھا۔
اس حدیث مبارکہ کے دوسرے رُخ کی وضاحت کچھ اس طرح پیش خدمت ہے کہ جس میں ہر قسم کے دنیاوی مال و متاع کے جمع نہ کرنے کا تذکرہ ہے۔امام سلمیؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’المقدمہ فی التصوف‘‘ میں ایک صالح نوجوان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو نوجوان قرآن و سنت کی تعلیمات اور ہدایت سے بہرہ ور اور اخلاقِ حسنہ کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو جاتا ہے تو فراخ دلی اور سخاوت اس کے مزاج اور طبیعت کا حصہ بن جاتی ہے۔ ہر قسم کی فکری تنگی اور کجی اس سے دور ہو جاتی ہے اور وہ نوجوان سخاوتِ قلب کا حامل ہو جاتا ہے۔
حضور امین الاولیاء پیر ومرشد خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی نے ایک موقعہ فرمایاتھا کہ امام سلمی ؒروایت کرتے ہیں حضور نبی اکرمﷺ غزوہ تبوک کیلئے فنڈ ریزنگ فرمارہے تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، حضور نبی اکرمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمرؓ کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ ہر خیر کے کام میں سبقت لے جاتے ہیں تو کیا خوب ہو کہ میں اس بار کارِ خیرکے اس کام میں ان سے آگے نکل جائوں۔ حضور نبی اکرم ﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوکر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنا صدقہ و ایثار پیش کیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: عمرؓ کیا لائے ہو؟ آپؓ نے عرض کیا: میں اپنے مال میں سے آدھا حصہ آپ ﷺکی خدمت میں پیش کرنے آیا ہوں۔ حضور نبی اکرمﷺ خوش ہوئے اور مسکرا کر پوچھا: گھر والوں کیلئے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ عرض کیا: آدھا حصہ چھوڑا ہے۔ اس دوران حضرت ابوبکر صدیق ؓ تشریف لائے اور انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺکی بارگاہ میں اپنا مال پیش کیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: اے ابوبکرؓ کیا لائے ہو؟ حضرت ابوبکرؓ گویا ہوئے: یارسول اللہ ﷺ میں اپنا سارا مال و دولت لے آیا ہوں۔ آپ ﷺنے پوچھا: گھر والوں کیلئے کیا چھوڑا ہے؟
عرض کیا: گھر والوں کیلئے اللہ اور اس کے رسول ﷺکو چھوڑ کر آیا ہوں۔
سخاوتِ قلب کی تاریخِ عالم میں اس سے بہتر اور کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ یہ سخاوت کی انتہا اور اس کا آخری درجہ و رتبہ و مقام ہے۔
اللہ کیلئے ہمہ وقت سب کچھ قربان کر دینے کی لگن سے سرشار رہنا، سخاوتِ قلب ہے۔
دنیا میں رہو مگر دنیا کو دل میں نہ رکھو۔فی زمانہ صالحین کے راستے پر گامزن ہر ذی نفس کو کم و بیش ایک سوال درپیش رہتا ہے کہ دین و دنیا میں توازن کیونکر قائم کیا جا سکتا ہے؟ کیا آخرت سنوارنے اور اللہ کو راضی کرنے کیلئے دنیا سے مکمل طور پر بے رغبتی اختیار کر لی جائے؟ جس طرح اولین زمانوں میں اولیاء اللہ، صوفیاء کرام عبادت و ریاضت کیلئے جنگلوں اور ویرانوں میں چلے جاتے تھے، کیا آج بھی اللہ کی خوشنودی، اخلاقِ حسنہ اور سخاوتِ قلب کی یہی ریاضت ہے؟
تو ہمیں اس سوال کا جواب کہ دنیا میں بسو مگر دل میں دنیا کو نہ بسائو۔ دنیا کو دل میں بسانے سے مراد ہوسِ زر، مناصب کی خواہش اور تعیشات کے پیچھے بھاگنا ہے۔ دل دنیاوی حرص و ہوس کا نہیں بلکہ اللہ کی یاد ،محبت اور جلوت کا مسکن ہے۔ دنیا پر سوار ہوں مگر دنیا کو اپنے اوپر سواری مت کرنے دیں۔دنیا میں رہتے ہوئے دنیاوی ضروریات کی تکمیل کیلئے ملازمت کریں، کاروبار کریں، اپنی اہلیت اور صلاحیت کے مطابق ہر نوع کا پیشہ اختیار کریں لیکن دل میں محبت، انس اور رغبت صرف اللہ کی ہو، یہی توازن اور صفائے قلب کا راستہ ہے۔
کئی اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام کو پردہ فرمائے ہوئے صدیاں بیت گئیں مگر وہ آج بھی لاکھوں، کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہیں، ان کے مزار اور خانقاہیں مرجعِ خلائق ہیں۔ کیا یہ اولیاء کسی سوشل میڈیا کے ذریعے عامۃ الناس کی آنکھ کا تارا بنے؟ جواب نفی میں ہے۔ اولیائ، صالحین حسنِ اعمال، توبہ و استغفار،انسانی حقوق کے احترام اور سخاوتِ قلب کے اوصاف سے اللہ اور دنیا کے محبوب بنے۔یہاں میں اس بات پر اکتفا کرتا ہوں کہ ہمیں چاہیئے کہ اپنے عزیز و اقارب، اہلِ خانہ، سوشل سرکلز، رفقاء کار سے صرف اور صرف اللہ کیلئے محبت کریں۔ جس محبت میں دنیاوی حرص نہیں ہو گی وہ اللہ کے ہاں مقبول ہوگی اور وہی محبت نفع دینے والی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے احوال پر رحم فرمائے اور ہمیں صالحین اور ان چنیدہ ہستیوں کے راستے پر چلائے جو اس کے کے انعام یافتہ ہیں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تمامی یاران طریقت کی خدمت میں قبول ہو۔
اُمید کرتا ہوں گذشتہ کلاس اور آن لائن بلاگ کی سہولت یقیناً آپ سب کےکارآمد ثابت ہوئی گی۔ کسی بھی قسم کی رہنمائی درکار ہو تو ضرور سوال فرمایئے گا اور اصلاح ضرور کیجیئے گا تاکہ سب کی سہولت میں مزید آسانی مہیا کرسکوں ۔ اس لنک کو یاد کرلیں، ایک مزے کی بات عرض پرداز ہوں وہ یہ کہ جب آپ یہ سائٹ دیکھیں تو اس کے آخر میں ویب ورژن لکھ نظر آئےگا تو اُس کلک کیجئے گا اور پھر اس ویب سائٹ یا بلاگ کو پورا دیکیئے گا تو مزید آپ کو اس میں لنکس بھی نظر آجائیں گے، میں خاص کر روحانی ذمہ داران کی خدمت میں عرض ہے ۔
https://arbaeenetasawwuf.blogspot.com/
آج حدیث نمبر 12 کا سبق ہے تو شرو ع کرتے ہیں۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔