حدیث نمبر9
عن أبي عمرو، ويقال: أبو عبد الله: ويقال: أبو ليلى، عثمان ابن عفان، رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " ليس لابن آدم حقٌّ في سِوَى هذه الخِصال: بيتٌ يسكنُه، وثوبٌ يُواري عَوْرتَه، وجِلْفُ الخُبزِ والماء" (رواه الترمذي وقال: حديث صحيح)
ترجمہ: حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہﷺ نے فرمایا’’انسان کے لیے ان اشیاء کے سوا کوئی حق نہیں رہنے کے لیے مکان، ستر عورت کے لیے کپڑا، سالن کے بغیر روٹی اور پانی ۔
ليس لابن آدم حق.......... یعنی انسان جس چیز کا مستحق ہے کیونکہ اسے گرمی اور سردی سے بچاؤ، اپنے جسم کو ڈھانپنے اور بھوک مٹانے کی ضرورت ہے۔
الخصال........... ایک خاصیت کی جمع، جو روح میں شامل خصوصیت ہے۔
يواري عورتہ ....... ستر عورت
الجِلْف................ خشک
الخُبزِ ................ روٹی
الماء.................. پانی
وضاحت: اس حدیث مبارکہ میں انسان کے لیے دنیا میں زندہ رہ کر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے لیے صرف چار اشائے ضرورت کا تذکرہ کردیاگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیائےکرام ان اشیاء سے زیادہ کی طرف رغبت نہیں رکھتے اور اپنی ضرورت سے زائد اشیاء راہ
خدا میں خیرات کردیتے ہیں بلکہ کبھی کبھار تو ایثار کرتے ہوئے اپنی ضرورت کی اشیاء بھی دوسرے ضرورت مند یا سائل کو دے دیتے ہیں۔
1-مکان ، 2- کپڑا(ستر) 3-روٹی، 4- پانی
یہ چار باتیں اس حدیث میں بتائی گئیں ہیں آیئے مزید اس بات اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ مسلمان کو اس بات پر اُبھارا گیا ہے کہ وہ اس دنیوی زندگی میں بقدر کفایت یعنی رہائش کے لیے ایک گھر، بھوک مٹانے کے لیے روٹی اور پانی اور اس قدر کپڑے پر انحصار کرے جس کی اسے اپنی تن پوشی اور ظاہری خوشنمائی کے لیے ضرورت ہو۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ آسائشِ نفس میں شمار ہوتا ہے نہ کہ اس کے حقوق میں۔ اس میں انسان کو اس بات کی ترغیب دی جارہی ہے کہ وہ زائد از ضرورت مال کے حصول میں مصروف نہ ہو جو ہو سکتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی
عبادت سے روکنے کا سبب بن جائے۔
مکان
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سورۃ الشوریٰ، آیت نمبر 128،129 پارہ نمبر 19
تَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿١٢٨﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿١٢٩﴾
کیا ہر بلندی پر ایک نشان بناتے ہو راہ گیروں سے ہنسنے کو (128) اور مضبوط محل چنتے ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہوگے (129)
اس آیت سے ثابت ہوا کہ بغیر ضرورت کے مکان بنانا اور تعمیرات کرنا شرعًا برا ہے اور یہی معنی ہیں اس حدیث کے جو امام ترمذی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ "النفقة کلّها في سبیل الله إلّا البناء فلا خیر فیه"، یعنی وہ عمارت جو ضرورت سے زائد بنائی گئی ہو، اس میں کوئی بہتری اور بھلائی نہیں اور اس معنی کی تصدیق حضرت انس رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے کہ
"إنّ کلّ بناء وبال علی صاحبه إلّا ما لا، إلّا ما لا یعني: إلّا ما لا بدّمنه ۰(ابو داؤد)
یعنی ہر تعمیر صاحبِ تعمیر کے لیے مصیبت ہے، مگر وہ عمارت جو ضروری ہو وہ وبال نہیں ہے۔
حضرت علامہ امام آلوسی ؒ نے تفسیر روح المعانی میں فرمایا کہ بغیر غرضِ صحیح کے بلند عمارت بنانا شریعتِ محمدیہ میں بھی مذموم اور برا ہے"۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مکان کے حوالے سے جو رہنما ھدایات ارشاد فرمائی ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
مکان کیسا ہونا چاہیئے؟
مسکن کے سلسلہ میں یہ ضروری ہے کہ وہ آدمی کو گرمی سردی کی شدت اور چوروں کے حملوں سے بچا سکے اور گھر والوں اور ان کے سامان کی حفاظت کر سکے، ارتفاقِ منزل کا صحیح مقصود یہی ہے۔
چاہیئے یہ کہ مسکن کی تعمیر میں استحکام کے توغل و تکلف (حد سے زیادہ بے اعتدالی) اور اس کے نقش و نگار میں اسرافِ بے جا سے احتراز کیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ مکان حد درجہ تنگ بھی نہ ہو۔بہترین مکان وہ ہے، جس کی تعمیر بلا تکلف ہوئی ہو۔ جس میں رہنے والے مناسب طور پر آرام و راحت کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔ فضا وسیع و عریض ہو، ہوا دار ہو اور اس کی بلندی بھی متوسط درجہ کی ہو۔
مکان ہو یا دیگر ضرورتیں، ان سب کا مقصود تو یہ ہوتا ہے کہ پیش آمدہ ضرورتوں کو اس طور سے پورا کیا جائے، جو طبعِ سلیم اور رسمِ صالح کے تقاضوں کے مطابق ہو۔لیکن بدقسمتی سے بعض لوگ شاندار عمارتیں بنوانے میں ہوائے نفس کے تابع ہوتے ہیں اور ان کی تعمیر میں نفسانی خوشی محسوس کرتے ہیں اور ان کو مقصود بالذات چیز سمجھتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے لوگ نہ تو دنیا کی کد و کاوش سے نجات پا سکتے ہیں اور نہ انہیں فتنۂ قبر اور فتنۂ محشر سے نجات مل سکے گی۔(البدور البازغۃ مترجم ص: 123، بحوالہ "الشریعہ" جلد 2، شمارہ نمبر: 6، سن اشاعت: 1990)
خلاصہ یہ کہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق اپنی ضرورت و راحت کے مطابق مکان تعمیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ نام ونمود اور بے جا اسراف سے اجتناب کیا جائے۔
یہاںایک بات یاد آئی سردی کے موسم کے حوالےسے عرض کرتا چلوں کہ روایت میں بیان کیا گیا ہے جسے امام احمد نے "مسند احمد"، امام بیہقی نے "سنن کبری" اور شعب الایمان" اور امام ابویعلی نے اپنی "مسند" میں، امام ابن عدی نے " الکامل" میں، حافظ ابو نعیم اصفہانی نے "حلیۃ الاولیاء" میں نقل کیا ہے، کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:
سردی کا موسم مؤمن کی بہار ہے (کیونکہ) اس کا دن چھوٹا ہوتا ہے تو وہ (مؤمن) روزہ رکھ لیتا ہے اور رات لمبی ہوتی ہے تو وہ قیام کرلیتا ہے۔
کپڑا(ستر عورت)
لباس اللہ تعالی کی ایک اہم نعمت ہے جس کا مقصد ستر پوشی اور شرم و حیا کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا ہے ، لباس اگر شریعت کے تقاضوں کو پورا نہ کرے تو شرم وحیا کے رخصت ہونے کا اندیشہ ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالی نے ظاہری لباس کاذکر فرماتے ہوئے معنوی لباس تقوی کی طرف ابھارا ہے جس میں شرم و حیا بھی داخل ہے ،اللہ تعالی نے فرمایا: یَابَنِی آدَمَ قَد اَنزَلنَا عَلَیکُم لِبَاسًا یُّوَارِی سَوآتِکُم وَرِیشًا وَلِبَاسُ التَّقوَیٰ ذٰلِکَ خَیر ، ذٰلِکَ مِن آیَاتِ اللّٰہِ لَعَلَّھُم یَتَذَکَّرُونَ﴿الاعراف : ۶۲ ﴾۔
اے آدم کی اولاد ! ہم نے تمہارے لیے لباس پیداکیا جو تمہاری شرمگاہوں کو چھپاتاہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقوی کا لباس یہ اس سے بڑھ کر ہے ۔ یہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یادرکھیں ۔
ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :
[لباس]:ستر پوشی کی چیزوں کوکہتے ہیں اور
[ریش ]:ظاہری زینت کی چیزوں کوکہتے ہیں ۔
لباس،انسانی زندگی کی ضرورت ہے جبکہ ریش؛ ضرورت زندگی سے زائد اور کمالیات میں سے ہے ۔
ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ :
وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ (پ14،النحل :81)
ترجمہ:اور تمہارےلئے کچھ پہناوے بنائے کہ تمہیں گرمی سے بچائیں۔
(بہار شریعت،ج3،ص409) میں ہے کہ اتنا لباس جس سے سترِ عورت ہوجائے اور گرمی سردی کی تکلیف سےبچے،فرض ہےاوراس سے زائدجس سے زینت مقصود ہواور یہ کہ جبکہ اﷲ نے دیا ہے تو اُس کی نعمت کا اظہار کیا جائے یہ مستحب ہے۔ خاص موقع پر مثلاً جمعہ یا عید کے دن عمدہ کپڑے پہننا مباح(جائز)ہے۔ اِس قسم کے کپڑے روز نہ پہنےکیونکہ ہوسکتا ہے کہ اِترانے لگے اورغریبوں کو جن کےپاس ایسے کپڑے نہیں ہیں نظرِحقارت سے دیکھے،لہٰذااس سے بچناہی چاہیے۔
مرد کا لباس: مرد کے لیے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک’’ عورَت ‘‘ہے، یعنی اس کا چھپانا فرض ہے۔ناف اس میں داخِل نہیں اور گھٹنے داخِل ہیں۔( رَدُّالْمُحتار،ج2،ص93)
رد المحتار على الدر المختار: علامہ محمد امین ابن عابدین شامیؒ کی نہایت عظیم الشان تالیف ہے(جو کہ چشتی نظامی بزرگ ہیں)۔ درمختار کی شرح ہے۔ اسے فتاویٰ شامی بھی کہا جاتا ہے۔ حنفی فقہ میں یہ کتاب بہت ہی اعلیٰ پایہ کی ہے۔ مسائل کی تنقیح مشائخ کے اقوال کے درمیان تصحیح وترجیح اور مجملات کی تفسیر و توضیح میں اپنی مثال آپ اور متاخرین کے لیے تحقیق و افتاء کا اہم مرجع ہے نئے مسائل کی تلاش میں بہت ہی معاون و مددگار کتاب ہے۔( قاموس الفقہ، جلد اول،صفحہ 384، خالد سیف اللہ رحمانی، زمزم پبلشر کراچی2007ء)
رد المحتار کے مصنف کا پورانام محمد امين بن عمر بن عبد العزيز عابدين الدمشقی الحنفی ؒ متوفی 1252ھ ہے۔
عورت کا لباس:عورت کا جسم سر سے پاؤں تک ستر ہے جس کا چھپانا ضروری ہے سِوائے چہرے اور کلائیوں تک ہاتھوں اور ٹخنے سے نیچے تک پاؤں کے ، کہ ان کا چھپانا نماز میں فرض نہیں، باقی حصّہ اگر کُھلا ہوگا تو نماز نہ ہوگی۔ لہٰذا اُسکا لباس ایسا ہونا چاہئے جو سرسے پاؤں تک اس کو ڈھکا رکھےاور اس قدر باریک کپڑا نہ پہنے جس سے سرکے بال یا پاؤں کی پنڈلیاں یا پیٹ اُوپر سے ننگا ہو۔ گھر میں اگر اکیلی یا شوہر یا ماں باپ کے سامنے ہو تو دوپٹہ اُتار سکتی ہے لیکن اگر داماد یا دوسرا قرابت دار ہو تو سر باقاعدہ ڈھکا ہوا ہونا ضروری ہے اور شوہر کے سوا جو بھی گھر میں آئے وہ آواز سے خبر کرکے آئے۔(اسلامی زندگی،ص 108)
حضور امین ملت خواجہ محمد امین نظامی دامت برکاتھم کی ایک مجلس میں فرمایا تھا کہ انڈونیشیا میں حضرت سلار حنین نظامی ؒ نے دین اسلام کی تبلیغ فرمائی تھی اور یہ حضور محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاءؒ سے خلافت یافتہ بھی تھے، انہوں نے ہی یہاں اسلامی اسکارف رائج فرمایا تھا۔
روٹی: غذا تمام جان داروں کی طرح انسان کی بھی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر غذا صحیح، متوازن اور اچھی ہو تو اس کے اثرات دیگر جان داروں کی طرح انسانی صحت پر بھی اچھے مرتب ہوں گے۔ اس کی نشوونما اچھی اور جسم تندرست و توانا ہوگا۔ وہ امراض و عوارض اور موسم کی سختیوں کو اچھی طرح جھیلے گا لیکن غذا اگر ناقص اور غیرمتوازن ہوگی تو اس کے نتائج بھی اسی طرح ظاہر ہوں گے۔
عام جان داروں اور انسانی غذا میں سب سے اہم اور بنیادی فرق حلال و حرام کا ہے۔ عام جان دار جیسے نباتات، حشرات، حیوانات وغیرہ حلال و حرام کی حدود سے ماورا ہیں لیکن انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اس لیے اچھی اور متوازن غذا کے ساتھ ساتھ اس کا حلال ہونا بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ جس طرح غیرمتوازن اور ناقص غذا کے منفی اثرات انسانی صحت پر پڑتے ہیں، بالکل اسی طرح رزق حرام کے منفی اثرات بھی انسانی روح اور قلب پر پڑتے ہیں۔ اس کی روحانی اور قلبی نورانیت کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ روحانی طور پر کمزور اور بیمار پڑتا ہے۔ اس میں بُرائیوں کے خلاف قوت مدافعت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ جلد غلط کاموں کی طرف راغب ہوجاتا ہے۔ رزق کے اثرات کی وجہ سے انسان ذہنی اور قلبی ابتری کا شکار ہوجاتا ہے۔
سورئہ بقرہ میں ارشاد خداوندی ہے:
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِیْ الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا (بقرہ ۲:۱۶۸)
لوگو! جو چیزیں زمین میں حلال و طیب ہیں وہ کھائو۔
اللہ نے اپنے تمام انبیا ؑ کو، اور انبیا ؑکی معرفت ان کی پیرو اُمتوں کو یہ اصولی ہدایت دی کہ:
یٰٓاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ط (المومنون ۲۳:۵۱)
یعنی اے میرے رسولو ؑ! پاکیزہ روزیاں کھائو اور عملِ صالح پر کاربند رہو۔
یہ چھے سات الفاظ کا یہ مختصر ارشاد ایسا ہے کہ اُصولی طور پر قریب قریب پورے دین کا منشا اس میں آگیا ہے۔یعنی اگر کوئی شخص رزقِ حلال و طیب کی پابندی کے ساتھ عملِ صالح میں زندگی گزارتا ہے، تو گویا اس نے حسنۂ دنیا کو بھی پالیا اور حسنۂ آخرت کو بھی۔
امام غزالیؒ کیمیاے سعادت میں لکھتے ہیں کہ غذا سے بدن کا گوشت اور خون پیدا ہوتا ہے۔ پس اگر غذا حرام ہو تو اس سے قساوت، یعنی سختی پیدا ہوتی ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ عبادت کے ۱۰ جز ہیں۔ ان میں نو کا تعلق رزقِ حلال سے ہے۔
طبرانی کی روایت ہے کہ ایک دن حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے کھڑے ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! میرے لیے دُعا کیجیے کہ اللہ مجھے مستجابُ الدعوات بنا دے۔ آپؐ نے فرمایا: اے سعد! اپنی خوراک کو پاکیزہ کرلو، تمھاری دعائیں قبول ہونے لگیں گی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! بندہ جب ایک لقمہ حرام کا اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اللہ تعالیٰ ۴۰ دن تک اس کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا۔
؎ دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
پانی: پانی اللہ کی عظیم نعمت ہے،پانی بچاؤ زندگی بچاؤ تو آپ کی سماعتوں سے نعرہ گزرا ہوگا یقیناً، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہے:
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ﴿٣٠﴾
ترجمہ: اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے(سورۃ انبیاء ، آیت ۳۰، پارہ17)
احادیثِ مبارکہ اور پانی:
مسلمانوں کو پوری دنیا میں پانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ہمارے دین کا اہم رکن ام العبادات نماز پانی کے بغیر ممکن نہیں وضو، غسل، طہارت و پاکیزگی کا دارو مدار صرف پانی ہی پر ہے۔آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا ایسی کون سی شے ہے کہ جس سے انسانوں کو منع نہیں کیا جا سکتا ؟تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ چیز پانی ہے۔(بخاری، حدیث نمبر۳۴۷۷)
ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو سب کے لئے عام ہیں ۔ ایک پانی دوسری گھاس تیسری ہوا۔(ابو داؤد)
پانی گندہ کرنا ،خراب کرنا اور ناپاک کرنے کے بارے میں ہمیں آپ ﷺ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ تم میں سے کوئی شخص بہتے ہوئے پانی میں پیشاب و پاخانہ نہ کرے،پانی ضرورت سے زیادہ فروخت کرنے کی آپ ﷺ نے ممانعت فرمائی کہ دولت مند ہے وہ زیادہ خرید لے اور غریب نہ خرید سکے۔ سخت ضرورت کے تحت ہی بیچا جائے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ضرورت سے زیادہ پانی فروخت مت کرو(ابو داؤد)
حضور نبی کریم ﷺ خود پانی کا استعمال نہایت کفایت شعاری سے کیا کرتے ۔ آپ ﷺایک مرتبہ نہر کے کنارے وضو فر ما رہے ہیں،آپ برتن میں الگ پانی لیتے ہیں اس سے وضو کرتے ہیں او رجو پانی بچ جاتا ہے اس کو دوبارہ نہر میں ڈال دیتے ہیں۔
ایک صحابی بارگاہِ رسول میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے گناہ بہت زیادہ ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ پیاسوں کو پانی پلاؤ تمہارے گناہ ایسے جھڑ جائیں گے جیسے درختوں سے پتّے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صحرا میں ایک عابد اور ایک گنہگار شخص کا گزر ہوا، قریب تھا کہ عابد پیاس کی وجہ سے دم توڑ دے مگر گنہگار شخص نے اسے اپناپانی پلادیا اور خود پیاسا رہ گیا ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ صرف ایک شخص کو پانی پلانے کے عوض میں میدان محشر میں رب کریم گناہ گار شخص کی مغفرت فرما کر اس کو جنت عطا فرمائے گا۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔