حدیث نمبر14
(يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الْخَصَاصَةِ)
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ".(بخاری-6446)
ترجمہ: ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا، ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوھریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مالداری، مال کی کثرت سے نہیں بلکہ اصل مالداری ننفس کا غنی ہونا۔(بخاری)
وضاحت : اس حدیث مبارکہ میں اصل مالداری کی تعریف بیان کی گئی ہے کہ وہ نفس یعنی دل کا غنی ہونا ہے۔ اس سے مراد اللہ کے سوا ہر شے سے بے نیاز ہوکر ہر کچھ یہاں تک کہ اپنی جان بھی اللہ کی راہ میں قربان کردیناہے ، یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام اس فانی دنیا کی ہر شے سے بے نیاز ہوتےہیں اور جو کچھ انہیں میّسر ہوتا ہے وہ بھی اور اپنی جان بھی اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے۔
خواہ فُقرا ہوں خواہ دنیادار ، احکامِ شرع سب پر یکساں (یعنی برابر Equal) ہیں۔
غنا کی تعریف ہے کہ جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اُس سے نااُمید ہونا غنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا ہے: وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ (پ۲۷، النجم: ۴۸)
’’ اور یہ کہ اُس نے غنٰی دی اور قناعت دی ۔‘‘(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۵۷)
{ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِ ج وَاللّٰہُ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُo} (فاطر:ع۳)
تم سب کے سب اللہ تعالیٰ شانہٗ کے محتاج ہو، وہ پاک ذات بے اِحتیاج ہے، ہر قسم کی تعریف والا ہے۔
دوسرے معنی حاجات کی کمی کے ہیں۔ اس معنی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے حضورِاقدس ﷺکے متعلق سورہ والضحیٰ میں ارشاد فرمایا:
{وَوَجَدَکَ عَآئِلاً فَاَغْنٰی}اور تمہیں حاجت مند پایا پھر غنی کردیا۔
اور اسی معنی کے اعتبا رسے حضورِ اقدس ﷺکا پاک ارشاد حدیثِ ہے کہ اصل غنا دل کا غنی ہونا ہے۔
ابن حبان کتاب الرقائق، باب الفقر والزھد والقناعۃ، ۱ / ۳۷، حدیث: ۶۸۴میں ہے :حضرت سیدنا ابو ذرغفاری ؓ بیان کرتے ہيں کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اے ابو ذر! کيا تم کثرتِ مال کو غنا سمجھتے ہو؟‘‘ ميں نے عرض کی: جی ہاں! یارسولَ اللہ! آپ ﷺ نے فرمايا: ’’کيا تم مال کی کمی کو فقرسمجھتے ہو؟‘‘ ميں نے عرض کی: جی ہاں! یارسولَ اللہ! آپﷺ نے فرمایا: ’’اصل غنا تو دل کی تونگری ہے۔‘‘
ایک گُر کی بات بتاتاہوںزُہد دنیاسے بے رغبتی دلاتا ہے جبکہ قناعت تھوڑے پر راضی ہونے پر اُبھارتا ہے اور یہ دونوں چیزیں غنا پر معاون ثابت ہوتی ہیں کہ آدمی زُہد وقناعت اختیار کرکے دوسروں سے بے نیازہوجاتاہےاور تھوڑے پر راضی رہ کر دنیاسے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے یوں وہ زُہد وقناعت کے ساتھ غنا کی دولت بھی سمیٹ لیتا ہے۔یعنی جس شخص کی نظر لوگوں کے مال واسباب پر نہیں ہوتی اور وہ لوگوں سے بے نیاز ہوتا ہے تو لوگ ایسے شخص کو پسند کرتے ہیں اور اس کے استغناء کو اچھی نظر سے دیکھتے ہیں۔
نوٹ: غناسے متعلق امام ابوطالب مکی ؒ کی کتاب ’’قوت القلوب‘‘ اور امام محمد بن محمد غزالی ؒکتاب ’’احیاء العلوم‘‘ اور امام ابو القاسم قشیری ؒ کی کتاب ’’رسالۂ قشیریہ‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
اگر آدمی کادل غنی نہیں ہے تو جتنا مال بھی اس کے پاس زیادہ ہو وہ مال کے خرچ کرنے میں فقیروں سے زیادہ کم خرچ ہوگا۔ اور جتنا بھی مال اس کے پاس ہو وہ ہر وقت اس کے بڑھانے کی فکر میں محتاجوں سے زیادہ پریشان ہوگا اور اگر اس کا دل غنی ہے تو تھوڑا سا مال بھی اس کو بے فکر رکھے گا ،اور جتنا ہوگا اس کے ہر وقت بڑھانے کے فکر سے آزاد ہوگا۔امام راغب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ غنا کئی معنی میں بولا جاتا ہے۔ ایک تو غنا کے معنی کسی قسم کی حاجت نہ ہونے کے ہیں۔ اس معنی کے اعتبار سے تو صرف اللہ تعالیٰ غنی ہے کہ اس کو کسی چیز کی اِحتیاج نہیں ہے۔
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس ﷺنے مجھ سے ارشاد فرمایا: ابوذرّ! کیا تمہارا خیال ہے کہ مال کی کثرت غنا ہے؟ میں نے عرض کیا: بے شک۔ پھر حضور ﷺنے فرمایا: کیا تمہارا خیال ہے کہ مال کی قلت فقر ہے؟ میں نے عرض کیا: بے شک۔
حضور ﷺنے ارشاد فرمایا کہ غنا صرف دل کا غنا ہے اور فقر صرف دل کا فقر ہے۔ (الترغیب و الترہیب)
حقیقت یہی ہے کہ اصل غنا دل کا غنا ہے، جس خوش قسمت کو حق تعالیٰ شانہٗ نصیب فرما دے اور یہی حقیقی زہد ہے۔ جس دل کے اندر مال کی محبت بالکل نہ ہو وہی غنی ہے، وہی زاہد ہے، چاہے ظاہر میں اس کے پاس مال نہ ہو۔ اور جس دل میں دنیا کی محبت ہووہ فقیر ہے، وہ دنیا دا ر ہے، چاہے کتنا ہی مال اس کے پاس ہو۔
فقیہ ابواللیث ؒ ایک حکیم کا مقولہ نقل کرتے ہیں کہ ہم نے چار چیزیں تلاش کیں اور ان کی تلاش کا غلط راستہ اختیارکیا۔ ہم نے غنا کو مال میں تلاش کیا، حالاںکہ وہ مال میں نہیں تھا، بلکہ قناعت میں تھا (ہم اس کو مال میں تلاش کرتے رہے اور جب وہ وہاں تھا ہی نہیں تو کیسے ملتا)، ہم نے راحت کو (جان و مال کی )کثرت میں تلاش کیا، حالاںکہ راحت ان کی کمی میں تھی۔ ہم نے اِعزاز کو مخلوق میں تلاش کیا (کہ ان کی خوشی کے اسباب اختیار کریں تاکہ ان کے یہاں اِعزاز ہو)، مگر وہ تقویٰ میں ملا (اور بالکل صحیح ہے، جس قدر آدمی میں تقویٰ زیادہ ہوگا اتنا ہی اس کا اِعزاز زیادہ ہوگا)۔ ہم نے اللہ کی نعمت کو کھانے اور پہننے میں تلاش کیا (اوریہ سمجھا کہ یہ اللہ کے بڑے انعامات ہیں) حالاںکہ اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام اسلام کی دولت اور گناہوں کی ستاری ہے (جس کو یہ دو نعمتیں حاصل ہیں اس پر اللہ کا بڑا انعام ہے)۔
حضورﷺکا ارشاد نقل کیا گیا کہ جس شخص کا دنیا مقصد بن جائے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر تین چیزیں مسلط کر دیتا ہے۔ ایک ایسا غم جو کبھی ختم ہونے والا نہ ہو اور ایسا مشغلہ جس سے فراغت نصیب نہ ہو اور ایسا فقر جس کا کبھی خاتمہ نہ ہو۔ (تنبیہ الغافلین)
ٍحضورِاقدسﷺ کا ارشادہے کہ جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جس کواللہ تعالیٰ نے دنیا سے بے رغبتی اور کم بولنا عطا فرمایا ہو تو اس کے پاس رہا کرو، اس کو حکمت دی گئی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
حدیث میں ہے کہ اپنے سے زیادہ مال داروں کی طرف نگاہیں نہ لے جایا کرو، اپنے سے کم درجہ والوں کو سوچا کرو، اس سے اس نعمت کی حقارت تمہارے دلوں میں نہیں ہوگی جو اللہ نے تمہیں عطا کر رکھی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت ابوذرّ غفاریؓ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب (ﷺ) نے سات نصیحتیں کی ہیں۔
۱۔ مجھے اس کاحکم فرمایا ہے کہ مسکینوں سے محبت کیا کروں اور ان کے قریب رہا کروں.
۲۔ مجھے اس کا حکم فرمایا ہے کہ میںاپنے سے اونچے لوگوں (زیادہ مال دار وں پر) نگاہ نہ رکھا کروں، اپنے سے کم درجہ والوں پر نگاہ رکھوں (ان پر غور کیا کروں)۔
۳۔ مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں صلہ رحمی کیا کروں اگرچہ وہ مجھ سے منہ پھیرے۔ (یعنی جس کے ساتھ صلہ رحمی کروں وہ مجھ سے غائب ہو، دور ہو، یا یہ کہ وہ میرے ساتھ توجہ سے پیش نہ آئے بلکہ مجھ سے روگردانی کرے۔ ’’ترغیب ترہیب‘‘ کے الفاظ یہ ہیں کہ اگرچہ وہ مجھ پر ظلم کرے۔ اس سے دوسرے معنی کی تائید ہوتی ہے)
۴۔ مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں کسی شخص سے کوئی چیز نہ مانگوں۔
۵۔مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں حق بات کہوں چاہے کسی کو کڑوی ہی لگے۔
۶۔ مجھے حکم فرمایا ہے کہ میںاللہ تعالیٰ شانہٗ کی رضا کے مقابلہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کروں (یعنی جس چیز سے اللہ تعالیٰ
راضی ہو، اس کو اختیار کروں، اس کے کرنے پر اَحمق لوگ ملامت کریں تو کیا کریں)۔
۷۔ مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں لَاحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ کثرت سے پڑھا کروں۔ اس لئے کہ یہ کلمات ایسے خزانہ سے اُترے ہیں جو خاص عرش کے نیچے ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح) لَاحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ کو کثرت سے پڑھنے کی ترغیب بہت کثرت سے روایات میں آئی ہے۔
ابنِ سماک رحمۃ اللہ علیہ ایک بادشاہ کے پاس گئے۔ بادشاہ کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا۔ بادشاہ نے ان سے درخواست کی کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ ابنِ سماک رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ گلاس پانی کا اسی ساری سلطنت کے بدلہ میں مل سکتا ہے جو تمہارے پاس ہے اور نہ خریدا جائے تو پانی ملنے کی کوئی صورت نہیں، پیاسے ہی رہنا ہوگا، کیاتم راضی ہو جائو گے کہ ساری سلطنت دے کر پانی خریدو، ورنہ پیاسے مرجائو؟ بادشاہ نے کہا: یقیناً راضی ہوجائوں گا۔ ابنِ سماک رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ ایسی بادشاہت پر کیا خوش ہونا جس کی ساری کی قیمت ایک گلاس پانی ہو۔
عون بن عبداللہ ؒکہتے ہیں کہ میں اکثر مال داروں کے پاس بیٹھا کرتاتھا تومیری طبیعت غمگین رہتی۔ کسی کا کپڑا اپنے کپڑے سے بہتر دیکھتا (تو اپنے کپڑے کے ادنیٰ ہونے پراپنی ذلت محسوس کرتا جس سے رنج ہوتا)، کسی کا گھوڑا اپنے گھوڑے سے اعلیٰ دیکھتا۔ پھر میں نے فقرا کے پاس اپنی نشست شروع کر دی تو مجھے اس رنج سے راحت مل گئی (کہ ان لوگوں سے اپنی چیزوں کو افضل دیکھتا ہوں)۔ (اِحیاء العلوم)
نفیساتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پریشانیوں ،غموں، دِل و رُوح کی بے سُکونی اور نفسیاتی دباوؤں کے بڑے بنیادی اسباب میں سے اہم بنیادی سبب ، جو کہ سب سے زیادہ موجود ہوتا ہے ، اپنے پاس ہونے والے چیزوں پر راضی نہ ہونا ہوتا ہے ،اور ہمارےنبی کریمﷺ نے صدیوں پہلے ہمیں سکھایا تھا کہ وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ
جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے حصہ مقرر کیا ہے اُس پر راضی رہو تو تونگر(غِنیِ) ترین لوگوں میں سے ہو جاؤ گے(سُنن الترمذی )
جو کہ کچھ ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اُس کا نہ ملنا کوئی انوکھی بات نہیں ، بلکہ ایسا ہونا ہماری زندگیوں کے معمولات میں سے ایک ہے ، لیکن ہم اس معمول کو معمول سمجھنے کی بجائے اسےحسرت اور دُکھ بنا لیتے ہیں اور پھر وہ حسرت اور دُکھ ہمارے اندر طرح طرح کی پریشانیاں ، غم ، اور نفسیاتی دباؤ پیدا کرنے کے سبب بنتے ہیں ، بلکہ بسا اوقات تو مادی طور پر جسمانی بیماریوں کا بھی سبب بن جاتے ہیں۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ مل توجاتا ہےلیکن اُس کے ملنے کے نتیجے میں جو کچھ توقعات لگائے ہوتے ہیں وہ پوری نہیں ہو پاتِیں ، پس اس صورت میں بھی ہم اپنی خواہش کے مطابق چیز ملنے کے باوجود مطمئن نہیں ہوتے ، سُکون نہیں پاتے ، بلکہ مزید حسرتوں اور دُکھوں کو خود پر مسلط کر لیتے ہیں اور نتیجہ پہلی صُورت سے زیادہ منفی اور تکلیف دہ ہوجاتا ہے ،اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ پاناچاہتے ہیں وہ مل بھی جاتا ہے ، اور اس کے ملنے کے نتیجے میں جو کچھ توقعات ہوتی ہیں وہ بھی پوری ہوتی ہیں ، لیکن ہمیں اُس چیز کے کھو جانے ، ختم ہوجانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے اور اُس کے کھو جانے ، ختم ہوجانے کے بعد اُس کے بغیر ہو سکنے والی ممکنہ پریشانی کی سوچ ہمیں مذکورہ بالا دونوں حالتوں سے زیادہ حسرت زدہ کر کے خوف ، غم اور نفیساتی دکھوں کے حوالے کرتی ہے ،اِن تمام حالتوں کا ایک ہی سبب ہے ، اور وہ ہے ،اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سےکی گئی تقسیمء رزق پر ، اللہ کے فیصلہ کردہ رزق کے ملنے پر ، اللہ کے فیصلے کے مطابق رزق میں سے کچھ کم ہوجانے پر ، اللہ کی طرف سے مقرر کردہ دُنیا کے مال و اسباب میں سے ملنے والے حصے پر راضی نہ ہونا ۔
اختتام پر جو لفظ درع زہد کہا گیاہے اُس کے معنی ہیں یہ۔ اصلاح کر لیجئے گا۔ بحوالہ عوارف العارف (حضرت شیخ شہاب الدین سہرودیؒ)
دُرًعٌ [عام] [اسم] قمری مہینہ کی سولہویں سترھویں اور اٹھارھویں راتیں ( ان کا ابتدائی حصہ تاریک اور آخرى حصہ روشن ہوتا ہے ) (2) کھجور کی کلیاں۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔