منگل، 20 دسمبر، 2022

حدیث نمبر 4 حُسْنِ اسْلَامِ

0 Comments


حدیث نمبر 4

حُسْنِ اسْلَامِ

حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ قُرَّةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ  عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ (رواہ ابوداؤد)

(ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحک الناس،4/142حدیث:2334)

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’انسان کے اسلام کی عمدگی یہ ہے فضول باتوں کا ترک کردینا‘‘۔


 مِنْ    سے     -    حُسْنِ       حسن    -    إِسْلَامِ     اسلام     -   الْمَرْءِ     ایک

تَرْكُهُ     اس نے اسے چھوڑ دیا    -    مَا    کیا       -  لَا      نہیں      -

 يَعْنِيهِ     اس کا مطلب

* وضاحت: اس حدیث میں ہر فضول بات خواہ قولی ہو یافعل اس سے اجتناب کو اسلام کی عمدگی قراردیا گیا ہے۔ اسی لیے صوفیاء کرام ہر فضول بات سے پرہیز کرتے ہیں جیسا کہ ارشادہے۔وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ‎﴿سورۃ المؤمنون،آیت نمبر 3،پارہ18﴾

اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے۔

صوفیاء نے کم کھانے، کم سونے، کم گفتگو کرنے اور لوگوں سے کم میل جول رکھنے کو مجاہدہ قرار دیا ہے۔قلت کلام سے مراد کم بولنا ہے۔ یہ انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے اور صوفیاء کرام کا معمول بھی۔ حضور نبی اکرم ﷺ بہت کم گفتگو فرماتے اور زیادہ تر خاموش رہنا پسند فرماتے۔قرآن میں ہے:

 ض  مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ﴿سورۂ ق،آیت نمبر18،پارہ26﴾

انسان جو بات بھی بولتا ہے ایک نگہبان و تیار فرشتہ اس کو نوٹ کرتا رہتا ہے۔

*وَالَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا

﴿سورۃ الفرقان،آیت نمبر72،پارہ19﴾

اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔

 * وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ‎﴿سورۃ المؤمنون،آیت نمبر3،پارہ18﴾

اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے۔

 حدیث میں ہے ”من صمت نجا“ (ترمذي) جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے آپﷺ نے فرمایا: جو شخص میرے لئے زبان اور شرمگاہ کی ضمانت لے لے میں اس کے لئے جنت کی ضمانت لیتا ہوں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے عرض کیا گیا کہ فلانی عورت رات بھر نماز پڑھتی ہے اور دن کوروزہ رکھتی ہے، لیکن اپنے پڑوسی کو زبان سے تکلیف بھی پہنچاتی ہے، آپﷺ نے فرمایا: وہ جہنمی ہے، (اخرجہ احمد: ۹۶۷۵)۔

اس طرح اور بہت ساری احادیث میں وعید آئی ہیں، اس لئے آپ کی بیوی اگر بہت زیادہ بولتی ہے تو اسے خاموش رہنے کی عادت ڈالنی چاہئے تاکہ لایعنی باتوں میں مشغول ہونے اور برائی، فتنے اور گناہ سے محفوظ رہے۔ اور آپ کی ذمہ داری ہے کہ حکمت کے ساتھ بیوی کو خیر کی باتیں موقع بموقع بتاتے رہیں۔

*حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم ص     فرماتے ہیں :

(1)فُضُول گوئی سے بچنے والے کو حکمت و دانائی عطا کی جاتی ہے۔

(2) فُضُول نگاہی یعنی بِلاضَرورت اِدھر اُدھر دیکھنے سے بچنے والے کو دِلی سکون ملتا ہے۔

(3)فُضُول طَعام چھوڑنے والے کو عِبادت میں لذّت دی جاتی ہے

(4) فضول ہنسنے سے بچنے والے کو رُعب و دبدبہ عنایت ہوتا ہے۔

(5) مذاق مسخری سے بچنے والے کو نورِ ایمان نصیب ہوتا ہے۔

(6) دُنیا کی مَحَبَّت سے بچنے والے کو آخِرت کی مَحَبَّت دی جاتی ہے۔

(7) اور دوسروں کے عیب ڈھونڈنے سے بچنے والے کو اپنے عیبوں کی اصلاح کی توفیق ملتی ہے۔(ماخوذ،اَزاَلمنبہات ص89)

* حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ کا مشہور قول ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ نیزوں کے زخم تو مندمل ہوسکتے ہیں لیکن زبان کا زخم کبھی مندمل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے آدمی کو چاہیے کہ اوّل تو وہ خاموش رہا کرے، زبان سے کوئی فضول بات، کوئی فحش کلام اور کوئی ایسی غلط بات ہرگز نہ نکالے کہ جس سے کسی دوسرے مسلمان کو تکلیف ہو اور اُس کا اثر انسان کی اپنی انفرادی زندگی پر یا دوسرے انسانوں کی معاشرتی و اجتماعی زندگی پر بالواسطہ یا بلا واسطہ پڑتا ہو۔ دریں اثنا اگر کبھی بولنا پڑ بھی جائے تو کوشش یہ کرنی چاہیے کہ خیر اور بھلائی ہی کی بات زبان سے نکلے۔ کوئی لغو اور فضول قسم کی بات زبان سے نہ نکلنے پائے کہ اسی میں دین و دنیا کی بھلائی اور ایمان کی سلامتی مضمر ہے۔

تاہم بہتر بات ذہن میں آ ئے تو کبھی چپ نہ رہیں۔بقول اکبر الہٰ آبادی:

؎ بچنا فضول گوئی سے ہے مقصدِ سکوت

معقول بات ذہن میں آ ئے تو چپ نہ رہ

*ایک صَحابی کے جنَّتی ہونے کا راز یہ کہ جان کائنات ﷺ اللہ کریم کی عطا سے لوگوں کو دیکھ کر ہی پہچان لیتے تھے کہ یہ جنتی ہے یا جہنمی بلکہ آنے والے کی پہلے ہی سے خبر ہوجاتی کہ وہ جنتی ہے یا دَوزَخی، چنانچہ اللہ کریم کے مَحبوب،جان کائنات ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص سب سے پہلے اس دروازے سے داخِل ہو گا وہ جنَّتی ہو گا۔‘‘ اِتنے میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن سلام صدروازے سے داخِل ہوئے، لوگوں نے ان کو مبارَکباد دیتے ہوئے دریافت کیا کہ آخِر کس عمل کے سبب آپ کو یہ سعادت ملی؟ فرمایا: میرا عمل بَہُت ہی تھوڑا ہے اور جس کی میں اللہ کریم سے اُمید رکھتا ہوں وہ میرے سینے کی سلامتی اور بے مقصد باتوں کو چھوڑنا ہے۔(اَلصَّمْت لِابْنِ اَبِی الدُّنْیا، 7/86، حدیث111)

* مشہور محدث و شارح ِ حدیث حضرت علامہ علی القاری  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  فرماتےہیں : اسلام کی خوبی سے مراد کمال ِاسلام ہے اور بے کار بات سے مراد وہ بات ہے جس کی طرف کسی دینی یا دنیوی ضرورت میں حاجت نہ ہو ۔

* امام نووی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جن  پر اسلام کا دارو مدار ہے۔ (مرقات ،ج8،ص585،تحت الحدیث: 4840ملتقطاً)

* بزرگانِ دین رحمہم اللہ تعالیٰ اپنی زبان کی حفاظت فرماتے اور فضول باتوں سے بچتے تھے :

 ٭سیدنا منصور بن معتمر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے چالیس سال تک عشاء کے بعد گفتگو نہ کی ۔

٭سیدنا ربیع بن خیثم  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے بیس (20)سال تک دنیاوی گفتگو نہ کی ، جب صبح ہوتی تو دوات،کاغذ اور قلم رکھتے اور جو گفتگو بھی کرتے اسے لکھ لیتے، پھر شام کے وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ۔(احیاء العلوم،ج3،ص340)

* شیخ اکبر علامہ ابن عربی  ؒ(م 638ھ) نے خاموشی کی دو اقسام بیان فرمائی ہیں :

زبان کی خاموشی اور دل کی خاموشی۔۔۔۔

1۔ زبان کی خاموشی یہ ہے کہ زبان ان باتوں کو چھوڑ دے جن کا تعلق غیر اﷲ کے ساتھ ہو، خاموشی کی یہ قسم عوام اور راہِ طریقت کے سالکین کی منزل ہے۔

2۔ دل کی خاموشی یہ ہے کہ دل میں شیطانی وسوسہ کسی وقت بھی پیدا نہ ہو۔ خاموشی کی یہ قسم مقربین، اہل مشاہدہ اور صاحبانِ حال کی منزل ہے۔

* حضرت علی ہجویری علیہ الرحمۃ اس حوالے سے ایک حکایت نقل کرتے ہیں کہ ایک روز ابوبکر شبلی علیہ الرحمۃ بغداد کے ایک محلہ میں جا رہے تھے کہ ایک شخص کہہ رہا تھا۔اَلسُّکُوْتُ خَيْرٌ مِّنَ الْکَلَامِ (’’خاموش رہنا بولنے سے اچھا ہے۔‘‘)

حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ٹوکا اور فرمایا : تیرا خاموش رہنا بولنے سے اچھا ہے اور میرا بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے، کیونکہ تیرا بولنا لغو ہے اور تیری خاموشی ہزل (بیہودہ بات) ہے، جبکہ میرا کلام میرے سکوت سے یوں بہتر ہے کہ میرا سکوت حلم ہے اور میرا کلام علم ہے۔ اگر نہ کہوں تو حلیم ہوں اور اگر کہوں تو علیم ہوں۔‘‘ (علی ہجویری، کشف المحجوب : 514)



0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔