﴿سنن الترمذی - گواہیوں کا بیان - حدیث نمبر 2350﴾
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، فَقَالَ: انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ ؟ قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، فَقَالَ: انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ ؟ قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ تُحِبُّنِي فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا، فَإِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ .
سنن الترمذی - گواہیوں کا بیان - حدیث نمبر 2350
(سند میں " جابر بن عمرو ابو الوازع " وہم کے شکار ہوجایا کرتے تھے، اور اسی لیے یہ منکر حدیث روایت کردی، دیکھیے الضعیفہ رقم: ١٦٨١ )
(ضعيف الجامع الصغير (1297) ،صحيح وضعيف سنن الترمذي)
ترجمہ: حضرت عبداللہ ان مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میںعرض کی یارسول اللہ ﷺ! میں آپ سے قسم میں آپ سے محبت کرتاہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا سوچو کیا کہہ رہے ہو؟کہنےلگا اللہ کی قسم میں آپ ﷺسے محبت کرتاہوں۔ اس نے تین مرتبہ یہی کہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو مجھ سےمحبت کرتا ہے تو فقر کے لیے تیار ہوجا کیونکہ میرے محبّین کی طرف سیلاب کی طرح اپنی منزل کی طرف دوڑنے سے بھی جلد آتاہے۔
إِنِّي میں - لَأُحِبُّكَ تم سے محبت کرنا، - انْظُرْ دیکھو - ثَلَاثَ تین
تُحِبُّنِي مجھ سے محبت کرو - فَأَعِدَّ فَأَعِدَّ - لِلْفَقْرِ غربت کو -
تِجْفَافًا پانی کی کمی - أَسْرَعُ تیز تر - يُحِبُّنِي وہ مجھ سے محبت کرتا ہے
السَّيْلِ ایک خاص قسم کے پتھر کا ٹکڑا - مُنْتَهَاهُ یہ ختم ہوا
وضاحت: اس حدیث میں ’’حُبِّ رسولﷺ اور فقر ‘‘ کا ذکر ہے اس لیے صوفیائے کرام آپ ﷺ کی متابعت و محبت میں فقر کو بخوشی قبول کرتے ہیں۔گویا جس کے دل میں حبِ رسولﷺ ہے، اسے چاہئے کہ جانِ کائنات ﷺکی سنت کی پیروی میں اپنے اندر سادگی، صبر و تحمل، قناعت اور رضا بالقضا کی صفات پیدا کرنے کی سعی کرتا رہے۔
جان ِکائنات خاتم النبیین ﷺکی ذاتِ مبارک کا نام لبوں پر آتے ہی دل میں محبت کا سمندر امڈ آتا ہے کیوں نہ آئے یہ تو دُرِّ یتیم ہیں یہ تو اُمت کے قائد انقلاب ،شفیق و مہربان ہیں جن کی آنکھوں کی پلکیں اُمت کے لئے تر ہوتی، جو سجدوں میں بھی اور بدر کے میدان میں بھی غمِ اُمت میں آنسو بہاتے رہے آپﷺ کی اُمت سے شفقت و مہربانی کو اگر دیکھا جائے تو دل مسرت و شادمانی سے سرشار ہو جاتا ہے۔
انﷺ سے تعلق مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے یہی تو ہیں ﷺجو دلوں کا سکون ،نگاہوں کی ٹھنڈک ہیں۔ اصحاب نبوی علیہ السلام نے آپﷺ سے محبت و تعلق کا وہ عظیم طریقہ بتایا کہ دل عش عش کرتا ہے کہ یہ شمع کے پروانے کیسے اپنے محبوب کے وارے جارہے ہیں۔ آئمہ کرام ، علمائے حدیث و فقہ، مفسرین محدثین عظام نے محبت و عقیدت کے وہ کارنامے انجام دئیے کہ تاریخ عالم ،جس کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں دکھا سکتی پر یہ محبت و عقیدت کا تعلق ہمارے زمانے تک آتے آتے سرد ہوتا گیا اور باقاعدہ سازش کے تحت ان جذبات کو ’راکھ کا ڈھیر‘ بنانے اور مسلمانوں کے دل سے ’روحِ محمدﷺ‘ نکالے جانے کی کوششیں کی جاتی رہیں تاکہ دین اسلام اور رشتۂ محبتِ رسول ﷺ کی شکل میں ان کے اندر موجود زندہ قوت (living force) کو ختم کر دیا جائے۔ اس لیے کہ یہی نسبتِ رِسالت سے محبت کی قوت ان کو گرنے اور مرنے نہیں دیتی۔
جانِ کائنات ﷺکی محبت تکمیلِ ایمان کی نشانی ہے۔ اگر اس میں خامی ہو گی، تو ایمان نامکمل ہے۔ رسول اللہ ﷺسے محبت، مومن کا گراں بہا سرمایہ ہے اور کسی مومن کا دل اس سے خالی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی محبت مقصود حقیقی کے قرب اور اس کی ذات و صفات کے صحیح تصور کا واحد ذریعہ ہے۔
حضور خاتم النبیین ﷺ نے اپنی محبت، امت پر فرض قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ عزیز تر نہ ہو جائوں۔‘‘ (بخاری و مسلم)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،کہتے ہیں،نبی ﷺ کے ہاں بحرین سے مہمان ٹھہرے،آپ ﷺنے اپنے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا، وہ آپ ﷺکے وضو کے پانی کی طرف لپکے،اس میں سے اُنہوں نے جو پایا، پی لیا، اور جو اس میں سے زمین پر گرا، اُنہوں نے اُسے اپنے چہروں،سروں اور سینوں پر مل لیا۔ نبیﷺ نے ان سے کہا: کس چیز نے تم کو اس پر اُکسایا؟انہوں نے کہا آپ کی محبت نے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کریں۔اے اللہ کے رسول ﷺ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ تم سے محبت کرے تو تین باتوں پر ہمیشگی کرو(1) سچی بات کہنا۔(2)امانت کی ادائیگی۔(3)اور اچھا پڑوس، کیوں کہ پڑوسی کو تکلیف دینا نیکیوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح سورج برف کو مٹا دیتا ہے۔(تخرج: الصحیحۃ،2998۔الخلعی فی الفوائد،18/۔73/۔1)۔شاطبی فی الاعتصام(2/۔139)،طبرانی فی الاوسط(6513)،بیہقی فی شعب( 1534)
محبت صرف ظاہری عقیدت کا نام نہیں بلکہ سچی محبت میں اپنے محبوب جیسا کردار بنانا لازمی ہے۔”ان المحب لمن یحب مطیع”۔
محبت کرنے والا اپنے محبوب کا فرمانبردار ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی عاشقانِ رسول اور محبان مصطفیٰ صرف جذبات، نعرہ بازی کو ہی کافی سمجھتے ہیں، جبکہ نجات اور آپ ﷺکی شفاعت پانے کے لیے آپﷺ کی ہر سنت پر عمل ضروری ہے،اس حدیث میں بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ محبت رسول اور محبت الہٰی حاصل کرنے کے لیے وضو کے قطرات کو اپنے جسم پر مل لینا اور ان سے تبرک حاصل کر لینا ہی کافی نہیں، اگر تم واقعتاً اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا محبوب بننا چاہتے ہو تو ہمیشہ سچ بولو، امانت ادا کرو اور اپنے پڑوسی سے حسن سلوک سے پیش آؤ۔
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
ایک صحابیؓ خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی :
” یارسول اللہﷺ! میں آپ ﷺکو اپنی جان و مال، اہل و عیال سے زیادہ محبوب رکھتا ہوں ، جب میں اپنے گھر میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہوتا ہوں اور شوقِ زیارت بے قرار کرتا ہے تو دوڑا دوڑا آپﷺ کے پاس آتا ہوں ، آپ ﷺکا دیدار کر کے سکون حاصل کر لیتا ہوں – لیکن جب میں اپنی اور آپ ﷺکی موت کو یاد کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ آپ ﷺتو انبیا کے ساتھ اعلیٰ ترین درجات میں ہوں گے، میں جنت میں گیا بھی تو آپ تک نہ پہنچ سکونگا اور آپ ﷺکے دیدار سے محروم رہوں گا- (یہ سوچ کر) بے چین ہو جاتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء کی یہ آیت نازل فرمائی۔
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا ﴿٦٩﴾(سورۃ النساء،آیت69،پارہ5)
اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔
صحابی کے اظہارِ محبت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر کے واضح فرما دیا کہ اگر تم حبِ رسول ﷺمیں سچے ہو اور حضورﷺ کی رفاقت حاصل کرنا چاہتے ہو تو رسولِ اکرمﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرو۔(تفسیر ابن کثیر)
فرمانِ رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہے:”جس نے میری سنت سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی، وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا-“ (تاریخ ابن عساکر:۳/۱۴۵)
ایک اور مقام پرجانِ کائنات ﷺ فرماتے ہیں کہ :”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی خواہشات کو میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ کردے۔“ (صحيح مشكوة المصابيح)
اصل معاملہ نجاح و فلا ح اور عظیم کامیابی کا یہ ہے کہ آ پ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺسے محبت کریں۔حضور محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ نے بھی اس بات کا درس اپنے مریدین کو دیتے رہے ہیں اور اُن کے تمام خلفاء اس بات پر کاربند رہے اور مریدین کو رہنے کی تلقین بھی کرتے رہے، نہیں تو ہمارا انجام ایسا ہوگا کہ ہم اپنی کامیابیوں کے تو ترانے سنا سنا کر ناکامیوں کا بوجھ اٹھائے عازم سفر آخرت ہوجائیں گئے دنیا ہمارے لئے مصیبت بن جائے گئی گر ہم نے اپنا رخ زندگی نہ بدلا ہمارے لئے سبب محبت و اطاعت ہی گر باقی نہیں تو یقینا ہم دنیا کی ظلمتون کا شکار ہوکر رہ جائیں گئے بدی کا بول بالا ہوگا جس کی لپیٹ میں ہم بھی آہی جائیں گئے۔
میرے محبوبِ الٰہی سیدی سلطان جی ؒ حشر میں بابا نظام الاولیاء کا ساتھ ہو
فقر:
فقر وہ باطنی راہ ہے جو انسان کو بلندی کی جانب لے جاتی ہے۔۔ فقر ہی وہ روحانی راستہ ہے جس کو اختیار کرنے سے انسان اللہ کے قرب اور وِصال کی جانب سفر شروع کرتا ہے۔ اسی راہ پر استقامت اختیار کرنے سے انسان کے اندر اوصافِ حمیدہ اُجاگر ہو جاتے ہیں۔ اللہ نے انسان میں جو خوبیاں پوشیدہ رکھی ہیں وہ ظاہر ہوتی ہیں اور اللہ پاک اس کی ثابت قدمی کی وجہ سے اس کو صالحین میں بھی شامل کرتا ہے اور اس کے بلند مرتبہ کا اظہار لوگ کرتے ہیں نہ کہ خود وہ بندہ۔ کیونکہ اگر کوئی خود کو صالح ظاہر کرے تو یہ انتہائی خطرناک بات ہے۔ ایک بزرگ نے اس بات کو نہایت خوبصورت مثال سے سمجھایا ہے کہ اگر آپ کے ہاتھ میں دو غبارے ہوں ایک میں عام سادہ ہو ابھری ہو اور دوسرے میں خاص ہوا یعنی نائیٹروجن گیس بھری ہو اور ان دونوں کو چھوڑ ا جائے تو عام ہوا بھرا غبارہ زمین کی طرف جائے گا جبکہ جس غبارے میں خاص ہوا (گیس) بھری ہوگی تو وہ بلندی کی طرف جائے گا حالانکہ دونوں کے لیے موسم اور ہوا کا دباؤ بظاہر ایک جیسا تھا چونکہ بلندی پر جانے والے غبارے میں خاص ہوا (گیس) تھی تو وہ بلند ہوا اسی طرح انسان کو بھی خاص چیز کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے عالم ِ ناسوت سے عالم ِ امر کی جانب سفر میں مدد کرے اور وہ خاص شے فقر ہے جو انسان کو باطنی عروج کی جانب اُڑا لے جاتا ہے ۔
پیر ومرشد حضور امین الاولیاء خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی نے ایک مجلس میں فرمایا کہ :
فقر ہمارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلا م کا حقیقی ورثہ ہے جس کو آپﷺ نے خاص طور پر اپنی سنت قرار دیتے ہوئے اپنی ذات سے وابستہ کیا اور اس کو اپنے لیے باعثِ فخر قرار دیا کیونکہ اس کی بدولت آپﷺ کو تمام انبیا پر اور آپﷺ کی اُمت کو تمام اُمتوں پر فضیلت حاصل ہے ۔
جان کائناتﷺ نے فرمایا :
اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ فَاَفْتَخِرُّ عَلٰی سَائِرِالْاَنْبِیَآء وَ الْمُرْسَلِیْنَ
فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیا و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰ ۃ و السلام کو بے شمار کمالات سے نوازا لیکن آپ ﷺ نے اپنی کسی خوبی پر فخر نہیں فرمایا نہ تقویٰ و صبر پر، نہ سخاوت و شجاعت پر، نہ صدق و عدل پر، نہ حُسن پر، نہ صادق و امین ہونے پر اور نہ ہی نسب پر۔ آپﷺ نے فرمایا میں اللہ کا حبیب ہوں لیکن اس پر آپﷺ نے فخر نہیں کیا۔ آپﷺ نے صرف اور صرف فقر پر فخر فرمایا۔ آقا ﷺ تمام علوم کا منبع اور سر چشمہ ہیں قرآن و حدیث کی تمام عبارات آپ ﷺ سے ہی اُمت کو حاصل ہوئیں۔ لیکن آپ ﷺ نے فقر کے علاوہ کسی علم کو بھی اپنی ذات سے منسوب نہ فرمایا ۔
’’ فقر‘‘ ایک ازلی نصیبہ ہے ۔ کچھ لوگوں کو اللہ کرم جذبۂ محبت و عشق کی بدولت اپنے فضل و کرم سے عطا کرتا ہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَ اللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْم ( سورہ الحدید۔21)
ترجمہ: یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ عظیم فضل کا مالک ہے
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ فرماتے ہیں :
جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑتا ہے اللہ تعالیٰ کا فضل و عنایت اُسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اس کے سامنے دونوں جہان (دنیا اور عقبیٰ) پیش کر کے اس کا امتحان لیتا ہے اگر طالب ِ مولیٰ دونوں جہانوں سے منہ موڑ لے تو فقیر ہو جاتا ہے اور فقر کے اُس مرتبے تک پہنچ جاتا ہے جہاں اس کی نظر اللہ کے سوا کسی چیز کی طرف نہیں اُٹھتی۔ (نورالہدیٰ کلاں)
فقر کا راستہ صوفیا کرام کا راستہ ہے کیونکہ صوفیا کرام ہمیشہ فقر کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔ سیّدنا غوث الاعظمؓ نے اپنی اہم تصنیف ’الرسالۃ الغوثیہ‘ میں درج کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے غوث الاعظمؓ اپنے اصحاب و احباب سے کہہ دو کہ تم میں سے جو ۜکوئی میری صحبت چاہے تو فقر اختیار کرے ‘‘ فقر کی منزل پر دنیا کی ہر قسم کی خواہشات اور عزت و ذلت اللہ کے عشق میں ختم ہوجاتے ہیں اور انسان اللہ کی ’’ صحبت ‘‘ میں دونوں جہاں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ فقر ایک پاکیزہ جذبہ ہے جو کسی فرد یا جماعت کی میراث نہیں۔
مزید سلطان باھو ؒ فرماتے ہیں :ہر چیز کی کسوٹی ہوا کرتی ہے اور علم کی کسوٹی فقر ہے ۔
؎ ایتھے اوتھے دو جہانیں، سب فقر دیاں جائیں ھُو
دونوں جہاں فقر کے لیے ہیں۔ آپ ؒ فرماتے ہیں :جو دل کے محرم ہیں جو اللہ تعالیٰ کے راز نہیں جانتے یہ دنیا عقبیٰ کی لذت میں پھنسے ہوئے لوگ ’’
فقر ‘‘ کے متعلق کچھ نہیں جانتے۔
؎ خام کی جانن سار فقر دی، جیہڑے محرم ناہیں دل دے ھُو
’’ ابتدائے فقر ’’ فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہ ‘‘ (پس دوڑ اللہ کی طرف) اور انتہائے فقر ’’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘‘( اللہ ایک ہے ) یہ فقر کی دولت ہی ہے جس سے انسان اللہ کی ذات میں فنا ہو کر پر چیز سے بے نیاز ہو جاتا ہے ۔
علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ ’’ فقر ‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں:
فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ
فقر ہے میروں کا میر، فقر ہے شاہوں کا شاہ
اک فقر ہے شبیریؓ اس فقر میں ہے میری
میراثِ مسلمانی ، سرمایہ شبیریؓ
پس اللہ تعالیٰ نے فقیر کو بہت بڑا مرتبہ عطا فرمایا ہے اورفقراء کو خاص منزل مرحمت فرمائی ہے یہاں تک کہ انہوں نے اسباب ظاہری و باطنی کو ترک کر کے مکمل طور پر مسبب الاسباب یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اختیار کیا۔ اب انکا فقران کیلئے باعث فخر بن گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اَلْفَقْرُ عِزُّلِاَھْلِہٖ فقرصاحبانِ فقر کے لئے موجب عزت ہے فقر کی عزت اس میں ہے کہ اپنے اعضاء کو ذلیل حرکتوں سے بچائے اور اپنے حال کو خلل سے محفوظ رکھے، نہ بدن معصیت و لغزش میں پڑے اور نہ ہی اپنی جان پر آفت راہ پائے۔ اس کی ظاہری حالت نعمتوں میں مستغرق ہو اور اس کا باطن باطنی نعمتوں سے آراستہ ہو ۔ تاکہ اس کاجسم روحانیت اور اسکا دل ربانی انوار کا منبع ہو ۔ نہ خلق کا اس سے علاقہ ہو اور نہ آدمیت کی اس سے نسبت ہو یہاں تک کہ وہ خلق سے علاقہ رکھنے اور آدمیت کی نسبت رکھنے سے بے نیاز و فقیر ہو اور اس جہان کی ملکیت اور آخرت میں درجات کی خواہش سے دل کو تو نگر نہ کر ے اور یہ جانے کہ دونوں جہان اس کے فقر کی ترازو کے پلہ میں مچھر کے پرکے برابر بھی وزن نہیں رکھتے ( جب فقیر کی یہ حالت ہوگی تو ان کا ایک سانس بھی دونوں جہان میں سما نہیں سکتا)۔
انیس الارواح میںہے کہ : حضرت خواجہ عثمان ہروَنی ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا کہ ایمان بر ہنہ ہے اور اس کا لباس پر ہیز گاری ہے اور اس کا سرہانہ فقر ہے اور اس کی دوا علم ہے اور اس بات کی شہادت
لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ پرایمان ہے اور آپ نے کہا اے مسلمانو! ایمان کم و بیش نہیں ہو سکتااور جو شخص انکار کرتا ہے وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔
حضر ت ابولحسن نوری ؒ فرماتے ہیں:فقیر کی تعریف یہ ہے کہ نہ ہونے کے وقت خاموش رہے۔ جب ہو تو خرچ کرے نیز فرمایا موجودگی کے وقت پریشان ہوتا ہے یعنی نہ ہونے کی حالت میں خاموش رہتا اور راضی برضا رہتا ہے اور مو جو د ہونے کی صورت میں پسند کرتا ہے کہ دوسرے پر خرچ کرے۔
حضرت شبلی ؒ فرماتے ہیں:فقیر بلا کا سمندر ہے اور تمام بلائیں عزت ہیں نیز فر مایا ۔ فقیر وہ ہے جو حق تعالیٰ کے سوا کسی کی پرواہ نہ کرے۔
ملفوظات نظام الدّین اولیاءؒ محبوبِ الٰہی میں ہے:قیامت کے دن فقراء کو وہ درجے عطا ہوں گے کہ تمام خلقت اس بات کی آرزو کرے گی کہ کاش ہم دنیا میں فقیر ہوتے۔
فقیر کے بارے میں حضرت سلطان العارفینؒ فرماتے ہیں:واضح رہے کہ فقر دو قسم کا ہوتا ہے ۔ ایک اختیاری ، دوسرا اضطراری ۔
فقر اختیاری: ’’اَلْفَقْرُ فَخْرِی وَالْفَقْرُ مِنّیْ‘‘ اس کے دو مراتب ہیں ۔ ایک خزانہ دل کا تصرف اور عنایت اور تمام دنیاوی خزانوں کا تصرف ۔ دوسرا ہدایت معرفت اور قرب الٰہی۔
فقرا ضطراری والا دربدر بھیک مانگتا پھرتا ہے اور عنایت سے محروم رہتا ہے ۔ اس میں دن بھر فقر کی شکایت کرتاپھر تا ہے ۔ فقر اضطراری ہی فقر مکب ہے ۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :قَالَ النبی ﷺ نعوذباللّٰہ من فقر المکب (عین منہ کے بل گرادینے والے فقرسے اللہ کی پناہ مانگتا ہے)۔
چلیئے کچھ غیر مسلم فقراءکو دیکھتے ہیں:
فقیری جوگیوں میں بھی ہے اوران میں زبردست فقیری ہوتی ہے۔ مگر ناپاک ۔ ہندو مذہب میں ایک تو (وید شاستر ) ہے اور دوسرا (یوگ وید ) شاسترانکی شریعت ہے اور یوگ ان کی طریقت شاستر کے ماہر کو پنڈت کہتے ہیں اور جوگ (یوگ) کے ماہر کو جوگی(یوگی) اور سوامی ؕکہتے ہیں۔ عیسائی مذہب میں بھی فقیری ہے عیسائی شریعت (بائبل کے ماہر کوقسیس اور بے شادی بیاہ تنہارہ کرزندگی بسر کرنے ) والے فقیر کو راہب کہتے ہیں قرآن مجید میں دونوں کا تذکرہ ہے۔
ذٰ لِکَ بِاَنَّ مِنْھُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُھْبَاناً (المائدہ، ۵:۸۲)
’’ان میں قسیس (علماء) او ر رہبان (درویش) ہیں‘‘
بدھ مذہب کے فقیر کو بھنگی کہتے ہیں۔پس کون سا مذہب ہے جس میں فقیر ی نہیں مگر بعثت حضور نبی کریم ﷺکے بعد سب ناپاک (منسوخ) ہے، ہمیں اس فقیری کی ضرورت ہے جسے رسول ﷺ لائے ہیں جس طرح اسلام کے بعد تمام مذاہب منسوخ ہوگئے اسی طرح ان دینوں اور مذہبوں کی فقیری بھی منسوخ ہوگئی اسلام کامل و مکمل مذہب ہے اسلام کی فقیری بھی کامل و مکمل ہے۔ناپاک لوگوں کی فقیری بھی ظاہری طور پر زبردست ہوتی ہے مگر عالم ناسوت (یعنی )اسی عالم ظاہر تک رہتی ہے ۔ عالم ملکوت ،جبروت اور لاہوت میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے۔
دوسرے مذاہب کی فقیری جس طرح بکری کا گوشت ہے اور سور کا گوشت بھی گوشت ہے مگر سور کا گوشت مسلمان اس لئے نہیں کھاتے کہ وہ حرام ہےاور ناپاک ہے اور بکری کا گوشت اس لئے کھاتے ہیں کہ وہ حلال اور پاک ہے ۔اسی طرح ناپاک اور پاک فقیری کا (معاملہ) ہے ہم جوگیوں اور دوسرے مذاہب والوں کی فقیری کے منکر نہیں ہیں ان میں بھی بڑی زبردست فقیری ہے مگر ہمارے لئے ناپاک ہے جس طرح کہ مسلمانوں کیلئے سور کا گوشت ناپاک ہے اسی طرح وہ فقیری بھی ناپاک ہے۔
حضور امین الاولیاء خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی سے وابستہ مریدین فقر کے فیوض و برکات سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ مبارک ہو ان فقر کے مسافروں کو جو اپنے ربّ (اللہ) کی طلب رکھتے ہیں اور اس کی معرفت اور قرب کے لیے کوشاں ہیں اور منزل تک رسائی کے لیے حضور امین الاولیاء خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی کے دامن سے وابستہ ہو گئے ہیں۔
مرشدی مالک امین الحق امین سلسلہ ہردعا میں ان کی آمیں ربَّنا کا ساتھ ہو











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔