منگل، 3 جنوری، 2023

حدیث نمبر15--لُعِنَ عَبْدُ الدِّينَارِ لُعِنَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ

0 Comments

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بروز منگل 3 جنوری 2023/ 10 جمادی الثانی 1444 ہجری

تمام یارانِ طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام قبول ہو۔ ان شاء اللہ آج ہم حدیث نمبر 15 کا سبق سکھیں گے۔ تو چلتےہیں سبق کی طرف ۔

حدیث نمبر15

(لُعِنَ عَبْدُ الدِّينَارِ لُعِنَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ)

 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لُعِنَ عَبْدُ الدِّينَارِ لُعِنَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيث مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.(جامع ترمذی 2375)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لعنت کی گئی ہے درہم کے بندے اور دینار کے بندے پر۔

امام ترمذی کہتے ہیں:

۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،

۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ «عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے اور یہ بھی سند اس سے زیادہ مکمل اور طویل ہے۔

عَبْدُ     بندہ    -    الدِّينَارِ    دینار    -    لُعِنَ    لعنت    -    الدِّرْهَمِ    درہم

وضاحت: اس حدیث مبارکہ میں درہم و دینا کے بندوں سے مراد دولت کی لالچ وہوس میں حرام طریقوں سے مال کمانے والے ہیں،یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام ننانوے کے پھیر میں راتوں رات امیر بننے کے خواب نہیں دیکھتے بلکہ وہ دولت کی برائیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔

یہ بات اس طرح بھی روایت میں آئی سماعت کیجئے گا۔

(مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ , وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ , وَعَبْدُ الْقَطِيفَةِ , وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ , إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ , وَإِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَفِ".

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”ہلاک ہوا دینار و درہم کا بندہ اور چادر اور شال کا بندہ، اگر اس کو یہ چیزیں دے دی جائیں تو خوش رہے، اور اگر نہ دی جائیں تو (اپنا عہد) پورا نہ کرے“۔(صحیح البخاری-2886)

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: أَفَرَءَيتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوىٰهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلىٰ عِلمٍ وَخَتَمَ عَلىٰ سَمعِهِ وَقَلبِهِ وَجَعَلَ عَلىٰ بَصَرِهِ غِشٰوَةً فَمَن يَهديهِ مِن بَعدِ اللَّهِ ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ {45:23}(سورۃ الجاثیہ، آیت23،پارہ25)

بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرالیا اور اللہ نے اسے با وصف علم کے گمراہ کیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے، تو کیا تم دھیان نہیں کرتے۔

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟یعنی اللہ جانتا تھا کہ اسکی استعداد خراب ہے اور اسی قابل ہے کہ سیدھی راہ سے اِدھر اُدھر بھٹکتا پھرے۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ بدبخت علم رکھنے کے باوجود اور سمجھنے بوجھنے کے بعد گمراہ ہوا۔

جو شخص محض خواہش نفس کو اپنا حاکم اور معبود ٹھہرا لے، جدھر اسکی خواہش لے چلے ادھر ہی چل پڑے اور حق و ناحق کے جانچنے کا معیار اسکے پاس یہ ہی خواہش نفس رہ جائے، نہ دل سچی بات کوسمجھتا ہے، نہ آنکھ سے بصیرت کی روشنی نظر آتی ہے ۔ ظاہر ہے اللہ جسکو اس کی کرتوت کی بدولت ایسی حالت پر پہنچا دے، کونسی طاقت ہے جو اسکے بعد اسے راہ پر لے آئے۔

  یحیی بن یوسف، ابوبکر، ابوحصین، ابوصالح، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، دینار و درہم اور قطیفہ وخمیصہ (ریشمی چادر اور اونی کپڑوں) کے بندے ہلاک ہوں اگر انہیں یہ چیز ملتی ہیں تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر نہیں ملتی ہیں، تو  ناراض ہوجاتے ہیں۔(صحیح بخاری)

اگر پانی کشتی کے نیچے رہے تو کشتی کے چلنے کا وہی ذریعہ بھی ہوتا ہے اور اگر پانی کشتی کے اندر داخل ہوجاوے تو اس کو ڈبونے کا بھی وہی ذریعہ بنتا ہے۔ پس دنیا اگر آخرت کی کشتی کے نیچے رہے تو وہی دنیا دین کی مددگار بن جاتی ہے اور اگر دنیا کی محبت دل کے اندر گھس جاوئے  (یعنی آخرت کی کشتی کے اندر) تو آخرت کو تباہ کردیتی ہے۔

کَمَا ھُوَ فِی الْحَدِیْثِ بِرِوَایَۃِ اَحْمَدَ لَابَأْسَ بِالْغِنٰی لِمَنِ اتَّقَی اللہَ عَزَّ وَجَلَّ  مال داری مضر نہیں اس کے لیے جو اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرتا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جاہل صوفیا جو متقی مال داروں کو بھی دنیا دار سمجھتے ہیں اور ان کو کسبِ معاش سے روکتے ہیں سخت غلطی پر ہیں۔

  ؎ کسبِ دنیا تو  کر  ہوس کم   کر اس  پہ  تو  دین  کو  مقدم  کر

کچھ معلومات درھم ودینا کرنسی کے متعلق لگے ہاتھوں سماعت کر لیجئے۔ اسلام کے خیر القرون میں کاغذی کرنسی کا تصور نہیں ملتا، بلکہ زمانہ قریب میں سلطنت عثمانیہ کے آخری دور تک بھی یہ مروج نہیں ہو سکی تھی، اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر ماضی قریب تک سونے، چاندی کے سکے یعنی درہم ودینار ہی بطور کرنسی استعمال ہوتے رہے ہیں، ان کا ذکر قرآن و حدیث میں بھی آیا ہے اور فقہا نے بھی ان کی اہمیت اور ان کے ذریعے لین دین کے تفصیلی احکام بیان فرمائے ہیں۔

عرب لوگ دینار کو’’عین‘‘ اور چاندی کے درہم کو ’’ورق‘‘ کہا کرتے تھے، درہم ودینا ر اسلام سے قبل اور اسلام آنے کے بعد عربوں میں زیراستعمال رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح 480 درہم مہر کے عوض کیا۔ آپ علیہ السلام کے دور میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بازنطینی اور چاندی کے ساسانی سکے جاری رہے، جن کا تناسب اس طرح تھا کہ دینار وزن میں 10 درہموں کے مساوی ہوتے تھے اور ایک درہم(3.06) گرام کا جبکہ ایک دینار(4.374)گرام کا ہوتا تھا۔

خلافت راشدہ کے دور میں دار الضرب (ٹیکسال) موجود تھا اس میں سکے ڈھالے جاتے تھے، سونے چاندی کے قسم قسم کے سکے موجود تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فارس حکومت کے طرز پر دارالضرب قائم کیا، بعض سکوں پر ’’الحمد للہ‘‘ اور بعض پر ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے نقش کا اضافہ کیا۔ اسی طرح ان کے زمانہ میں 10 درہم کا مجموعی وزن 6 مثقال کے برابر ہوا کرتا تھا۔ (اسلام کا اقتصادی نظام،ص:473شیح الہند اکیڈمی کراچی)

درہم ودینار کا مسلسل استحکام:

نبی کریم ﷺ کےظاہری وصال کے کچھ عرصہ بعد مسلمانوں میں زر کے جو معیاری سکے وجود میں آئے، ان میں دینار(4.374)گرام سونے  کا تھا اور درہم (3.018)گرام چاندی کا تھا۔ اکتوبر2011ء کے اوائل کی قیمتوں کے مطابق دینار تقریبا دو سو اٹھارہ امریکی ڈالر اور درہم تقریبا سوا تین امریکی ڈالر کا تھا۔ یہ قدری تعین ایک اہم نکتہ نظر پہ لاتا ہے، مگر اکثر طور پر نظر انداز کیا گیا۔ اگر سونے اور چاندی کو قدر کے پیمانے کے طور پر استعمال کیا جاتا تو مکہ اور مدینہ کی14سو سال پیشتر کی قیمتیں آج کی قیمتوں سے زیادہ مختلف نہ ہوتیں۔ 

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺنے انہیں بھیڑخریدنے کے لیے ایک دینار دیا۔ حضرت عروہ نے آپ کے لیے اتنے پیسوں سے دو بھیڑ یں خریدیں۔ پھر انہوں نے ایک بھیڑ ایک دینار میں بیچ دی اور ایک بھیڑ نبی کریم ﷺکے پاس لے آئے۔ اس پر نبی کریم ﷺنے تجارت میں برکت کی دعا دی، چنانچہ حضرت عروہؓ ہر سودے میں ہمیشہ ہی نفع کمایا کرتے تھے،خواہ وہ سودا مٹی کا ہی کیوں نہ ہو۔(صحیح البخاری: 1332/3)

اب صورت حال یہ ہے کہ آج بھی ایک دینار کی مقدار کے برابر سونے سے ایک بھیڑ خریدی جا سکتی ہے اور اگر کوئی تھوڑی زیادہ کوشش کرے تو اس سے دو بھیڑیں بھی خریدی جا سکتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دینار ودرہم کی قیمت میں مسلسل استحکام پایا جاتا ہے، جبکہ کاغذی زر کبھی اور کسی بھی صورت میں اپنی قیمت برقرار نہیں رکھ سکتا اور روز بروز انحطاط کا شکار ہوتا ہے۔

حضرت خواجہ عثمان ہرونی  ؒ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ مرد کو ایسا ہونا چاہئیکہ اس دنیا کی طرف نگاہ نہ کرے اور نزدیک نہ پھٹکے اور جو کچھ اسے ملے خداکی راہ میں خرچ کردے اور کچھ ذخیرہ نہ کرے۔پھر فرمایا کہ میں نے خواجہ یوسف چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ ما ل کا شکریہ ادا کرنا صدقہ دینا ہے اور اسلام کا شکریہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہنا ہے۔اور جو شخص اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہتا ہے اسلام کا شکریہ بجا لاتا ہے اور جو شخص زکوٰۃ اور صدقہ دیتا ہے وہ مال کا حق ادا کرتا ہے۔

-----

----



اس میں شبہ نہیں کہ دولت وثروت اللہ کی نعمت ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے، اسے اللہ کی معصیت میں نہیں بلکہ اللہ کو راضی کرنے والے راستوں میں خرچ کرنا چاہیے، اسراف وفضول خرچی سے بچنا چاہیے اور غریبوں وناداروں کا خیال رکھنا چاہیے۔ اہل علم کو بھی چاہیے کہ وہ حکمت ودانائی کے ساتھ اہل ثروت تک حق بات پہچانتے رہیں اور حق بات کہنے سے محض مالداروں کو خوش کرنے کیلئے خاموشی اختیار نہ کریں کہ بسا اوقات ان سے خلاف شر ع باتوں کا صدور نادانی وغفلت اور ناواقفیت ولاعلمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان میں قبول حق کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، اگر بھلے طریقے پر ناصحانہ انداز میں انہیں درست بات کہی جائے اور اس میں اخلاص ہو تویہ بات سنی جاتی اور اس پر اثر ہوتا ہے۔



0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔