
حدیث نمبر 2
حدیثِ لقاء
عن عبادۃ بن الصامت عن النبی ﷺ قال من احب لقاء اللہ احب اللہ لقائ ہٗ ومن کرہ لقاءَ اللہ کرہ اللہ لقائہ۔
حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اللہ سے ملاقات کو پسند کرتاہے اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتاہے اوراللہ سے ملنا پسند نہیں کرتا، اللہ کو اس سے ملنا پسند نہیں۔
(جامع ترمذی جلد دوم، امام ترمذی، ابواب الزہد باب 95، ایضاً رواہ البخاری عن ابی بردہ باب 847 جلد سوم)
(رواہ صحیح بخاری عن ابی بردہ باب 847 جلد سوم )
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَ: لَيْسَ ذَاكِ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهَ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ، اخْتَصَرَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَعَمْرٌو ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَقَالَ سَعِيدٌ ، عَنْقَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے، کہا ہم سے قتادہ نے ان سے انس (رض) نے اور ان سے عبادہ بن صامت (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا۔ اور عائشہ (رض) یا نبی کریم ﷺ کی بعض ازواج نے عرض کیا کہ مرنا تو ہم بھی نہیں پسند کرتے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے ملنے سے موت مراد نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ایماندار آدمی کو جب موت آتی ہے تو اسے اللہ کی خوشنودی اور اس کے یہاں اس کی عزت کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ اس وقت مومن کو کوئی چیز اس سے زیادہ عزیز نہیں ہوتی جو اس کے آگے (اللہ سے ملاقات اور اس کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے) ہوتی ہے، اس لیے وہ اللہ سے ملاقات کا خواہشمند ہوجاتا ہے اور اللہ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی بشارت دی جاتی ہے، اس وقت کوئی چیز اس کے دل میں اس سے زیادہ ناگوار نہیں ہوتی جو اس کے آگے ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے جا ملنے کو ناپسند کرنے لگتا ہے، پس اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ ابودواؤد طیالسی اور عمرو بن مرزوق نے اس حدیث کو شعبہ سے مختصراً روایت کیا ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے زرارہ بن ابی اوفی نے، ان سے سعد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا۔
وضاحت:
اس حدیث میں لقائے الٰہی کا ذکر ہے اور صوفیائے لقائے الٰہی و دیدارِ الٰہی کے لیئے عشق الٰہی سے سرشار ہوکر فنا فی اللہ وبقاباللہ کے مقام پر فائز
ہوتے ہیں۔ قیامت میں انہیں اللہ کا دیدار بھی نصیب ہوگا۔
من احب لقاء اللہ احب اللہ لقائ ہٗ ومن کرہ لقاءَ اللہ کرہ اللہ لقائہ۔
من --سے
احب --پیار کیا
لقاء--ملاقات
کرہ --سے نفرت
راویان حدیث:
حجاج ، ہمام ، قتادہ ، انس ، عبادہ بن صامت علیہم رضوان اجمعین
* لقاسے مراد دیدار یا چہرہ ہے۔ قرآن کی جن آیات میں بھی ’لقا‘ کا لفظ استعمال ہوا اس سے مراد دیدار ہی ہے۔
* لقائے الٰہی میں جو چیز حائل ہے وہ نفس ہے۔
* جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دیدار کی خواہش پر کہا کہ لَنْ تَرَانِیْ( تو نہیں دیکھ سکتا) تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اللہ کو کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا بلکہ صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی مخاطب تھے ’’تو مجھے دیکھنے کی تاب نہیں رکھتا۔‘‘ جب اللہ نے تجلی کی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہوگئے۔ آپؑ کا بے ہوش ہونا ہی اس بات کی گواہی ہے کہ آپؑ نے کچھ دیکھا تبھی تو بے ہوش ہوگئے۔ یعنی دیدارِالٰہی کی تاب نہ لاسکے۔ ہوش میں آتے ہی آپؑ نے فرمایا ’’میں پہلا مومن ہوں‘‘ مومن وہ ہے جو اللہ کو دیکھ کر اس پر ایمان لائے۔ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کا دیدار کیا البتہ وہ اس کی تاب نہ لاسکے اور بے ہوش ہوگئے۔
* انسان کی پیدائش کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت ہے‘ پہچان ہی دراصل لقائے الٰہی ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو عارفین یعنی فقرا کو عطا کی جاتی ہے۔
* لذّ تِ دیدارسے بہتر کوئی لذّ ت نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کا دیدارنورِ بصارت سے نہیں نورِ بصیرت سے حاصل ہوتا ہے۔
* باطن میں لقائے حق تعالیٰ (دیدارِالٰہی) سب سے اعلیٰ مقام ہے۔ یہ مرتبہ مرشدِ کامل اکمل کی راہبری سے حاصل ہو تا ہے۔لیکن راہ سلوک میں یہ بھی کامل مرتبہ نہیں ہے اس میں بھی دوئی پائی جاتی ہے۔ سلوک کی انتہا تو یہ ہے کہ انسان ذاتِ حق میں فنا ہوکر بقا حاصل کر لے تب ہی انسان، انسانِ کامل یامردِ مومن بنتا ہے ۔
* اگر کوئی یہ گمان کرے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف قدموں سے چل کر پہنچا جا سکتا ہے تو وہ گمراہی پر ہے ۔اللہ تعالیٰ جہات، زمان ، مکان، الوان، دِن رات، حدودِ اقطار اور حدودِ مقدار سے منزّہ اور مبّرہ ہے۔لقائے الٰہی کا سفر انسان کی اپنی حقیقت کی پہچان یا ’’نفس کے عرفان‘‘ یا خود اس کے باطن کا سفر ہے۔ راہِ قلب (نورِ بصیرت) ہی سے اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن ہے۔
* مدرسہ میں علم کے ذریعے اللہ کو جانا جاتا ہے اور خانقاہ میں عشق کے ذریعے اللہ کو پہچانا جاتا ہے۔
* ایک اور نفیس نقطہ یہ کہ مومن اور ولی کو دیدار الٰہی ہوگا، کسی کو ایک مرتبہ کسی دو مرتبہ اور کسی پورے ہفتے ہی ہوتا رہے گا۔
*فنا فی الرسولﷺ، فنا فی اللہ اور بقا باللہ سلوک کے وہ منازل ہیں کہ ہزاروں اللہ کے بندے ان کے حصول کے لئے کوشاں رہے، مجاہدے اور ریاضتیں کرتے رہے اور یہی آرزولے کر دنیا سے رخصت ہوئے، ان منازل کے حصول کے لئے سچی تڑپ انسان کی سعادت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ مگر یہ منازل صرف زبانی اورادو وظائف سے حاصل نہیں ہوئے۔ یہ قلب اور روح کا معاملہ ہے اور صرف ذکر لسانی سے تصفیہ قلب اور تزکیہ باطن نہیں ہو پاتا، بلکہ ان منازل کے حصول کے لئے دوسری شراط ہیں، سب سے پہلے اصلاح قلب کی ضرورت ہے، اور اس کی صورت یہ ہے کہ ذکر قلبی کثرت سے کیا جائے اتباع شریعت اور اتباع سنت کا اہتمام کیا جائے۔ اصلاح قلب ایسا کمال ہے جو شیخ کامل کی رہنمائی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا:
؎ مولوی ہر گزنشد مولائے روم تا غلام شمس تبریزی نشد
مولانا روم اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں فقط مولوی تھا،مگر جب حضرت شمس تبریزی کا غلام ہوا تو روم کا سردار ہو گیا۔
شیخ کامل کی رہنمائی میسر آجائے تو اتباع سنت کا اہتمام لازمی طور پر کیا جائے۔
شیخ کامل اس راہ پر اس ترتیب سے چلاتا ہے کہ سب سے پہلے لطائف کراتا ہے۔ جب وہ منور ہو جاتے ہیں تو مراقبہ احدیت کراتا ہے۔ جب یہ رابطہ خوب مضبوط ہو جائے تو شیخ اپنی روحانی قوت سے مراقبہ معیت پھر اقربیت کراتا ہے، پھر دوائر ثلاثہ پھر مراقبہ اسم الظاہر و الباطن۔ یہ مراقبات عالم ملکوت سے گزار کر شیخ کامل کراتا ہے۔ پھر مراقبہ سیر کعبہ، پھر سیر صلوٰۃ، پھر سیر قرآن۔ اس کے بعد مراقبہ فنا فی الرسول کراتا ہے اور دربار نبوی میں حاضری ہوتی ہے۔ فنا فی الرسول کا مطلب یہ ہے کہ آدمی حضور اکرم ﷺ کی محبت اور آپ کی سیرت میں فنا ہو جائے۔ پھر شیخ کامل توجہ روحانی سے فنا فی اللہ اور بقا باللہ کا مراقبہ کراتا ہے۔ یہ ذکر لسانی سے حاصل نہیں ہو سکتیں بلکہ شیخ کامل کی توجہ سے ذکرقلبی کرنے سے یہ مقامات حاصل ہوتے ہیں۔ مراقبہ فنا بقا میں عجیب سی کیفیت ہوتی ہے۔ سالک کا وجود زمین پر ہوتا ہے اور روحانی طور پر یوں محسوس کرتا ہے کہ عرش بریں پر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہے اور سبحان ربی الاعلیٰ اور سبحان ربی العظیم کہہ رہا ہے، عرش معلی اللہ تعالیٰ کے ذاتی انوار تجلیات کا مہبط ہے۔ وہ انوار و تجلیات سرخ سنہری معلوم ہوتے ہیں۔ کائنات کی کیفیت یوں معلوم ہوتی کہ ہر چیز شجر، حجر، حیوان، ملائکہ سبحان ربی الاعلیٰ اور سبحان ربی العظیم پکار رہے ہیں۔ ایک گونج اٹھتی ہے اور سالک پر سب چیزوں سے غفلت طاری ہو جاتی ہے۔
(حضرت مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، دلائل السلوک)
ءعن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «مَنْ أحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءهُ» فقلتُ: يا رسولَ اللهِ، أكَراهِيَةُ المَوتِ، فَكُلُّنَا نَكْرَهُ المَوتَ؟ قال: «لَيْسَ كَذَلِكَ، ولكِنَّ المُؤْمِنَ إذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ فَأَحَبَّ اللهُ لِقَاءهُ، وإنَّ الكَافِرَ إذَا بُشِّرَ بِعَذابِ اللهِ وَسَخَطهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ وكَرِهَ اللهُ لِقَاءهُ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص الله سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تواللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔'' میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے؟ ہھر تو ہم سب ہی موت کوناپسند کرتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ مطلب نہیں بلکہ (وقتِ نزع) مومن کو جب اللہ کی رحمت، اس کی رضامندی اور اس کی جنت کی خوش خبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرنے لگتا ہے، تو اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔ اور جب کافرکو (نزع کے وقت) اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی کی خوش خبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا۔''
نبی ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص الله سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تواللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔'' عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! کیا اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے؟ پھر تو ہم سب ہی موت کوناپسند کرتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ مراد نہیں۔" پھر نبی ﷺ نے بتایا کہ جب انسان اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے تو اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اس کا مطلب يہ ہےکہ اللہ تعالی نے مومنوں کے لئے جنت میں جو عظیم اجر اور بے شمار انعامات تیار کر رکھے ہیں ان پر ایک مومن شخص کا ایمان ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اس کو پسند کرتا ہے اور دنیا اس کی نگاہوں میں ہیچ ہو جاتی ہے، وہ اس کی پروا نہیں کرتا، کیونکہ عنقریب وہ اس سے بہتر جہان کی طرف منتقل ہوجائے گا۔ چنانچہ وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرنے لگتا ہے، بالخصوص موت کے وقت جب اسے اللہ کی رضامندی اور رحمت کی خوش خبری سنائی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالی سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور اس سے ملاقات کا مشتاق ہو جاتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے۔ جب کہ اس کے بر عکس کافر شخص، العیاذ بااللہ، اسے جب اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی کا مژدہ سنایا جاتا ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔
اسی لیے جاں کنی کے بیان والی حدیث میں آیا ہے کہ کافر کی روح کو جب اللہ کے غضب اور ناراضی کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اس کے جسم میں دوڑنے اور بھاگنے لگتی ہے۔ اسی وجہ سے کافر کی روح اس کے جسم سے ایسے کھینچ کر نکالی جاتی ہے جیسے لوہے کی کانٹے دار سیخ کو بھیگے ہوئے اون سے نکالا جاتا ہے۔ یعنی وہ یہ ناپسند کرتا ہے کہ اس کی روح نکلے کیونکہ اسے برے انجام کی خبر دی جاتی ہے۔ العیاذ باللہ۔ اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا:”وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ ۖ “
(سورة الانعام - آیت 9، پارہ 7)
ترجمہ: اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ ہاں اپنی جانیں نکالو۔ وہ اپنی جانوں کے تئیں کنجوسی کرتے ہیں العیاذ باللہ۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی جان نکلے لیکن فرشتے کہتے ہیں کہ اپنی جانیں نکالو۔ جب انہیں برے انجام کی خبر دی جاتی ہے تو ان کی روحیں جسم میں دوڑنے اور بھاگنے لگتی ہیں۔ اس پر فرشتے انہیں ایسے کھینچ کر نکالتے ہیں جیسے گیلے اون سے سیخ کو کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔ العیاذ باللہ۔ یہاں تک کہ وہ باہر نکل آتی ہے۔










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔