.jpg)
حدیث نمبر 5
إن الرجل لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من رِضْوَانِ الله تعالٰى
عن أبي عبد الرحمن بلال بن الحارث المزني رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الرجل لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من رِضْوَانِ الله تعالى ما كان يظن أن تبلغ ما بَلَغَتْ يكتب الله له بها رِضْوَانَهُ إلى يوم يَلْقَاهُ، وإن الرجل لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله ما كان يظن أن تبلغ ما بَلَغَتْ يكتب الله له بها سَخَطَهُ إلى يوم يَلْقَاهُ». [صحيحان] - [حديث أبي هريرة -رضي الله عنه-: رواه البخاري. حديث بلال المزني -رضي الله عنه-: رواه الترمذي وابن ماجه ومالك وأحمد]
حضرت بلال بن حارث مزنیؓ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا تم سے کوئی اللہ کی رضا مندی کی بات کرتا ہے اور وہ اس درجہ کوپہنچتی ہے جس کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی اس بات کے سبب سے اس کے لیے اپنی رضا ملاقات کے دن تک لکھ دیتا ہے اور کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی بات کرتا ہے اور وہ اس مقام تک پہنچتی ہے جہاں اس کا خیال بھی نہیں ہوتا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کلام کی وجہ سے اس پر اپنی نارضگی اپنی ملاقات تک لے لیے لکھ دیتا ہے۔
وضاحت:
اس حدیث ِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی ناراضگی کا تذکرہ ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ صوفیائے کام ’’ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ۚ‘‘ (اور اللہ کی رضا مندی سب سے بڑی ہے ۔(سورۃ التوبہ ،آیت72،پارہ 10) کے پیش نظر ہمہ وقت رضائے الٰہی کے حصول میں کوشاں رہتے ہیں اور اس کی
ناراضگی سے پنا مانگتے رہتے ہیں۔
یہ نعمت تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور عاشقانِ الٰہی کی سب سے بڑی تمنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اللہ تعالیٰ کا دیدار کسی عمل کا بد لہ نہ ہو گا بلکہ یہ خاص رب کریم کا عطیہ ہو گا۔دنیا میں اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی علامت یہ ہے کہ کسی بندے سے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی ایک علا مت یہ ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے نیک بندےراضی ہوں اور اسے نیک اعمال کی توفیق ملے ۔ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی سے راضی ہوتا ہے تو فر شتوں میں اعلان ہوتا ہے کہ ہم اس سے راضی ہیں تم بھی اس سے راضی ہو جاؤ پھر تما م زمین والوں کے دلوں میں اس کی محبت پڑ جا تی ہے۔ حضرت ابوہریرہصُ سے روایت ہے، حضور پُر نورﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل ں کو ند اکی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ حضرت جبریل ں اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر حضرت جبریل ں آسمانی مخلوق میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے بھی اس
سے محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر زمین والوں (کے دلوں) میں اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔
(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ، ۲ / ۳۸۲، الحدیث: ۳۲۰۹)
اس سے معلوم ہوا کہ بزر گا نِ دین کی طرف دلو ں کا مائل ہونا ان کے محبوبِ الٰہی ہونے کی علامت ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی رضا کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟
انسان کے لئے سب سے بڑی دولت رضائے الٰہی کا حصول ہے اور اس دولت کے حصول کے لئے انسان کو اپنی جان و مال اور عزت و آبرو جیسی قیمتی چیزوں کو قربان کرنا پڑے تو وہ ایسا کر گزرتا ہے تب جا کر انسان رضائے الٰہی کے مرتبے کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ یہ
تین چیزیں یہ ہیں :
1-جان-2- مال -3-عزت و آبرو
جان کی قربانی کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے :
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اﷲِ.
’’اور لوگوں میں کوئی شخص ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بھی بیچ ڈالتا ہے۔‘‘( البقره، 2 : 207)
پھر مال کی قربانی کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَ مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرضَاتِ اﷲِ.
’’اور جو لوگ اپنے مال اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خرچ کر دیتے ہیں۔‘‘( البقره، 2 : 265)
فرمایا :وَ لاَ يَخَافُوْنَ لَوْمَة لَآئِمٍ. ’’اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔‘‘( المائده، 5 : 54)
لوگوں کی ملامت اور طعن و تشنیع کی پرواہ کیے بغیر اگر انسان اپنی یہ تینوں چیزیں راہ خدا میں قربان کر دے تو پھر کوئی سبب نہیں کہ وہ دولت رضائے الٰہی سے محروم رہے۔










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔