منگل، 20 دسمبر، 2022

حدیث نمبر 1 - حدیثِ جبریل علیہ السلام / حدیثِ احسان

0 Comments

 


حدیث نمبر 1

حدیثِ جبریل علیہ السلام / حدیثِ احسان

 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارِزًا يَوْمًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ: «الإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَبِلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ». قَالَ: مَا الإِسْلاَمُ؟ قَالَ: الإِسْلاَمُ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ، وَلاَ تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ المَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ . قَالَ: مَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»، قَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: مَا المَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الإِبِلِ البُهْمُ فِي البُنْيَانِ، فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ تَلاَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ‎﴿آیت نمبر34،سورہ القمان، پارہ 21﴾‏ ، ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ: «رُدُّوهُ» فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا، فَقَالَ: «هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ يُعَلِّمُ النَّاسَ دِينَهُمْ»

 قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: جَعَلَ ذَلِكَ كُلَّهُ مِنَ الإِيمَانِ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابوحیان تیمی نے ابوزرعہ سے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک دن نبی کریمﷺ لوگوں میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا کہ ایمان کسے کہتے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں کے وجود پر اور اس (اللہ) کی ملاقات کے برحق ہونے پر اور اس کے رسولوں کے برحق ہونے پر اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لاؤ۔ پھر اس نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ  نے پھر جواب دیا کہ اسلام یہ ہے کہ تم خالص اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو۔ اور زکوٰۃ فرض ادا کرو۔ اور رمضان کے روزے رکھو۔ پھر اس نے احسان کے متعلق پوچھا۔ آپﷺ نے فرمایا احسان یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ تو سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے بارے میں جواب دینے والا پوچھنے والے سے کچھ زیادہ نہیں جانتا (البتہ) میں تمہیں اس کی نشانیاں بتلا سکتا ہوں۔ وہ یہ ہیں کہ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور جب سیاہ اونٹوں کے چرانے والے (دیہاتی لوگ ترقی کرتے کرتے) مکانات کی تعمیر میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں گے (یاد رکھو) قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی کہ اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے کہ وہ کب ہو گی:بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی، بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے ۔‎﴿آیت نمبر34،سورہ القمان، پارہ 21﴾‏ پھر وہ پوچھنے والا پیٹھ پھیر کر جانے لگا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اسے 

واپس بلا کر لاؤ۔ لوگ دوڑ پڑے مگر وہ کہیں نظر نہیں آیا۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ وہ جبرائیل ؑتھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔ 

ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان تمام باتوں کو ایمان ہی قرار دیا ہے۔


*وضاحت :

اس حدیث کو ’’حدیث ِ جبریل‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس میں ایمان ، اسلام ، احسان اور علاماتِ قیامت کا تذکرہ ہے ۔ اسی کی روشنی 

میں صوفیائے کرام دل میں عقائد ایمان کو راسخ کرتے ہیں، ارکانِ اسلام پر عمل کرتے ہیںاور مشاہدۂ حق میں مستغرق رہتے ہیں۔

ژحدیث جبریل میں دین کی تین بنیادی ضروریات کا بیان ملتا ہے جن میں پہلی ضرورت ایمان ہے۔ ایمان کی تعریف میں حضور

 نبی اکرمﷺ نے جو امور بیان فرمائے ہیں ان کا تعلق بنیادی طور پر عقائد و نظریات سے ہے اور عقائد سے تعلق رکھنے والے علم کو اصطلاحی طور پر علم العقائد کہتے ہیں۔

ژاسلام کی تعریف میں حضور نبی اکرمﷺ نے جو پانچ ارکان بتلائے ہیں ان سب کا تعلق ظاہری اعمال اور عبادات سے ہے۔ 

اس علم کو شریعت کی اصطلاح میں علم الاحکام یا علم الفقہ کہتے ہیں۔

---ایمان، اسلام اور احسان تینوں باہم مربوط اور لازم و ملزوم ہیں۔ ایمان وہ بنیاد ہے جس پر مسلمان کا عقیدہ استوار ہوتا ہے اور اسلام سے مسلمان کا ظاہر اور اس کا عمل درست ہوتا ہے جبکہ احسان سے مسلمان کا باطن اور حال سنورتا ہے۔

---امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے اسلام کا ذکر پہلے کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید و رسالت کی گواہی کے ذریعے دین کے دائرے میں داخل ہونا اسلام ہے اور اسلام کو دل میں بسالینے کا نام ایمان ہے۔

---احسان کے ذریعے ایمان اور اسلام دونوں کے اثرات قلب و باطن پر وارد ہوتے ہیں۔ جب مسلمان کا ظاہر و باطن یکساں ہو جاتا ہے اور ظاہر و باطن میں کامل یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے تو اس سے دل نور پیدا ہوتا ہے اور نور سے اس کا باطن چمکنے لگتا ہے یعنی جب ایمان اور اسلام قلب کی حالت اور باطن کا نور بن جاتے ہیں تو دل کی دنیا روحانی کيفیات میں بدل جاتی ہے۔

---حدیث مبارکہ کی رو سے دین کی تیسری ضرورت احسان ہے اور انسان کو یہ درجہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس میں ایمان اور اسلام دونوں جمع ہو جائیں۔ گویا اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا زبان سے اقرار اور دل سے جو تصدیق کی، اس کا عملی اظہار اور پھر اپنے اعمال اور ظاہری عبادات کو حسن نیت اور حسن اخلاص کے اس کمال سے آراستہ کیا کہ اس کے اعمال اور عبادات اس کی تصدیق بالقلب کا آئینہ دار بن گئے۔ اس مرحلہ پر انسان درجہ احسان پر فائز ہو جاتاہے اور اسے باطنی و روحانی کيفیات نصیب ہو جاتی ہیں۔ پس یہ کہا جاسکتا ہے کہ احسان کا موضوع باطنی اور روحانی کيفیات کے حصول سے متعلق ہے۔

---حدیث جبریل ؑمیں ہمیں احسان کی کيفیت کے اعتبار سے دو حالتوں کا بیان ملتا ہے، پہلی حالت کو حالتِ مشاہدہ کہتے ہیں دوسری کو حالتِ مراقبہ کہتے ہیں۔

حالت مشاہدہ

أن تعبد اﷲ کأنک تَرَاه  ’’ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘

یہ کيفیت حالتِ مشاہدہ کہلاتی ہے۔ جب بندہ محبوب حقیقی کی یاد کو پورے دھیان کے ساتھ ہر وقت اپنے دل میں بسائے رکھے اور اسی کے تصور اور مشاہدہ کے سمندر میں غوطہ زن رہتے ہوئے اپنے آپ کو اس کی حضوری میں رکھے۔ جب دل کے تمام گوشے محبوب کی یاد اور تصور سے معمور ہو جائیں اور نس نس میں وہی سما جائے تو اس کے نتیجے میں وہ ظاہری دنیا میں جو کچھ دیکھے گا سب بے خیالی اور بے دھیانی کی نذر ہو جائے گا جب استغراق کی یہ حالت نصیب ہو جائے تو قلب و ذہن پر پڑے ہوئے پردے اٹھ جاتے ہیں اور وہ مقام حاصل ہو جاتا ہے جس میں بندہ اﷲ کے حسن اور تجلیات کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے۔


حالت مراقبہ

فإن لم تکن تراه فإنه يراک ’’پس اگر تو اسے نہ دیکھ سکے تو (کم از کم یہ یقین ہی پیدا کر لے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘

کيفیت و حالت کے اعتبار سے یہ احسان کا دوسرا درجہ ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ غلام اپنے آقا کے احکام کی تعمیل اس وقت کرتا ہے جب کہ وہ اس کے سامنے موجود ہو اور اسے یقین ہو کہ وہ مجھے اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ مالک کی غیر موجودگی میں اس کے کام کا وہ حال نہیں ہوتا جو وہ مالک کے سامنے دھیان اور لگن کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اگر وہ خود نہ بھی دیکھے مگر اس کے اندر یہ احساس جاگزیں ہو جائے کہ اس کا آقا اسے دیکھ رہا ہے، تو یہ احساس اس کے کام میں حسن اور لگن پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ بندگی میں یہ مقام حالتِ مراقبہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر وقت بندے کے دل و دماغ پر یہ کيفیت طاری رہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ میری ہر حرکت و سکون اس کے سامنے ہے یوں بندہ ہمہ وقت اپنے مولا کی نگرانی کے تصور سے بہت زیادہ ڈرتا رہے۔ اس حالت و کيفیت کو مراقبہ کہتے ہیں اور یہ احسان کا دوسرا مرتبہ ہے۔




0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔