جمعرات، 22 دسمبر، 2022

حدیث نمبر8 - الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ

0 Comments

 


حدیث نمبر8

 الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ، وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِمَّا فِي يَدَيِ اللَّهِ، وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَنْتَ أُصِبْتَ بِهَا أَرْغَبَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ " ,

 قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

حضرت ابوذر غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”زہد اور دنیا سے بے رغبتی صرف حلال کو حرام کردینے کا نام نہیں بلکہ زہد یہ ہے کہ جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے وہ اس سے زیادہ قابل ِ اعتماد نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور جب تجھے مصیبت پہنچے تو اس کےثواب میں زیادہ رغبت رکھے اور یہ تمنا ہو کہ کاش یہ میرے لیے باقی رہتی ہے‘‘۔

امام ترمذی ؒکہتے ہیں:

۱- یہ حدیث غریب ہے اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

۲- راوی حدیث عمرو بن واقد منکرالحدیث ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2340]

تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/الزہد 1 (4100) (تحفة الأشراف: 11925) (ضعیف جداً) (سند میں عمرو بن واقد متروک الحدیث راوی ہے)»

وضاحت: اس حدیث مبارکہ میں زہد کی تعریف اور مصیبت پر صبر کرنے کے باعث کہ وہ اللہ کی جانب سے ہے ثواب کو مژدہ سنایاگیاہے۔ اسی لیے صوفیائے کرام حلال کو اپنے اوپر حرام نہیں کرتے، اللہ کی نعمتوں سے فائدہ حاصل کرکے اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور کسی نعمت کے ضائع ہوجانے یا چھن جانے پر افسوس نہیں کرتے بلکہ’’قُلْ کُل مِّنْ عِنْدِ اللہ ‘‘(آپ فرمادیں کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے)۔ 

(سورۃ النِّسَآء، آیت 78،پارہ 5)آیت کی روشنی میں صبر وقناعت اور توکل علی اللہ کاعملی مظارہ کرتے ہیں۔

کچھ راوی کے بارے جانتے ہیں پہلے:

صحابی۔ جُنْدُب بن جُنَادَة نام، ابوذر کنیت، شیخ الاسلام لقب۔ قبیلہ بنو غفار سے تھے جس کا پیشہ رہزنی تھا۔ ابتدا میں آپ نے بھی آبائی پیشہ اختیار کیا لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کی خبر سنی تو مکہ آکر اسلام قبول کر لیا۔ عظیم المرتبت محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ سے بے شمار احادیث مروی ہیں۔ بڑے قناعت پسند اور سادہ مزاج تھے۔ مال و زر کے معاملے میں قلندرانہ مسلک رکھتے تھے۔

چونکہ ابوذرؓ جاہلیت ہی سے راہِ حق کے متلاشی تھے، اس لیے حق کی پکار سنتے ہی لبیک کہا اوراس وقت دعوت حق کا جواب دیا، جب چار آدمیوں کے سوا ساری دنیا کی زبانیں اس اعلانِ حق سے خاموش تھیں، اس اعتبار سے اسلام لانے والوں میں ان کا پانچواں نمبر ہے، ان کے اسلام کا واقعہ خاص اہمیت رکھتا ہے یہ دلچسپ داستان خود ان کی زبان سے مروی ہے، ان کا بیان ہے کہ جب میں قبیلہ غفار میں تھا تو مجھ کو معلوم ہوا کہ مکہ میں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، میں نے اپنے بھائی کو واقعہ کی تحقیق کے لیے بھیجا وہ واپس آئے تو میں نے پوچھا، کہو کیا خبر لائے؟ انہوں نے کہا خدا کی قسم یہ شخص نیکیوں کی تعلیم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے، اس قدر مجمل بیان سے میری تشفی نہیں ہوئی، اس لیے میں خود سفر کا مختصر سامان لے کر مکہ چل کھڑا ہوا۔

وہاں پہنچا تو یہ دقت پیش آئی کہ میں رسول اکرم کو پہچانتا نہ تھا اورکسی سے پوچھنا بھی مصلحت نہ تھی، اس لیے خانۂ کعبہ میں جاکر ٹھہر گیا اور زمزم کے پانی پر بسر کرنے لگا، اتفاق سے ایک دن علیؓ گذرے، انہوں نے پوچھا تم مسافر معلوم ہوتے ہو، میں نے کہا، ہاں وہ مجھ کو اپنے گھر لے گئے،لیکن مجھ سے ان کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی، صبح اُٹھ کر میں پھر کعبہ گیا کہ لوگوں سے اپنے مقصود کا پتہ دریافت کروں کیوں کہ ابھی تک حضور ﷺ کے حالات سے بے خبر تھا، اتفاق سے پھر علیؓ گذرے اور پوچھا کہ اب تک تم کو اپنا ٹھکانہ نہیں معلوم ہوا، میں نے کہا نہیں، وہ پھر دوبارہ مجھ کو اپنے ساتھ لے چلے، اس مرتبہ انہوں نے پوچھا، کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا اگر اس کو راز میں رکھیں تو عرض کروں، فرمایا مطمئن رہو، میں نے کہا میں نے سنا تھا کہ یہاں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، پہلے اس خبر کی تصدیق اوراس شخص کے حالات دریافت کرنے کے لیے میں نے اپنے بھائی کو بھیجا، مگر وہ کوئی تشفی بخش خبر نہ لایا، اس لیے اب میں خود اس سے ملنے آیا ہے، حضرت علیؓ نے فرمایا تم نے نیکی کا راستہ پالیا، سیدھے میرے ساتھ چلے آؤ، جس مکان میں میں جاؤں تم بھی میرے ساتھ چلے آنا، راستہ میں اگر کوئی خطرہ پیش آئے گا، تو میں جوتا درست کرنے کے بہانے سے دیوار کی طرف ہٹ جاؤں گا اور تم بڑھے چلے جانا، چنانچہ میں حسب ہدایت ان کے ساتھے ہولیا اورآنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ میرے سامنے اسلام پیش کیجئے، آپ نے اسلام پیش کیا اورمیں اسلام کے عقیدت مندوں میں شامل ہوگیا۔

قبول اسلام کے بعد آپ نے فرمایا ابوذرؓ ابھی تم اس کو پوشیدہ رکھو اوراپنے گھر لوٹ جاؤ، میرے ظہور کے بعد واپس آنا، میں نے قسم کھا کر کہاکہ میں اسلام کو چھپا نہیں سکتا، ابھی لوگوں کے سامنے پکار کر اعلان کروں گا، یہ کہہ کر مسجد میں آیا، یہاں قریش کا مجمع تھا، میں نے سب کو مخاطب کرکے کہا کہ قریشیو! میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمد اس کے بندہ اور رسول ہیں، یہ سن کر ان لوگوں نے للکاراکہ اس بے دین کو لینا، اس آواز کے ساتھ ہی چاروں طرف سے لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور مارتے مارتے بے دم کردیا، یہ درد ناک منظر کو دیکھ کر حضرت عباسؓ سے ضبط نہ ہوسکا، وہ مجھ کو بچانے کے لیے میرے اوپر گرپڑے اوران لوگوں سے کہا کہ تم لوگ ایک غفاری کی جان لینا چاہتے ہو ؛حالانکہ یہ قبیلہ تمہاری تجارت کا گذرگاہ ہے، یہ سن کر سب ہٹ گئے؛لیکن اسلام کا وہ نشہ نہ تھا جس کا خمار قریش کے غیظ و غضب کی ترشی سے اتر جاتا، دوسرے دن پھر اس حق گو کی زبان پر یہ نعرہ مستانہ تھا۔ 

در عجابہائے طورعشق حکمتہا کم است

 عشق رابا مصلحت اندیشی مجنوں چہ کار 

اور پھر وہی مسجد تھی وہی صنادید قریش کا مجمع تھا اور وہی ان کی ستم آرائی تھی۔ 

(مستدرک حاکم:338، 339/3، وبخاری باب بنیان الکعبہ، مسلم، جلد2، فضائل ابی ذرؓ)

ہم بات کررہے تھے زہد اور دنیا سے بے رغبتی صرف حلال کو حرام کردینے کا نام نہیں بلکہ زہد یہ ہے کہ جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے وہ اس سے زیادہ قابل ِ اعتماد نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور جب تجھے مصیبت پہنچے تو اس کےثواب میں زیادہ رغبت رکھے اور یہ تمنا ہو کہ کاش یہ میرے لیے باقی رہتی ہے۔

زہد کا معنی ہے ’’رک جانا‘‘

حضرت سفیان بن عینیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ زہد میں صرف تین حروف ہیں حرف (ز) کا معنی زینتِ دنیا کو ترک کرنا ہے۔ 

حرف (ہ) سے ہوائے نفس یعنی اپنے دل کی خواہش کو چھوڑنا مراد ہے اور 

(د) سے تمام دنیا کو ترک کرنا مراد ہے ۔

    پس جب تو ان چیزوں سے منہ موڑے تو اس وقت زاہد کہلانے کا حقدار ہو گا۔پس زہد یہ ہے کہ شریعت جس چیز کی اجازت دے اسے اختیار کرے اور باقی سب چھوڑ دے۔

یہاں ایک بات عرض کرتا ہوں کہ اللہ کریم کا ارشاد گرامی ہےکہ:

وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِo(سورۃ الْبَلَد،آیت10،پارہ30)

اور ہم نے اسے (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے (بھی) دکھا دیئے۔

اصل بات یہ ہے کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور سب پر عمل کرنے والا انسان خود ہے اگر سوال ہی نہ ہو تو امتحان کس چیز کا یعنی کہ بُرائی بھی نہ ہو تو پھر سزا کس بات کی۔انسان کو ہم نے دونوں راستے بتا دیے ہیں کہ یہ برائی کا راستہ ہے اور یہ نیکی کا راستہ اور انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے وہ اللہ کی اطاعت کرے یا شیطان کی۔ اگر وہ برائی کرتا ہے تو یہ اس کا اپنا فعل ہے اور اپنی مرضی سے کیا ہے اس لیے اس کو سزا دی جائے گی۔

حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی  ؒفرماتے ہیں: ’’حقیقی زاہد تو وہ ہے جس کی پاس دنیا ذلت کے ساتھ حاضر ہو،اس کے حصول کے لئے مشقت بھی نہ اُٹھانی پڑےاور وہ کسی بھی قسم کا نقصان اُٹھائے بغیر دنیا کو استعمال کرنے پر قادر ہو۔ مثلاً عزت میں کمی ، بدنامی یا کسی خواہِشِ نفس کے فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو لیکن وہ اس خوف سے دنیا کو ترک کردے کہ اسے اختیار کرکے میں اس سے مانوس ہوجاؤں گا اور یوں اللہ کریم کے علاوہ کسی اور سے مانوس ہونے اور محبت کرنے والوں نیز اس کی محبت میں غیر کو شریک کرنے والوں میں شامل ہوجاؤں گا۔(احیاء العلوم)

آزمائش پر راضی رہنے والے کے بارے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا:

إِنَّ عِظَمَ الْجَزَائِ مَعَ عِظَمِ الْبَـلَائِ، وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا اِبْتَـلَاھُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَہُ الرِّضٰی، وَمَنْ سَخِطَ فَلَہُ السُّخْطُ(احیاء العلوم)

''بڑا ثواب، بڑی آزمائش کے ساتھ ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو کسی آزمائش میں ڈال دیتا ہے، جو اس آزمائش پر راضی ہوا (اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط گمان نہ رکھا) تو اس کے لئے رضا ہے اور جو آزمائش پر ناراض ہو (صبر کی بجائے غلط شکوے اور گمان کئے) تو اس کے لئے ناراضی ہے۔''

یعنی وہ انسان مراد ہے جسے اللہ تعالیٰ مختلف مصائب اور آزمائش میں مبتلا کرے لیکن وہ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے اور آزمائش کے باوجود اللہ تعالیٰ کے متعلق گمان اچھا ہی رکھتا ہے. چنانچہ خوشنودی اور مصیبت کے مطابق ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر آزمائش ناراضی کی وجہ سے نہیں ڈالتا بلکہ یا تو مکروہ چیز کو دور کرنے کے لئے یا گناہوں کے کفارے کے لئے اور یا مرتبہ بلند کرنے کے لئے آزماتا ہے اور بندہ جب خوشی خوشی اسے قبول کرلیتا ہے تو یہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے، (1 صحیح سنن الترمذي، رقم: ۱۹۵۴)

میرے آقا جان کائنات ﷺ فرماتے ہیں:(أخرجہ البخاري في کتاب المرضی، باب: ما جاء في کفارۃ المرض، رقم: ۵۶۴۱، ۵۶۴۲)

مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمُ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا ھَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا أَذًی وَلَا غَمٍّ ... حَتّٰی الشَّوْکَۃِ یُشَاکُھَا ... إِلاَّ کَفَّرَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ خَطَایَاہ

'مسلمان کو کوئی بھی دکھ و تکلیف و رنج و غم آئے یا صدمہ پہنچے یہاں تک کہ ایک کانٹا بھی اگر چبھے ہر دکھ کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔

نیز رسول اکرم ﷺنے فرمایا:

 عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ مَرَضِہِ وَھُوَ یُوْعَکُ وَعْکًا شَدِیْدًا فَقُلْتُ: إِنَّکَ لَتُوْعَکُ وَعْکًا شَدِیْدًا، قُلْتُ: إِنَّ ذَاکَ بِأَنَّ لَکَ أَجْرَیْنِ، قَالَ: أَجَلْ مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَصِیْبُہُ أَذًی إِلاَّ حَاتَّ اللّٰہُ عَنْہُ خَطَایَاہُ کَمَا تَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَر ( أخرجہ البخاري في کتاب المرضی، باب: شدۃ المرض، رقم: ۵۶۴۷)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی مکرم ﷺکے پاس آپ کی بیماری کی حالت میں گیا (بیمار پرسی کے لئے) ۔ آپ ﷺکو شدید بخار تھا۔ میں نے عرض کیا: بے شک آپﷺ تو شدید بخار میں مبتلا ہیں۔ اورمیں نے کہا اگر ایسی حالت ہے تو پھر آپﷺ کے لیے اَجر بھی دوہرا ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیوں نہیں'' جس مسلمان کو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں ایسے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ جھاڑتا ہے۔"

ان احادیث میں ہر مومن کے لئے بشارت ہے کیونکہ اکثر اوقات انسان مذکورہ تکالیف میں سے کسی نہ کسی میں ضرور مبتلا ہوتا ہے، تو معلوم ہوا کہ امراض و تکالیف بدنی ہوں یا قلبی ان کی وجہ سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

حضور محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کے واقعہ عرض کرتا ہوں جو کہ ہمیں دنیا سے بے رغبتی کی طرف ہماری توجہ مبذول کرواتا تاکہ ہم تقویٰ اختیار کرسکیں۔

    محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کی مادر گرامی حضرت بی بی زلیخا رحمۃ اللہ علیہ ایک امیر و کبیر بزرگ حضرت خواجہ عرب رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی تھیں - لیکن آپ نے اپنے والد کی دولت کے ذخائر کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ۔ انتہا یہ ہے کہ بیوگی کا لباس پہننے کے بعد اس دروازے کی جانب نگاہ نہ کی ۔ جہاں آپ کا پورا بچپن اور جوانی کے ابتدائی چند سال گزرے تھے ۔ آپ دن رات سوت کاتتیں اور پھر اسے ملازمہ کے ہاتھ بازار میں فروخت کرا دیتیں ۔ اس طرح جو کچھ رقم حاصل ہوتی، اس سے گزر اوقات کرتیں۔ یہ آمدنی اتنی قلیل ہوتی کہ معمولی غذا کے سوا کچھ ہاتھ نہ آتا ۔ تنگ دستی کا یہ حال تھا کہ شدید محنت کے باوجود ہفتے میں ایک فاقہ ضرور ہو جاتا۔

     جس روز فاقہ ہوتا اور حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ مادر گرامی سے کھانا مانگتے تو حضرت بی بی زلیخا رحمۃ اللہ علیہا بڑے خوشگوار انداز میں فرماتیں 

’’ بابا نظام! آج ہم سب اللّٰہ کے مہمان ہیں ‘‘ 

حضرت بی بی زلیخا رحمۃ اللہ علیہا کا بیان ہے کہ میں جس روز "سید محمد" سے یہ کہتی کہ آج ہم لوگ اللہ کے مہمان ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ۔ 

سارا دن فاقے کی حالت میں گزر جاتا مگر وہ ایک بار بھی کھانے کی کوئی چیز طلب نہ کرتے اور اس طرح مطمئن رہتے کہ اللہ کی مہمانی کا ذکر سن کر انہیں دنیا کی ہر نعمت میسر آگئی ہو ۔ پھر جب دوسرے روز کھانے کا انتظام ہوجاتا تو حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ اپنی محترم ماں کے حضور عرض کرتے ’’ مادر گرامی ! اب ہم کس روز اللہ کے مہمان بنیں گے ؟ ‘‘ والدہ محترمہ جواب دیتیں ’’ بابا نظام! یہ تو ﷲ کی مرضی پر منحصر ہے ۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ۔ دنیا کی ہر شے اس کی دست نگر ہے ۔ وہ جب بھی چاہے گا تمہیں اپنا مہمان بنالے گا‘‘ ۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ مادر گرامی کی زبان سے یہ وضاحت سن کر چند لمحوں کے لئے خاموش ہوجاتے اور پھر نہایت سرشاری کے عالم میں یہ دعا مانگتے ۔ اے ﷲ ! تو اپنے بندوں کو روزانہ اپنا مہمان بنا ۔

اﷲ کی مہمانی کا واضح مطلب یہی تھا کہ اس روز فاقہ کشی کی حالت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ پانچ سال کی عمر میں یہ دعا، یہ خواہش اور یہ آرزو! اہل دنیا کو یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوگی،مگر وہ جنہیں اس کائنات کا حقیقی شعور بخشا گیا اور جن کے دل و دماغ کو کشادہ کردیا گیا- وہ اس راز سے باخبر ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا تھا۔یہ تھی دنیا سے بے رغبتی کی انتہا۔

دنیاوی متاع و خواہشات

دنیا کی محبت میں گرفتار مالداروں کی بات ماننا دین کوبرباد کر دیتا ہے ۔ مال اور مالدار فی نَفْسِہٖ نہ برے ہیں اور نہ اچھے بلکہ مال کا غلط استعمال اور ایسے مالدار برے ہیں اور چونکہ مالدار عموماً نفس پرستی میں  پڑ جاتے ہیں اسی لیے ان کی مذمت زیادہ بیان کی جاتی ہے ۔ اسی سے ملتا جلتا ایک حکم حدیث ِ مبارک میں  ہے ۔ چنانچہ 

حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سے روایت ہے ، جان کائناتﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ میری امت میں  سے کچھ لوگ علمِ دین سیکھیں گے ، قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم امیروں کے پاس اس لیے جاتے ہیں  تاکہ ان سے دنیا حاصل کرلیں اور اپنے دین کو ان سے جدا رکھتے ہیں حالانکہ یہ نہیں ہو سکتا جیسا کہ کانٹے والے درخت سے پھل توڑنے میں کانٹے ہی ہاتھ آتے ہیں اسی طرح وہ ان کے قرب میں گناہوں سے نہیں  بچ سکتے ۔ (سنن ابن ماجہ)

حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ اگر علماء علم حاصل کرنے کے بعد اسے محفوظ رکھتے اور اسے اہل لوگوں  کے سامنے پیش کرتے تو اہلِ زمانہ کے سردار بن جاتے لیکن انہوں  نے اسے دنیا والوں  پر اپنی دنیا حاصل کرنے کےلیے خرچ کیا اس وجہ سے ذلیل ہو گئے ۔ میں  نےرسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے ’’ جس شخص کی ساری فکر آخرت کے متعلق ہے تو اللّٰہ تعالیٰ دنیا کے غموں  سے اس کی کفایت فرمائے گا اور جو شخص دنیاوی اُمور میں  پریشان ہوتا رہے گا اللّٰہ تعالیٰ کو اس کی پروا  نہیں  چاہے وہ کسی وادی میں  بھی گر کر مرے ۔(سنن ابن ماجہ )

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور ﷺنے ارشاد فرمایا ’’ جو شخص علم صرف اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کےلیے نہیں  بلکہ دنیاوی مَقاصد کےلیے حاصل کرے تو قیامت کے دن وہ جنت کی خوشبو ہر گز نہیں  پائے گا ۔ (سنن ابوداؤد)

حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بندے کو چاہیے کہ خود کو ﷲ کی کفالت ، نگرانی میں اس طرح دے دے جیسے مُردہ غسّال کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔یعنی جس طرح غسّال میت کو نہلاتا ہے ، اسے الٹا سیدھا ، دائیں بائیں پلٹتا ہے ، اس وقت اس مُردے کی مرضی نہیں رہتی بلکہ وہ مکمل طور پر غسّال کے رحم و کرم پر ہوتا ہے ۔ اسی طرح بندہ بھی اپنے آپ کو اپنے مولیٰ کے سپرد کردے اور اُس کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اس کی تعلیمات و احکامات کو اپنے ہر معاملہ پر غالب کر دے ۔ اس لیے کہ مُردہ کہتے ہی اس کو ہیں جس کی مرضی نہ رہے ، جس کی اپنی حرکت اور ترجیح نہ رہے ، غسّال جیسے چاہے ، اپنی مرضی مُردے پر چلاتا ہے ۔ گویا جب تک بندہ بشکلِ مُردہ اپنے آپ کو ﷲ کے امر کے سپرد نہ کر دے ، ولایت تک نہیں پہنچ سکتا ۔

توکل کا مقام حقیقتِ اخلاص کے بغیر نہیں ملتا اور حقیقتِ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ بندہ عمل کرے مگر کسی عمل کا معاوضہ اور اجر و جزا طلب نہ کرے۔ بندہ جب تک دنیا اور آخرت کے ہر معاوضے سے آزاد نہ ہوجائے، اس کا قلب و باطن اللہ تعالیٰ سے متصل نہیں ہوتا۔

سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے الفتح الربانی میں ارشاد فرمایا:

لوگو! تمہارے اندر نفاق بڑھ گیا ہے اور اخلاص کم ہو گیا، اقوال بڑھ گئے اور اعمال کم ہو گئے ہیں اور جس میں نفاق بڑھ جائے، اخلاص کم ہو جائے تو وہ بندے قربِ حق کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں۔


0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔