منگل، 20 دسمبر، 2022

حدیث نمبر 6ء أَلاَ إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ

0 Comments



حدیث نمبر 6ء

أَلاَ إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ

حدثنا محمد بن حاتم المكتب، حدثنا علي بن ثابت، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، قال: سمعت عطاء بن قرة، قال، سمعت عبد الله بن ضمرة، قال: سمعت عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يقول: 

 اَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ : أَلاَ إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلاَّ ذِكْرُ اللهِ وَمَا وَالاَهُ وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ .

 قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب.(رواه الترمذى وابن ماجه)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے مگر اللہ کا ذکر جسے وہ پسند کرے۔


 مَلْعُونَةٌ     لعنتی         مَا فِيهَا    اس میں کیا ہے        عَالِمٌ    دینا مراد ہے

مُتَعَلِّمٌ     سیکھنے والا

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah;s Messenger (ﷺ) say, “ The world is accursed, and accursed is whatever it contains except mention of Allah, that which is dear to Him and the scholar or the student]”  Ibn e Majah 4112[

وضاحت:

یہی وجہ ہے کہ صوفیاء کرام ذکر سری و جہری ، قلبی ولسانی حتیٰ کہ پاس انفاس کے ذریعے ہر سانس اور دل کی ہر دھڑکن سے بھی ’’ذکر الٰہی‘‘ میں مشغول رہتے ہیں اور تحصیل علم کے ساتھ ساتھ رشد و ہدایت کا فریضہ انجام دیتےہیں،اور ان کے دل میں اس دنیائے فانی کی کوئی محبت 

نہیں ہوتی بلکہ وہ آلائش دنیاوی سے اجتناب کرتے ہیں۔

خذکر سری(خفی):ذکر خفی سے مراد وہ ذکر جو مخفی اور پوشیدہ ہو۔  حدیث ِ قدسی ہے اَلْاِنْسَانُ سِرِّیْ وَ اَنَا سِرُّہٗ (ترجمہ: انسان میرا راز 

ہے اور میں انسان کا راز ہوں)۔ مطلب کے خاموشی سے ذکر کرنا۔بغیر آواز کے اللہ کے ذکر میں مشغول ہونا۔(یعنی خفی ذکر)

خذکر جہری: مطلب کہ بلند آواز سے ذکر کرنا۔ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ.

’’ایمان والے (تو) صرف وہی لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو) ان کے دل (اس کی عظمت و جلال کے تصور سے) لرز جاتے ہیں‘‘۔(الانفال،آیت 2،پارہ9)۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا 

ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہیں‘‘۔اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے پر لوگ تبھی دیوانہ کہیں گے جب لوگ سنیں گے اور سن، اسی وقت 

سکتے ہیں جب ذکر بالجہر ہو گا۔(ابن حبان)

خذکر لسانی:زبان سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا ذکرِ لسانی کہلاتا ہے یہ ذکر کا درمیانہ درجہ ہے۔ اس میں دھیمی آواز زیادہ پسندیدہ سمجھی جاتی ہے۔ ایسے ذکر کے دوران ریاکاری سے بچنا چاہیے۔ نماز پڑھنا، قرآن کی تلاوت اور مسنون دعائیں ذکر ِلسانی کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس کو ذکرِ جلی بھی 

کہتے ہیں۔

خذکر قلبی:ذکرِ قلبی کی فضیلت بدرجہا ذکرِ زبانی سے زیادہ ہے۔ البتہ اگر اللہ تعالیٰ کسی بندے پر خصوصی فضل فرمانا چاہے اور اپنے حضور اسے خوش قسمت بندہ لکھ دے اور اس کو یہ توفیق دے کہ ہر وقت زبانی ذکر بھی کرتا رہے اور اسکا دل بھی اسی کے موافق ذکر میں شاغل رہے اور اسے زبانی 

ذکر سے قلبی ذکر کی طرف ترقی حاصل ہوجائے۔ یہاں تک کہ اگر زبان خاموش ہو پھر بھی دل خاموش نہ ہو، اسی کو ذکرِ کثیر کہا جاتا ہے۔

خپاس انفاس:اس سے مراد اصطلاح تصوف میں وہ طریقہ ذکر ہے ،جس میں سانس کی آمد وشد دھیان کر کے اللہ ھو کا ذکر کیا جاتا ہے۔انفاس (سانسیں) جمع ہے نَفَس  (سانس) کی ،تو پاسِ انفاس کا مطلب ہوا ،اپنی سانسوں کا دھیان رکھنا ،اس کا  دوسرا مفہوم ہے” اپنی سانسوں کا ادب کرنا"۔  پاسِ انفاس ہمہ وقت یادِ الٰہی میں مشغول رہنے کا نام ہے۔ دن بھر اپنے فرائضِ منصبی کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اپنی سانسوں کا دھیان رکھیں۔بلکہ میں تو کہتا ہوں یہ سب مرشد ہی کی توجہ کا کمال ہوتا ، حضور امین ملت خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالیٰ نے جب نقشبندی اذکار تعلیم فرمائے تھےتو یہ تعلیم فرمایا تھا کہ’’ اللہ ‘‘پڑھتے ہوئے سانس اندر اور’’ ھو ‘‘پڑھتے ہوئے سانس باہر۔سالک کو چاہئے کہ وہ اپنی ہر سانس کویادِ الٰہی میں لگائے، سانس ہی ایک ایسا ذریعہ ہے کہ جس سے "ذکراً کثیرا"  کو پایا جاسکتا ہے۔ 

*ذکرِعملی : اس سے مراد اپنے نیک اعمال سے اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ عبادات کی تمام اقسام ذکر ِعملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ عملی ذکر میں یہ شامل ہے کہ جن چیزوں سے اللہ نے روکا ہے ان سے رک جایا جائے اور جن امور کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کو سرانجام دیا جائے۔ زندگی میں سب سے مشکل ذکر عملی ہے۔ آج مسلمان اس سے بڑی حد تک محروم ہیں۔بقول اقبال :

؎  عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری 

*امام غزالی  ؒ فرماتے ہیں: ’’جیسی باقی علوم فرض ہیں اسی طرح علم سلوک بھی فرض ہے جو علم احوال قلب ہے جیسے توکل ،خشیت، رضا باالقضاء۔دراصل اہل تصوف ہی اہل اللہ ہوتے ہیں:

(۱) اولیاء اللہ کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایک مجرب ذریعہ ہے۔(۲) اولیاء اللہ کے پاس کامیاب نسخہ ذکر الٰہی کی تلقین اور اس کا طریقہ سکھانا ہے۔

(۳) ذکر الٰہی کی کثرت اور اولیاء اللہ کی صحبت سے انسان کے دل میں اللہ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ کبھی بدبخت ہو کے نہیں مرتا۔

حضورﷺ نے فرمایا: ’’جسم انسانی میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اگر وہ ٹھیک ہو گیا تو سارا جسم درست ہو گیا اور اگر وہ بگڑا تو سارا جسم بگڑا،سنو وہ قلب ہے۔‘‘(بخاری)

ہر انسان کے سینے میں ایک ہی دل ہے اور وہی محل تجلیات باری کے لئے مخصوص ہے۔ اس لئے باری تعالیٰ اس میں غیر کا قبضہ پسند نہیں فرماتا۔ جب قلب تجلیات باری کا مسکن بن جاتا ہے تو تمام رذائل، ذلیل ہو کر چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ جب قلب کی پورے طور پر اصلاح ہو جاتی ہے تو غیر اللہ کا اس میں گزر نہیں ہوتا اور ولی اللہ کہہ اٹھتا ہے، الیس اللہ بکاف عبدہ۔﴿سورۂ زمر ، آیت 26، پارہ 24﴾معاصی کی وجہ سے قلب اندھا اور بہرہ ہو جاتا ہے مگر معالج روحانی کے علاج سے یہ امراض دور ہو جاتے ہیں۔ وہ قلب سقیم سے قلب سلیم بہرہ ہو جاتا ہے اور اُخروی 

فلاح کے لئے راس المال بن جاتا ہے۔

دنیا اور دنیا کی تمام چیزیں جو اللہ کی یاد سے غافل کردینے والی ہوں سب کی سب اللہ کے نزدیک ملعون ہیں، گویا لعنت دنیا کی ان چیزوں پر ہے جو ذکرالٰہی سے غافل کردینے والی ہوں، اس سے دنیا کی وہ نعمتیں اورلذتیں مستثنیٰ ہیں جو اس بری صفت سے خالی ہیں، مثلاً مال اگر حلال طریقے سے حاصل ہو اور حلال مصارف پر خرچ ہو تو یہ اچھا ہے، بصورت دیگر یہی مال برااورلعنت کے قابل ہے، وہ علم بھی اچھا ہے جو بندوں کو اللہ سے قریب کردے بصورت دیگریہ بھی برا ہے، اس حدیث سے علماء اور طلبائے علوم دینیہ کی فضیلت ثابت ہے۔

اس بات کو ہم اس انداز سے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ سے غافل کرنے والی یہ دنیا جس کی طلب اور چاہت میں بہت سے نادان انسان خدا کو اور آخرت کو بھول جاتے ہیں، اپنی حقیقت اور اپنے انجام کے لحاظ سے ایسی ذلیل اور ایسی مردار ہے کہ اللہ کی وسیع رحمت میں بھی اس کے لیے کوئی حصہ نہیں، البتہ اس دنیا میں اللہ کی یاد اور جن چیزوں کا اس سے تعلق ہے، خاص کر علم دین کے حاملین اور متعلمین سو اُن پر اللہ کی رحمت ہے۔ 

حاصل یہ ہے کہ اس دنیا میں صرف وہی چیزیں اور وہی اعمال اللہ کی رحمت کے لائق ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ سے اور دین سے کوئی تعلق ہو، خواہ بلا واسطہ یا بالواسطہ، لیکن جو چیزیں اور جو اعمال و اشغال اللہ سے اور دین سے بالکل بے تعلق ہیں (اور دراصل دنیا ان ہی کا نام ہے) وہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور اور محروم اور قابل لعنت ہیں۔ پس انسان کی زندگی اگر اللہ کی یاد اور اس کے تعلق سے، اور دین کے علم اور اس کے تعلیم سے خالی ہے، تو وہ رحمت کی مستحق نہیں، بلکہ لعنت کے قابل ہے۔

 

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔