حدیث نمبر11
(فقراءالمھاجرین یدخلون الجنۃ)
عن ابی سعید قال قال رسول اللہ ﷺ فقراءالمھاجرین یدخلون الجنۃ قبل اغنائھم بخمس مائۃ عامٍ
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فقراء مہاجرین ،امراء سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہونگے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ " يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِ مِائَةِ عَامٍ نِصْفِ يَوْمٍ " .
قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا: ”فقراء جنت میں مالداروں سے پانچ سو برس پہلے داخل ہوں گے اور یہ قیامت کے آدھا دن کے برابر ہو گا“ ۔(جامع الترمذی)
امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/الزہد 6 (4122) (تحفة الأشراف: 15029) (حسن صحیح)»
یدخل داخل کریں - الفقراء غریب - قبل پہلے - الاغنياء امیر -
بخمس مائة پانچ سو - نصف آدھا - یوم دن
وضاحت:
یہ حدیث فقراء مہاجرین کی فضیلت ظاہر کرتی ہے ، اس کی وجہ دیگر احادیث میں یہ بیان کی گئی ہے کہ فقراء اپنے پاس اتنا مال ہی نہیں رکھتے کہ جس کے باعث ان کے حساب میں وقت لگے جبکہ امراء زیادہ مال رکھنے کے باعث زیادہ عرصہ تک حساب دیتےرہیں گے، یہی وہ ہے کہ صوفیاء بھی اپنے پاس مال جمع نہیں کرتےبلکہ اللہ کی راہ میں خیرات کردیتےہیں۔
اس حدیث میں پانچ سو سال کا ذکر ہے، جب کہ اس سے پہلے والی حدیث میں چالیس سال کا ذکر ہے، مدت میں فرق، فقراء کے درجات و مراتب میں فرق کے لحاظ سے ہے، معلوم ہوا کہ کچھ فقراء اپنے مراتب و درجات کے لحاظ سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے جب کہ کچھ فقراء چالیس سال پہلے جائیں گے۔
جامع الترمذي،2355،ابو ہریرہ عبد الرحمن بن صخر
يدخل فقراء المسلمين الجنة قبل أغنيائهم بنصف يوم وهو خمس مائة عام
غریب مسلمان امیروں سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے جو کہ پانچ سو سال ہے۔
جامع الترمذي 2353-ابو ہریرہ عبد الرحمن بن صخر
يدخل الفقراء الجنة قبل الأغنياء بخمس مائة عام نصف يوم
غریب جنت میں امیر سے پانچ سو سال اور آدھا دن پہلے داخل ہوں گے۔
سنن ابن ماجه 4122ابو ہریرہ عبد الرحمن بن صخر
يدخل فقراء المؤمنين الجنة قبل الأغنياء بنصف يوم خمس مائة عام
غریب مومن جنت میں امیر سے آدھا دن پہلے یعنی پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے۔
حضرت ابو ہریرہ عبدالرحمن بن صخر الدوسی ؓایک صحابی ہیں، حدیث ، فقیہ اور حافظ جنہوں نے 7 ہجری میں اسلام قبول کیا ۔ ابوہریرہ کا حافظہ بخل تھا، بہت سے صحابہ اور حدیث کے شاگردوں کے پیروکار آپ کے گرد جمع ہو گئے، جن کی تعداد بخاری کے اندازے کے مطابق آٹھ سو سے تجاوز کر گئی جنہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ ابوہریرہ کو حجاز کے ممتاز قاریوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جہاں انہوں نے قرآن مجید حاصل کیا۔رسول اللہﷺ کے حکم سے، اور آپ نے اسے ابی بن کعب کے سامنے پیش کیا ، اور عبدالرحمٰن بن ہرمز نے آپ سے لے لیا ۔ ابوہریرہ نے خلیفہ عمر بن الخطاب کے دور میں ریاست بحرین پر قبضہ کیا اور 40 ہجری سے 41 ہجری تک مدینہ کی حکومت مکمل کی ۔ اس کے بعد 59 ہجری میں آپ کی وفات تک آپ مدینہ منورہ میں مقیم رہے، لوگوں کو حدیث نبوی کی تعلیم دیتے رہے اور ان کے مذہب کے بارے میں فتویٰ دیتے رہے۔
آدھے دن سے مراد قیامت کا آدھا دن ہے مطلب یہ ہے کہ وہ پانچ سو سال قیامت کے آدھے دن کے برابر ہوں گے۔ اور قیامت کے دن کی مدت طوالت، دنیاوی شب و روز کے اعتبار سے ایک ہزار سال کے برابر ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴿سورۃ الحج، آیت 47،پارہ17﴾
اور بیشک تمہارے رب کے یہاں ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس۔
رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک اور جگہ یہ فرمایا ہے کہ آیت
( فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ﴿سورۃالمعارج ،آیت 4،پارہ29﴾
اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے۔
جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا ، تو جاننا چاہئے کہ پہلی آیت کہ جس سے (قیامت کے دن کا ایک ہزار سال کے برابر ہونا ثابت ہوتا ہے) عمومیت کی حامل ہے۔ثابت ہوتا ہے ایک خاص نوعیت کی طرف اشارہ کرتی ہے! یعنی اصل بات تو یہی ہے کہ دنیاوی حساب کے اعتبار سے قیامت کا دن ایک ہزار سال کے برابر ہوگا اور اسی کو پہلی آیت کے ذریعہ واضح فرمایا گیا ہے ۔ لیکن وہ قیامت کے دن چونکہ سختیوں اور شدت کا دن ہوگا اور جو شخص دنیا میں دین و ہدایت سے جتنا دور ہوگا اس کو اس دن کی سختی اسی قدر زیادہ محسوس ہوگی اس لئے کفار کے حق میں اس دن کی سختیاں اس قدر زیادہ ہوں گی کہ اپنی درازی و سختی کے اعتبار سے وہ دن ان کو پچاس ہزار سال کے برابر معلوم ہوگا! یہ دوسری آیت یہی مفہوم بیان کرتی ہے کہ قیامت کا دن (اگرچہ ایک ہزار سال کے برابر ہوگا مگر سختیوں اور شدائد کی بنا پر) کفار کو وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر معلوم ہوگا جیسا کہ مومنین اور نیک کاروں کے حق میں وہ دن گویا لپیٹ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے برابر اس دن کی طوالت ان کو ایک ساعت کے بقدر معلوم ہو گی۔ اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔
فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ ﴿8﴾ فَذَٰلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ ﴿9﴾ عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ ﴿10﴾ (سورۃ المدثر، پارہ29)
پھر جب صور پھونکا جائے گا (8) تو وہ دن کڑا (سخت) دن ہے، (9) کافروں پر آسان نہیں (10)
اس حدیث کے ضمن میں ایک اشکال یہ بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث بظاہر اس حدیث کے معارض ہے جو جنت میں فقراء کے پہلے داخل ہونے کی مدت کو چالیس سال ظاہر کرتی ہے؟ لہٰذا شارحین نے ان دونوں حدیثوں میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے یہ بیان کیا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ پچھلی حدیث میں " اغنیاء سے" مراد " اغنیاء مہاجرین" ہوں (جیسا کہ اس حدیث کی تشریح میں بھی اس طرف اشارہ کیا جا چکا ہے) اس صورت میں اس حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ فقراء ان اغنیاء سے کہ ان کا تعلق مہاجر صحابہ سے ہے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے، جب یہاں اس حدیث میں اغنیاء سے مراد وہ اغنیاء ہیں جو مہاجرین میں سے ہوں گے۔ اس وضاحت سے دونوں حدیثوں کے درمیان کوئی تعارض و تضاد باقی نہیں رہتا۔ لیکن جیسا کہ بعض شارحین نے لکھا ہے کہ ان دونوں حدیثوں کے درمیان مذکورہ تعارض کو ختم کرنے کے لئے یہ وضاحت زیادہ مناسب و موزوں ہے کہ دونوں عدد، یعنی چالیس اور پانچ سو سے مراد تحدید(شناختindetification/) نہیں ہے۔ بلکہ مطلقا(absolute) اس زمانی فرق کو بیان کرنا مقصود ہے جو جنت میں داخل ہونے کے سلسلہ میں فقراء اور اغنیاء کے درمیان ہوگا۔
چنانچہ اس فرق کو ظاہر کرنے کے لئے کہ فقراء جنت میں اغنیاء سے پہلے جائیں گے از راہ تفنن (work of art)کسی موقع پر تو چالیس سال فرمایا گیا ہے۔ اور کسی موقع پر پانچ سو سال کے الفاظ ذکر فرمائے گئے ہیں جب کہ مقصود دونوں کا ایک ہی ہے یا یہ کہ پہلے حضوﷺ کو بذریعہ وحی یہی معلوم ہوا ہوگا کہ جنت میں فقراء کے اغنیاء سے پہلے جانے کی مدت چالیس سال ہوگی،چنانچہ حضور ﷺنے اس وحی کے مطابق چالیس سال کا ذکر فرمایا۔ لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے جانِ کائنات ﷺکی برکت سے فقراء کے حال پر خصوصی فضل فرماتے ہوئے اور ان کی مزید تسلی کے لئے یہ خبر دی کہ فقراء کو جنت میں اغنیاء سے پانچ سو سال پہلے داخل کیا جائے گا۔
چنانچہ حضورﷺنے جب دوسری مرتبہ اس بات کا ذکر کیا تو اس میں پانچ سو سال کا ذکر فرمایا۔ یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان دونوں حدیثوں کے مفہوم میں جو اختلاف نظر آتا ہے اس کا تعلق دراصل خود فقراء کی ذات و شخصیت کی غیر یکسانیت سے ہے یعنی ظاہر ہے کہ ہر غریب و نادار اور ہر فقیر مسلمان ایک ہی حالت نہیں رکھتا، بعض فقراء تو ایسے ہوتے ہیں جو صبر و رضا اور شکر کے درجہ کمال پر ہوتے ہیں اور بعض فقراء وہ ہیں جن میں صبر و رضا اور شکر کا مادہ کم ہوتا ہے لہٰذا " پانچ سو سال" والی حدیث کا تعلق اول الذکر فقراء سے اور چالیس سال والی حدیث کا تعلق موخر الذکر فقراء سے ۔
یہ تاویل زیادہ مناسب اور موزوں بھی ہے اور اس کی تائید جامع الاصول کی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے جس میں ان دونوں حدیثوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے یہ کہا گیا ہے کہ جس حدیث میں چالیس سال کا ذکر ہے اس کی مراد یہ ہے کہ دنیاوی لذتوں اور نعمتوں کی خواہش رکھنے والا فقیر، حریص غنی سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوگا اور جس حدیث میں پانچ سو سال کا ذکر ہے اس کی مراد یہ ہے کہ دنیاوی لذتوں و نعمتوں سے بالکل بے نیاز اور زاہد فقیر دنیا دار غنی سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوگا۔
اُمید کرتا ہوں اس مختصر کی علمی بحث جو عمومی محدثین کرام کے درمیان ہوتی ہے اُس کی ایک جھلک سے آپ آج روشناس ہوئے ہونگے۔ میزید برآں یہ کہ غربت ان چیزوں میں سے ہے جس سے انسان اس دنیا میں بھاگتا ہے اور اس کے باوجود جو شخص غربت پر صبر کرتا ہے اور ثواب کا طالب ہوتا ہے۔ کیونکہ آخرت میں مسلمان کے لیے بہت بڑی بھلائی ہے۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺنے فرمایا: "اے غریب لوگو، کیا میں تمہیں خوشخبری نہ دوں؟ غریب مومن جنت میں امیروں سے آدھا دن پہلے داخل ہوں گے: پانچ سو سال۔" یہ ہے: وہ امیروں سے بہت پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ شاید یہ غریبوں کا حساب کم کرنے کے لیے ہے۔ دنیا میں جو کچھ ان کے پاس تھا اس کے نہ ہونے کی وجہ سے امیر لمبے ہوتے ہیں جیسا کہ وہ دنیا کی لذتوں میں سے تھے اور اس کا مطلب ہے کہ انسان غریبوں کو جنت میں داخل ہونے کی رفتار سے اور امیروں کی امیری اس مقام کے لیے تیاری کرنا یہ ہے کہ دنیا کے سالوں میں سے ایک سال کا وقت، جیسا کہ اس کا فرمان ہے:
وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴿سورۃ الحج، آیت 47،پارہ17﴾
اور بیشک تمہارے رب کے یہاں ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس۔
اور حدیث میں ہے: رسول اللہﷺ ہمدردی غریبوں کے لیے ۔
میں اپنی بات کو سمیٹے ہوئے اس حدیث کو آپ کے گوش گزار کرتاہوں جس کو حضرت سلطان باھو ؒ نے عین الفقر میں رقم فرمایا ہے وہ یہ کہ آپ ؒ فرماتے ہیں کہ عالمِ دوجہان میں خوف و غم سے آزاد، صراطِ مستقیم کی روشن دلیل ہیں اور ان کے وجودِ کامل ہی سے وجودِ کائنات اور ہدایت کا نظام قائم ہے۔ یہ انبیاء ؑ تو نہیں لیکن انبیاء ؑ کی سی شان کے مالک ہیں۔ یہ اُمتِ محمدیہ کے فقراءِ کاملین ہیں، ان سے ملاقات کا غم و فکر اور اشتیاق آقائے دوجہان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکو اپنی ظاہری حیاتِ طیبہ میں دامن گیر رہا۔ آپﷺ ان کے متعلق حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہٗ سے فرماتے ہیں:
’’اے ابوذرؓ! کیا تجھے معلوم ہے کہ میں کس غم و فکر میں محو رہتا ہوں اور کس چیز کا مشتاق ہوں؟‘‘ حضرت ابو ذرؓ نے عرض کی ’’اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے اپنے غم و فکر سے آگاہ فرمادیں۔‘‘ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’آہ! آہ! آہ! مجھے اپنے اُن بھائیوں سے ملاقات کا شوق ہے جو میرے بعد آئیں گے۔ وہ انبیاء ؑ کی سی شان کے مالک ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں ان کا مرتبہ شہداء کا سا ہے۔‘‘ آقا علیہ الصلوٰۃو السلام نے حضرت ابوذرغفاریؓ کو ان فقراءِ کاملین کے بے شمار فضائل و مناقب سے آگاہ فرماتے ہوئے آخر میں فرمایا:
’’اے ابوذرؓ! اگر تم کہو تو میں ان کے بارے میں مزید بیان کروں؟ عرض کی! ہاں اے اللہ کے رسولﷺ! مزید ارشاد فرمائیں۔ فرمایا ’’جس نے عقیدت بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھا تو اللہ کو ان کی یہ بات بیت اللہ کو دیکھنے سے زیادہ پسندہو گی۔ جس نے عقیدت سے ان کی طرف دیکھا گویا اس نے اللہ کو دیکھا، جس نے انہیں لباس پہنایا تو گویا اس نے اللہ کو لباس پہنایا اور جس نے انہیں کھانا کھلایا تو گویا اس نے اللہ کو کھانا کھلایا۔ اے ابوذرؓ! اگر تم کہو تو ان کے بارے میں مزید بیان کروں؟ عرض کی! اے اللہ کے رسولﷺ! مزید ارشاد فرمائیں۔ فرمایا! ’’وہ گنہگار جو گناہ کرنے پر بضد ہو اور بے حد گنہگار بھی ہو، اگر ان کی محفل میں (محبت و عقیدت سے) آکر بیٹھے گا تو اُٹھنے سے پہلے اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ پس تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اہلِ دل (فقراءِ کاملین) کبھی کبھی سچے خوابوں کی صورت میں اسرارِ ملکوت کا مشاہدہ ومکاشفہ کرتے رہتے ہیں اور کبھی کبھی بیداری کی حالت میں بھی ان پر مشاہدہ کی صورت میں معانی منکشف ہوتے رہتے ہیں اور یہ حالات اعلیٰ درجات میں سے ہیں اور یہ درجاتِ نبوت میں سے ہیں۔ بے شک سچے خواب نبوت کا چھیالیسواں (46) حصہ ہیں۔ پس تم ان کے معاملے میں ڈرنا، اگر تم ان کے معاملے میں غلطی کرو گے تو تمہارے قصور کی حد تجاوز کر جائے گی اور تم ہلاکت میں پڑ جاؤ گے۔ اس عقل سے جہالت بہترہے جو ان کے انکار کی طرف راغب کرے کیونکہ اولیاء اللہ کے اُمور سے جس نے انکار کیا اس نے گویا انبیاء ؑ کا انکار کیا اور وہ دین سے مکمل طور پر نکل گیا۔‘‘ (عین الفقر)
فقروغُربت باعثِ سعادت ہے نہ کہ باعثِ آفت۔ غریبوں ، مسکینوں کے آخِرت میں مزے ہوں گے کہ مالی عبادات جیسے زکوٰۃ ، فِطرَہ ، حج وغیرہ کےمتعلِّق پوچھ گَچھ سےاَمْن میں ہوںگے ، کیونکہ یہ اَحکام مال دار و صاحبِ اِستِطاعت مسلمانوں کےلئےہیں۔ بروزِ محشر جب مال دار بارگاہِ الٰہی میں اپنے مال کے مُتَعَلِّق حساب کتاب دینے میں مشغول ہوں گے ، اِدھر نادار مسلمان اللہ کریم کی رحمت سے داخِلِ جنّت ہورہےہوں گےاور یوں جنّت میں فقیر وں ، غریبوں کا داخِلہ امیروں سے کئی سو سال پہلے ہو جائےگا۔
[22:15, 12/28/2022] tahanizami:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
آپ تمام یاران طریقت کو دل گہرائیوں سے قلبی و روحی دعائیں۔
ان شاءاللہ آج سبق نمبر 11 پیش کیا جائے گا۔ آج یقیناَ بہت ہی لطف و سرور آنے والا یے۔ تو چلتے ہیں سبق کی طرف۔
[22:15, 12/28/2022] tahanizami:
اور آج آپ سب کی خدمت میں گذشتہ 10 اسباق حدیث کے نوٹس بھی فراہم کیئے جائے گے جوکہ آڈیو اور ڈاکومنٹ کی صورت میں ہونگے۔ براہ کرم فیڈ بیک ضرور عنایت فرمایئے گا ۔ یقیناً اس میں میری بھی حوصلہافزائی کا عنصر شامل ہے ۔ اللہ ہمیں اپنے پیارے محبوب ﷺ کے الفاظ مبارکہ اپنی روحوں اور دلوں میں اُتارنے اور بسانے کی توفیق عطاءفرمائے اور یہ گلستان مرشد کی خوشبوؤں سے ہم سب کو معطر رہنا والا بنائے ۔ آمین۔
https://arbaeenetasawwuf.blogspot.com/
[22:15, 12/28/2022] tahanizami:
تمامی کی خدمت میں فرداً فرداً وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
[22:15, 12/28/2022] tahanizami:
تو سبق کی طرف اپنے اس روحانی قافلے کو جو سوئے طیبہ ہے لے کر چلتے ہیں اور ٹھنڈی ٹھنڈٰی معطر فضائے مدینہ ہمیں نصیب فرمائے ۔ بسم اللہ
[22:15, 12/28/2022] tahanizami:
یہ سائٹ کا لنک آپ سب کی خدمت میں ہے۔ قبول فرمایئےگا۔
[22:15, 12/28/2022]
tahanizami:
https://arbaeenetasawwuf.blogspot.com/
[22:15, 12/28/2022] tahanizami:
اس لنک دیکھئے گذشتہ اسباق کے لیئے۔
[22:15, 12/28/2022] tahanizami:
کل 10 احادیث کا پہلا عشر ہے ۔ طالب دعا۔
[22:15, 12/28/2022] tahanizami:
آپ سب کے فیڈ بیک کا منتظر











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔