منگل، 20 دسمبر، 2022

حدیث نمبر 3 باب فضل البكاء من خشية الله تعالى و شوقا اليهض

0 Comments

حدیث نمبر 3

باب فضل البكاء من خشية الله تعالى و شوقا اليه

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ ،

قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ مَوْلَى آلِ 

طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ مَدَنِيٌّ ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ.

حضرت ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ الله کے رسول ﷺنے فرمایا: ’’جو شخص اللہ کے خوف سے رویا ہو وہ جہنم میں داخل نہ ہوگا یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس چلا جائے۔ اور (کسی آدمی پر) اللہ کی راہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھا نہیں ہو سکتے۔‘‘  

امام ترمذی کہتے ہیں: ﴿۱﴾ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ﴿۲﴾ - اس باب میں ابوریحانہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، 

﴿٣﴾ - محمد بن عبدالرحمٰن آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام ہیں مدنی ہیں، ثقہ ہیں، ان سے شعبہ اور سفیان ثوری نے روایت کی ہے۔ (رواه الترمذي والنسائي وأحمد)



وضاحت: اس حدیث میں خشیت الٰہی سے رونا اور علم حقیقت حاصل کرنے میں ان کے پاؤں غبار آلود رہے ہیں۔

عربی زبان میں ڈرنے کے لیے عموماً دو لفظ استعمال ہوتے ہیں۔ ایک خوف اور دوسرا خشیت۔ اردو میں دونوں کا ترجمہ ڈر اور خوف ہی کیا جاتا ہے لیکن درحقیقت ان دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔

 *لَا     نہیں        *يَلِجُ    داخل کریں    *النَّارَ     آگ    *رَجُلٌ    آدمی        *بَكَى     گھبراہٹ        *مِنْ    سے

 خَشْيَةِ اللَّهِ       خوف خدا        حَتَّى    جب تک             يَعُودَ   پیچھے        اللَّبَنُ     دودھ        فِي    میں    

*الضَّرْعِ، ‏‏‏‏‏‏    تھن        *    *يَجْتَمِعُ     ملتا ہے        *غُبَارٌ     دھول        * سَبِيلِ اللَّهِ      خدا کا راستہ      

  *دُخَانُ جَهَنَّمَ    جہنم کا دھواں

امام راغب رحمہ اللہ علیہ نے  مفردات القرآن میں لکھا ہے کہ خوف کہتے ہیں کسی چیز کے آثار اور نتائج سے آنے والے خطرہ کا اندیشہ کرنا۔ جیسے کسی دشمن، درندے یا کسی تکلیف دہ چیز سے ڈرنا، خوف کہلاتا ہے۔ اس کی ضد امن ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠(سورۃ القریش آیت نمبر 4،پارہ نمبر 30) اور  ظخشیت اس ڈر کو کہتے ہیں جو کسی ذات کی انتہائی عظمت اور محبت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اس ڈر کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اس ذات کی رضا اورخوشی کی ہر وقت فکر لاحق رہتی ہے اور اس کی ناراضگی کے اندیشہ سے بھی انسان بچتا ہے۔ یہی خشیت بندہ کو بارگاہ خداوندی میں کامل اور مقبول بنا دیتی ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ﴿ الملک، آیت نمبر12پارہ29)

’’بے شک وہ جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔‘

انسان جب کلام الٰہی کو سنتا ہے اوراس میں غور کرتا ہے تو اس کو اپنی حقیقت اور اپنی حیثیت، اپنا مقام ، اپنا مقصد ، اپنی راہ، اپنی منزل ، سب کچھ نظر آتی ہے۔ قرآن انسان کو مخاطب کرتا ہے اُسے راست روی کی دعوت دیتا ہے ، کج روی سے روکتا ہے اور اپنا محاسبہ کرنے اور اپنا قلب درست کرنے پر متوجہ کرتا ہے۔ قرآن حکیم اللہ کی یاد، اللہ کا خوف اور اس سے تعلق کا بار بار مطالبہ کرتا ہے ، وہ خوابیدہ دلوں کو جھنجھوڑتا ہے اور کہتا ہے:الَمْ یَأْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ۔ ﴿الحدید آیت نمبر 16، پارہ نمبر27﴾

’’کیا مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے خشیت پائیں اور جو کچھ اللہ نے برحق نازل کیا ہے‘‘۔

قرآن کریم کی تلاوت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی کا دل اور دماغ اور پورا وجود قرآن کی خدمت میں حاضر ہو۔ انسان اسے سمجھے اور اپنے دل میں خشیت الٰہی کی کیفیت پیدا کرے۔ چناں چہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ  فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ جب ان پر قرآن حکیم نازل ہوتو وہ اسے پوری خشیت کے ساتھ حاصل کریں‘‘۔ ﴿ابن کثیر﴾

* جس دل میں اللہ کا خوف ہوتاہے وہ دل ہمیشہ بیدار رہتا ہے،خوف کے لغوی معنی خطرہ ، ڈر ،ہیبت ، فکر ، خدشہ ،اصطلاح میںخوف اسے کہتے ہیں کہ بندہ اپنے آپ کو امرِ مکروہ سے بچائے اور بجا آوریِ احکامِ حق میں عبودیت کے ساتھ سرگرم رہے۔خوف کی دو اقسام ہیں:

(1)لوگوں کا خوف(2)اللہ تعالیٰ کا خوف۔اللہ تعالیٰ کے خوف کی تعریف یہ ہے کہ انسان تمام منہیات سے بچ کر خالص اللہ والے کاموں میں لگ جائے۔قرآن کریم میں مزید ہدایت کے گوہر ملتے ہیں کہ :

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ

﴿الرحمن۔ 46،پارہ27﴾

ترجمہ: ’’اور جو شخص اپنے ربّ کے حضور (پیشی کے لیے) کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔

* وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰیo فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰیo﴿ النزعت۔ 41-40 ،پارہ30﴾

ترجمہ: ’’ اور جو شخص اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا اور اس نے (اپنے) نفس کو (بُری) خواہشات و شہوات سے باز رکھا تو بے شک جنت ہی اسکا ٹھکانہ ہوگا۔‘‘

* إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاء﴿الفاطر،28، پارہ 22﴾ُ

اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔

* جو اللہ سے ڈرتا ہے،اللہ اس کے دل میں اخلاص ڈالتا ہے، اس لئے نیکی کا بدلہ نیکی ہے۔خوفِ خدا اورعشقِ مصطفٰےﷺ میں رونا ایک عظیم الشّان نیکی ہے۔انبیائے کرام علیہم السلام بھی اللہ تعالیٰ کے خوف میں راتوں کو قیام کرتے اور آنسو بہاتے جیسا کہ ایک روایت کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلام جب نَماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ( خوفِ خدا سے ) اِس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی ساتھ رونے لگتے حتی کہ آپ ؑکے والِدِ مُحترم حضرت زکر یا علیہ السلام بھی دیکھ کر رونے لگتے یہاں تک کہ بے ہوش ہوجاتے ۔ مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے سبب حضرت یحییٰ  علیہ السلام کے رُخسارِ مبارَک ( یعنی با بَرَکت گالوں ) پر زَخم ہوگئے تھے۔

یہاں ایسے مومنین کا ذکر کرتا ہوں،جو بندگی میں کمال حاصل کر چکے تھے لیکن خوفِ الٰہی ان کے سینوں میں ایسے ٹھاٹھیں مارتا تھا کہ کسی پل بھی سکون میں نہ تھے جن کے بارے میں قرآنِ پاک میں اللہ ارشاد فرماتا ہے:

وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ 

يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ‎﴿سورۃ المائدہ، آیت83، پارہ 7﴾

ترجمہ: اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول اللہ ﷺکی طرف اترا (یعنی قرآن ) تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے لبریز ہیں اس لیے کہ انہیں حق کی معرفت حاصل ہو گئی ہے۔

* حضرت صدیقِ اکبر ص خشیتِ الٰہی کے تحت اکثر فرمایا کرتے تھے کہ قیامت کے دن اگر یہ صدا بلند ہوئی کہ سوائے ایک شخص کے سب جنت میں جائیں گے تو مجھے خوف ہے کہ وہ میں ہی نہ ہوں۔ کبھی کسی باغ سے گزرتے تو فرماتے کاش میں سبزہ ہوتا جسے چرند پرند کھا گئے ہوتے تو اللہ کے حساب کتاب سے بچ جاتا۔ خشیتِ الٰہی کے باعث راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اتنا روتے کہ ہچکیاں بندھ جاتی اور چہرے کا رنگ زرد پڑجاتا۔

* حضرت عمر فاروق ص کے خوف کا یہ عالم تھا کہ اینٹ اُٹھا کر فرماتے کاش میں بھی اینٹ ہوتا عمارت میں لگا دیا جاتا اور روزِ قیامت حساب کتاب سے بچ جاتا۔ ایک روز آپؓ سورۃ التکویر کی تلاوت فرما رہے تھے جب ’’واِذَالصُّحُفُ نُشِرَتْ‘‘ یعنی ‘‘ اور جب نامہ اعمال کھولے جائیں گے‘‘ تو خوف سے بے ہوش ہوگئے۔ اور جب ہوش میں آئے تو اس قدر روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔

* حضرت عثمان غنی ص کو خشیتِ الٰہی نے اس قدر عاجز بنا دیا تھا کہ ایک دن لکڑیوں کا گٹھا اُٹھا لیا اور چل پڑے۔ لوگوں نے کہا حضور غلام اُٹھا لیتے، تو فرمایا کہ سوچا اپنے نفس کو آزما لوں کہیں غلامی کی حیثیت کو بھول تو نہیں گیا۔ جب کسی قبر کے قریب سے گزرتے تو اتنا روتے کہ داڑھی مبارک بھیگ جاتی۔

* حضرت علی ص کا نماز کے اوقات میں چہرۂ مبارک متغیر ہوجاتا اور جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا۔ جب کوئی پوچھتا تو فرماتے اللہ کے سامنے حاضر ہونے لگا ہوں پتہ نہیں اللہ قبول بھی فرماتا ہے کہ نہیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں صالحین کی علامت یہ ہے کہ ان کی رنگت خشیتِ الٰہی کے باعث زرد ہوتی ہے اور رو رو کے آنکھیں چندھیائی ہوتی ہیں اور ہونٹ پژمردہ رہتے ہیں۔ مزید فرمایا خشیتِ الٰہی ایک ایسا راستہ ہے جسے اپنائے بغیر کسی نے اپنے مولا کو نہیں پایا۔

* الطبقات الکبری  میں  ’’حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رات بھر نماز ادا فرماتے۔ بہت تھوڑا سا سستاتے، اپنی ریش مبارک کو پکڑ لیتے اور بیمار شخص کی طرح لوٹ پوٹ ہوتے اور انتہائی غمگین آدمی کی طرح روتے حتیٰ کہ صبح ہو جاتی۔‘‘

غرضے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی تلاوت پر سوز اور پُرکیف ہوا کرتی تھی۔ وہ قرآنی آیات سے عبرت وموعظت اخذ کرتے اور ان کے دل خوف وخشیت الٰہی سے معمور ہوتے۔ صحابہ کرامؓ  کی یہ وراثت تابعین عظام میں منتقل ہوئی اور ان سے تبع تابعین اور مابعد میں۔ یہ سلف صالحین جب قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو ان کے سینے انوار قرآنی کے لیے کھل جاتے اور ان کے دل خشیت الٰہی سے لبریز ہوجاتے۔

؎ تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے دلِ مرتضیٰؓ سوزِ صدیقؓ دے(علامہ اقبالؒ)

* طبقات الصّوفیہ میں ہے کہ:’’حضرت فضیل بن عیاض رَحِمَهُ اللہ نے فریا : مبارکباد ہو اس شخص کو جسے لوگوں سے وحشت اور اپنے مولیٰ سے انس ہو اور جو اپنے گناہوں پر آنسو بہانے والا ہو۔‘‘

 * طبقات الصّوفیہ میں ہے کہ:’’حضرت سری سقطی رَحِمَهُ اللہ نے فرمایا : حسین ترین چیزیں پانچ ہیں : گناہوں پر رونا، گناہوں کی اصلاح کرنا، غیب جاننے والے (یعنی اللہ تعالیٰ) کی اطاعت کرنا، دلوں کے زنگ کو دور کرنا اور اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا نہ ہونا۔

*خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز کے بارے میں ان کی زوجہ فاطمہ بنت عبدالملک کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے دیکھا کہ وہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور اس آیت کی تلاوت کی:

’’یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْث وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَاالْعِہِنِ الْمَنْفُوْش‘‘۔﴿القارعۃ آیت نمبر 4-5،پارہ30﴾

جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے (4) اور پہاڑ ہوں گے جیسے دھنکی اون (5)

تووہ چیخ پڑے۔ پھر وہ کودے اور گرپڑے، میں نے سمجھا کہ شاید ان کی جان نکل جائے گی، پھر ان کو سکون سا ہوگیا۔ میں نے سمجھا کہ روح پرواز کرگئی۔ پھر ان کو افاقہ ہوا تو وہ پھر پکارنے لگے واسوہ صباحاہ۔پھر وہ گھر میں چکر لگانے لگے اور کہتے جاتے تھے کہ اس دن میری تباہی ہے جس دن لوگ بکھری ہوئی تتلیوں کی مانند ہوں گے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہوں گے۔ وہ فرماتی ہیں کہ رات بھر ان کی یہی حالت رہی یہاں تک کہ فجر کی اذان ہوگئی۔  ﴿مناقب عمر بن عبدالعزیز۔ ابن جوزی﴾

* حضرت فضیل بن عیاضؒ کی خشیت کے بارے میں بہت سے واقعات مشہور ہیں۔ سعد بن زنبور کہتے ہیں کہ ہم لوگ فضیل بن عیاض کے دروازے پر گئے اور داخل ہونے کی اجازت طلب کی، ہمیں اجازت نہیں ملی ۔ کہلا یا کہ وہ اس وقت تک نہیں نکلیں گے جب تک کہ قرآن نہ سن لیں ، ہم میں ایک شخص مؤذن تھا اور اچھی قرأت کرتا تھا، ہم نے اس سے درخواست کی تو اس نے سورہ  الہاکم التکاثر کی تلاوت کی۔ 

فضیل بن عیاضؒ یہ سورہ سن کر روتے ہوئے باہر نکلے اور ان کی داڑھی آنسوئوں سے تر ہوچکی تھی، وہ کپڑے سے آنسو پوچھ رہے تھے۔ ﴿متفقہ الصفوہ﴾

٭اللہ والوں  کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ ڈھیروں نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کے باوجود وہ  بے پناہ خوفِ خدا اور خشیتِ الٰہی رکھتے ہیں ۔ سرکارِ بغداد حضور غوثِ پاکؒ  بھی بے پناہ خوفِ خدا رکھتے تھے  چنانچہ حضرتِ سیِّدُناشیخ شَرْفُ الدِّین سَعْدِی شیرازیؒ  فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدُالقادِر جیلانی قُدِّس سِرُّہٗ النُّورانی کو حَرَمِ کعبہ میں دیکھا گیاکہ کنکریوں پرسر رکھے 

بارگاہِ ربُّ العزّت میں عرض گزار ہیں:

”اے اللہ کریم!مجھے بخش دے اور اگرمیں سزاکاحَقْدار ہوں تو بروزِ قِیامت مجھے اَندھا اُٹھاناتاکہ نیکوکارلوگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہوں ۔“ (گُلِسْتَانِ سَعْدِی ،ص۵۴ انتشارات عالمگیر ایران)

 ٭ خواجۂ خواجگان حضرت معین الدین چشی سنجری ؒ نے فرمایا کہ : سچی توبہ کے لیے تین باتیں ضروری ہیں (۱) کم کھانا (۲) کم سونا(۳) کم بولنا، پہلے سے خوفِ خدا، دوسرے اور تیسرے سے محبتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے۔

٭محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء  ؒنے فرمایا کہ خوف (خوفِ الٰہی)بے ادب بندوں کے لیے تازیانہ ہے۔جس سے ان کی درستی کی جاتی ہے۔(راحت القلوب)

جی چاہتا ہے پھوٹ کے روؤں تِرے ڈر سے اللہ ! مگر دل سے قَساوَت نہیں جاتی

رسول اللہﷺ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ اللہ کے ڈرسے رونے والا شخص جہنم کی آگ میں داخل نہيں ہوگا۔،کیونکہ عام طور پر خوف وڈر کی وجہ سے آدمی اطاعت وفرماں برداری کرتا ہے اور گناہوں سے اجتناب کرتا ہے۔ "یہاں تک کہ دودھ تھنوں ميں واپس چلا جائے۔" یہ تعلیق بالمحال کے طور پر ہے (یعنی جس طرح دوہے ہوئے دودھ کا تھنوں میں واپس جانا محال ہے۔ اسی طرح اس شخص کا دوزخ میں جانا محال ہے)۔ نیزکسی آدمی پر اللہ کی راہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دُھواں اکٹھا نہیں ہو سکتے۔ گویا کہ يہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں جو یکجا نہیں ہو سکتے، جس طرح کہ دنیا اور آخرت ایک دوسرے کی ضد ہیں۔  




0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔