منگل، 20 دسمبر، 2022

حدیث نمبر 7 كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ

0 Comments


حدیث نمبر 7

كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي بِمِنْكَبِي، فَقَالَ: " كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ، وَعُدَّ نَفْسَكَ فِي أَهْلِ الْقُبُورِ "، فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: إِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالْمَسَاءِ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالصَّبَاحِ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ قَبْلَ مَوْتِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا اسْمُكَ غَدًا، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوَهُ.

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الرقاق 3 (6416)، سنن ابن ماجہ/الزہد 3 (4114) (تحفة الأشراف: 7386)، و مسند احمد (2/24، 131) (صحیح)

كُنْ    ہونا    -    غَرِيبٌ        اجنبی    -       عَابِرُ    عارضی   سَبِيلٍ    راستہ

نَفْسَكَ    اپنے آپ کو    -    أَهْلِ الْقُبُورِ -    اہل قبور

ترجمہ: حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں۔’’ حضور اکرم ﷺنے میرےجسم پر ہاتھ رکھااور فرمایا دنیا میں اجنبی یا مسافر کی طرح رہو اوراپنے آپ کو اہل قبور سے  شمار کروـ‘‘۔پھر آپ نے فرمایا اے ابن عمر !صبح کے وقت شام کی باتین نہ کیا کرو اور شام کے وقت صبح کی باتیں دل میں نہ لاؤ، بیمار ہونے سےپہلے صحت سے فائدہ اُٹھاؤ اور موت سے پہلے زندگی سے نفع اُٹھاؤ کیونکہ اے عبداللہ تو نہیں جانتا کل تیرا نام کیا ہوگا۔

* وضاحت: اس حدیث مبارکہ میں دنیا کی مختصر سی زندگی کا بیان ہے جس میں اشارۃًمسافر کو اپنی اخری منزل پر پہنچ کر سکون کے ساتھ رہنے کے لیے اعمال ِ صالحہ کی ترغیب دی گئی ہے۔صوفیائےکرام دنیا میں اجنبی مسافر ہی کی طرح زندگی گزارتے ہیں اور اس مختصر سے سفرِ حیات میں صحت 

اور زندگی سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے توشۂ آخرت تیار کرتے ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ارشاد فرمایا:

(کُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ)

’’ دنیا میں ایک اجنبی یا ایک مسافر کی طرح رہو۔‘‘

اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے:

(إِذَا أَمْسَیْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ الْمَسَائَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِکَ لِمَرَضِکَ ، وَمِنْ حَیَاتِکَ لِمَوْتِکَ)

’’ جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار مت کرو اورجب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار مت کرو۔ اور تندرستی کی حالت میں اتنا عمل کر لو کہ جو بیماری کی حالت میں بھی کافی ہو جائے۔اور اپنی زندگی میں اس قدر نیکیاں کما لوکہ جو موت کے بعد بھی تمھارے لئے نفع بخش ہوں۔‘‘[البخاری:۶۴۱۶ ] 

مسند احمد وغیرہ میں اس حدیث کے الفاظ یوں ہیں:

(کُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ، وَعُدَّ نَفْسَکَ مِنْ أَہْلِ الْقُبُوْرِ)

’’ دنیا میں ایک اجنبی یا ایک مسافر کی طرح رہو اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو۔‘‘[ الصحیحۃ للألبانی:۱۱۵۷ ]  

اورحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:(أَکْثِرُوْا ذِکْرَ ہَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتَ)

’’ لذتوں کو ختم کردینے والی چیز یعنی موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا کرو۔‘‘[ صحیح الجامع للألبانی:۱۲۱۱ ]

اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا کہ اچانک ایک انصاری آیا ، اس نے نبی کریمﷺ  کو سلام کہا ، پھر کہنے لگا:اے اللہ کے رسول ! مومنوں میں سب سے افضل کون ہے ؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(أَحْسَنُہُمْ أَخْلَاقًا)’’ ان میں جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔‘‘ 

اس نے پھر پوچھا:مومنوں میں سب سے زیادہ عقلمند کون ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا:

(أَکْثَرُہُمْ لِلْمَوْتِ ذِکْرًا وَأَحْسَنُہُمْ لِمَا بَعْدَہُ اسْتِعْدَادًا،أُولٰئِکَ الْأکْیَاسُ)

’’ ان میں جو سب سے زیادہ موت کویاد کرنے والا ہواور جو موت کے بعد آنے والے مراحل کیلئے سب سے زیادہ تیاری کرنے والا ہو وہی زیادہ عقلمند ہے۔ ‘‘

[ ابن ماجہ:۴۲۵۹۔وصححہ الألبانی ] 

*دنیا میں اس طرح رہ جس طرح کہ تو ایک پردیسی ہے یا راہ گزرنے والا۔ دونوں کا فرق یہ ہے کہ بعض اوقات مسافر چل رہا ہوتا ہے اور بعض اوقات کچھ دیر کے لیے کہیں عارضی اقامت بھی اختیار کر لیتا ہے پہلی صورت میں وہ عابر سبیل ہے دوسری صورت میں غریب۔

* پردیسی آدمی اگر کہیں کچھ دیر کے لیے ٹھہر بھی جائے تو وہ دل نہیں لگاتا کیونکہ اس کی منزل آگے ہوتی ہے زیادہ سامان اور جائیداد نہیں بناتا کیونکہ اس نے وہاں رہنا نہیں ہوتا اور اسے یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ اس کا لباس اور وضع قطع اس شہر کے لوگوں جیسی ہے یا نہیں کیونکہ اس نے وہاں سے چلے جانا ہوتا ہے اس کا لوگوں سے زیادہ میل جول نہیں ہوتا کیونکہ وہ اس کے ہم وطن نہیں ہوتے اور جو مسافر ابھی راہ طے کر رہا ہو وہ اتنا سامان بھی نہیں اٹھاتا جو کسی پردیسی کے عارضی اقامت کے دوران جمع ہو جاتا ہے صرف اتنا سامان ساتھ لیتا ہے جس کے بغیر چارہ نہیں۔ حدیث میں رہنمائی کی گئی کہ پردیسی کی طرح دنیا میں رہ یا راہ گیر کی طرح دونوں طرح اجازت ہے مگر اسے وطن نہ بنا لو۔ یا «اَوْ» بمعنی «بَلْ» ہے یعنی دنیا میں پردیسی کی طرح رہو بلکہ (بہتر ہے کہ) راہ گیر کی طرح رہو مطلب یہ ہے کہ دنیا میں زہد اختیار کرو اور صرف اتنے سامان پر گزارا کرو جس کے بغیر چارہ نہیں۔

*”جب تو شام کرے تو صبح کا انتظار نہ کر“ یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے یعنی لمبی امیدیں نہ باندھ بلکہ اپنی موت کو بالکل قریب سمجھ۔ جب موت انسان کی پیش نظر ہو تو وہ ہر وقت ایسی حالت میں رہتا ہے کہ موت آ جائے تو اسے ندامت نہ ہو۔ ہر وقت اللہ سے ڈرتا ہے اور مستعد رہتا ہے:

«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» 

[3-آل عمران:102]

”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت ہرگز نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔“

* ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ صحت اور زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی چیزیں نہیں بیماری اور موت بھی انسان کی گھات میں ہیں اس لئے اسے چاہئیے کہ صحت کی حالت میں بیماری کے لیے اعمال ذخیرہ کر لے اور زندگی میں موت کے لئے سامان مہیا کر لے۔


 

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔