
حدیث نمبر16
( مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ )
دو بھوکے بھیڑیوں کا بیان
سنن الدرامی -حدیث نمبر 2765
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَيُرْوَى فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ.
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
"مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ".
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2772]»
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2376]، [ابن حبان 3228]، [موارد الظمآن 2472، وله شاهد عند الطبراني 96/19، 189] و [شعب الايمان للبيهقي 10265، وغيرهم]
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، انہوں نے زکریا بن ابی زیدہ کی سند سے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ کی سند سے،حضرت ابن کعب بن مالک انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دو بھوکے بھیڑیئے
بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا تقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لیئے نقصان دہ ہے۔
ذِئْبَانِ دو بھیڑیے - جَائِعَانِ بھوکا - أُرْسِلَا بھیج دیا گیا - غَنَمٍ بھیڑ
بِأَفْسَدَ خراب - حِرْصِ شوق - الْمَرْءِ ایک - الْمَالِ مال
حضرت کعب بن مالک انصاری ؓ صحابی رسولﷺ اور اصحاب صفہ میں شامل ہیں۔والدہ کا نام لیلی بنت زید بن ثعلبہ تھا اور بنو سلمہ سے تھیں۔ جاہلیت میں ابو بشیر کنیت کرتے تھے،حضور ﷺ نے بدل کر ابو عبد اللہ کر دی، مالک کے یہی ایک چشم و چراغ تھے۔ امام ابن ابی حاتم نے کعب کو اصحابِ صفہ میں شمار کیا ہے۔( کتاب الجرح والتعدیل)عقبہ ثانیہ میں 70 آدمیوں کے ساتھ مکہ آ کر بیعت کی۔حضورﷺ مدینہ تشریف لائے اور انصار و مہاجرین میں برادری قائم کی تو طلحہ بن عبید اللہ کو کہ جو عشرۂ مبشرہ میں سے تھے، ان کا بھائی بنایا۔غزوۂ احد میں اپنے مہاجر بھائی کی طرح داد شجاعت دی،حضورﷺ کی زرد زرہ پہن کر میدان میں آئے،حضور ﷺ ان کی زرہ زیب تن کی تھے، اس لڑائی میں 111 زخم کھائے۔الاستیعاب میں امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ تین انصاری صحابی رسول اللہﷺ کی مدافعت میں اشعار پڑھا کرتے تھے وہ حسان بن ثابت، عبد اللہ بن رواحہ اور کعب بن مالک ہیں۔ان کی شاعری کا موضوع کفار کو لڑائی سے ڈرانا اور مسلمانوں کا ان کے قلوب میں سکہ جمانا تھا، دربار رسالت ﷺمیں تین شاعر تھے اور تینوں کے موضوع جداگانہ تھے،ان کے کلام کے اثر کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ
صرف دو بیعت کہے اور تمام قبیلۂ دوس مسلمان ہو گیا، وہ شعر یہ تھے:
؎ قضینا تہامۃ کل وتر وخیر ثمہ اغمدنا ایسونا یخرھا ولو نطقت لقالت قواطعھن دوسا او ثقیفا
تہامہ اور خیبر سے ہم نے کینہ کو دور کرکے تلواریں نیام میں کر لیں
اب ہم پھر ان کو اٹھاتے ہیں اور اگر وہ بول سکیں تو کہیں کہ اب دوس یا ثقیف کی باری ہے
دوسیوں نے سنا تو کہا کہ مسلمان ہو جانا بہتر ہے، ورنہ ثقیف کی طرح ہمارا بھی حشر ہوگا۔
وضاحت اس حدیث مبارکہ میں مال اور مرتبہ کی حرص کی مذمت کی گئی۔اسی لیے حقیقی صوفیاء مال و مرتبہ کی حرص میں مبتلا نہیں ہوتے، وہ مخلوق کے ساتھ محتاج ہوکر نذرانے نہیں بٹورتے ہیں اور نہ ہی اپنے نام کے ساتھ خود’’الحاج ، صوفی، حافظ ،قاری ،عارف باللہ وغیرہ کے الفاظ لکھ کر ’’آستانہ‘‘ اور ’’خانقاہ ودربار‘‘ کے بورڈ لگاتے ہیں ،بلکہ دنیائے فانی کے مناصب کو ہرگز قبول نہیںکرتے۔
حرص کی تعریف کتاب مرقاۃ، کتاب الرقاق، باب الامل والحرص، ج۹، ص۱۱۹، تحت الباب: ۲، مرآۃ المناجیح، ج۷، ص۸۶مفصلاً
’’خواہشات کی زیادتی کے اِرادے کا نام حرص ہے اوربُری حرص یہ ہے کہ اپنا حصہ حاصل کرلینے کے باوجود دوسرے کے حصے کی لالچ رکھے ۔ یا کسی چیز سے جی نہ بھرنے اور ہمیشہ زیادتی کی خواہش رکھنے کو حرص ،اور حرص رکھنے والے کو حریص کہتے ہیں۔"
اس حدیث میں نبی کریمﷺ نے دو بھوکے بھیڑیوں اور بکریوں کی مثال دے کر یہ واضح فرمایا کہ بھوکے بھیڑیے بکریوں کو پا کر اپنی بھوک مٹانے اور نفس کی خواہش کو پوری کرنے کے لیے ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اور انتہائی بے دردی اور سفاکی سے اس ریوڑ کوتباہ و برباد کرتے ہیں۔ ایک طرف تو بکریوں کا نقصان ہوتا ہے اور دوسری طرف ریوڑ کے مالک کو بھی نقصان کا شدید احسا س ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ انہیں جو نقصان پہنچ رہا ہے، ان سے زیادہ شدید نقصان وہ لوگ دین اور سماج کو پہنچاتے ہیں جو مال و دولت کے جمع کرنے اور عزت و مرتبہ حاصل کرنے کے لیے اپنی نفسانی خواہشات کی غلامی کرتے ہیں اور نہ ختم ہونے والی حرص و ہوس کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔ انسانیت کے یہ بھیڑیے اللہ کے دین کو بھی پامال کرتے ہیں اور سماج کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ
أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿سورۃ الروم، آیت41،پارہ21﴾
ترجمہ: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انہیں ان کے بعض کوتکوں (برے کاموں) کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں ۔
جن دلوں میں اللہ اپنی محبت ڈال دے تو سمجھ لیں کہ اس نے ان دلوں کو چن لیا تھا اور یہ وہی تھے جن کے لئے جبرئیلؑ کو بتا دیا تھا۔ پس یہ لوگ محبوب پہلے ہوتے ہیں اور محب بعد میں ہوتے ہیں۔اپنے اولیاء کو حُبِّ دنیا سے بچانے کا خصوصی اہتمام اللہ خودکرتا ہے چونکہ اب یہ لوگ محبوب بھی بن گئے اور محب بھی بن گئے اور اللہ خود بھی ان لوگوں کی حفاظت کرتا ہے تاکہ ان کے دل کسی دوسری محبت میں پھنس نہ جائیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے :يَا دُنْيَا مُرِّ عَلٰی اَوْلِيآئِیْ وَلَا تَحْلَوْلِ لَهُمْ.
’’اے دنیا میرے اولیاء کے اوپر کڑوی بن کر رہ اور ان کے لئے بہت میٹھی نہ بن‘‘۔
اگر تو میرے اولیاء کے لئے ہمہ وقت بہت میٹھی بن گئی تو کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ (وَتَفْتَنِیْہِمْ) ان کے دل تیرے فتنے میں مبتلا ہو جائیں اور میں نہیں چاہتا کہ وہ تیرے فتنے میں الجھ جائیں اس لئے کہ مجھے ان سے محبت ہے اور انہیں مجھ سے محبت ہے۔ پس چاہتا ہوں کہ وہ میرے رہیں اور
میں ان کا رہوں۔اللہ والوں کے لئے دنیا کو اللہ کا یہ حکم ہے۔ لہٰذا ان کی زندگیوں میں زیروبم آتے رہتے ہیں۔ آزمائشیں آتی رہتی ہیں۔ اگر میٹھا لقمہ دے دیا تو ساتھ کڑوا بھی دے دیا ۔ عسرت و یسرت (تنگی و آسانی) اللہ ان کے لئے ملا ملا کر چلاتا ہے۔ تاکہ ان کے دل دنیا میں الجھ نہ جائیں۔ دنیا کے فتنے میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ گویا اللہ ان دلوں کو اپنی محبت کے لئے خالص رکھنا چاہتا ہے اس لئے کہ یہی دل حامل محبت ہیں۔
ارشاد باری ہے : ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّاہَا ، وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاہَا﴾( الشمس: 9 تا10،پارہ30)
”بے شک وہ شخص کا م یاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور وہ نا کا م ونا مراد ہو گیا جس نے اپنے نفس کو مٹی آلود کر دیا“۔
مشائخ سلاسل نےجن رذائلِ اخلاق سے اپنے اندر کو پاک کرنے کی تعلیم دیں ہے وہ یہ ہیں : بد نیتی ،نا شکری، جھوٹ ، وعدہ خلافی ، خیانت ، بددیا نتی ، غیبت وچغلی ، بہتان ، بد گوئی و بدگمانی ، خوشامد و چاپلوسی ، بخل و حرص ، ظلم ، فخر ، ریا و نمود و حرام خوری و غیرہ ۔
اس حدیث کو امام طبرانی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ایک فرشتہ (بیٹھا) کہتا رہتا ہے : جو آج قرض دے گا کل اسے اس کی جزا دی جائے گی، اور دوسرا فرشتہ دوسرے دروازے پر (بیٹھا) کہتا رہتا ہے : اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا نعم البدل عطا فرما اور مال کو روک کر رکھنے والے (بخیل) کو (مال کی) بربادی عطا فرما۔‘‘
ایک بات یاد آئی کہ سورۃا لھمزۃ میں تین سخت گناہوں پر عذاب ِشدید کی وعید آئی ہے اور پھر اس عذاب کی شدت بیان کی گئی ہے۔ وہ تین گناہ یہ ہیں: غیبت، استہزا (دوسروں کا مذاق اڑانا) اور خوب مال جمع کرنا (اور اس مال کے حقوق ادا نہ کرنا)۔
کلام الٰہی میں ایک بات واضح انداز میں بیان کردی گئی ہے:
الَّذِیۡ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَہٗ ۙ﴿۲﴾ جو مال جمع کرتا ہو اور اس کو بار بار گنتا ہو ﴿۲﴾
اس آیت کریمہ میں تیسرے بڑے گناہ کا ذکر آیا ہے۔ وہ گناہ یہ ہے کہ انسان خوب مال جمع کرنے کی فکر میں رہتا ہے اور ہر وقت مال گن گن کر رکھتا ہے۔ جس انسان کے دل میں مال کی بےحد محبّت، لالچ اور طمع ہوتی ہے، تو یہ مال کی لالچ اس کو اچھے کاموں میں مال خرچ کرنے سے روکتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے مال خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس آیت کریمہ میں جو وعید وارد ہوئی ہے وہ تمام مال داروں اور اہل ثروت کے لئے نہیں ہے؛ بلکہ وہ ان مال داروں کے لئے ہے جو مال اکٹھا کر کے رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا نہیں کرتے ہیں، نیز بندوں کے حقوق اور غرباء اور مساکین کے حقوق ادا نہیں کرتے ہیں۔
مال و دولت کے معاملے میں انسان کا کون سا رویہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور کون سا رویہ اس کے غضب کو دعوت دیتا ہے؟ قرآن میں اس کی متعدد مثالیں بیان کی گئی ہیں۔یہاں دو مثالیں پیش کروںگا:
پہلی مثال سورۂ کہف کی آیات:32۔44،پارہ 15میں سے ہیں۔اس میں دو انسانوں کے کردار پیش کیے گئے ہیں ۔ایک کردار ایسے انسان کا ہے جس کو اللہ تعالی نے خوب مال و دولت سے نوازا تھا۔اس کے پاس انگور کے دو باغات تھے۔ان کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگی ہوئی تھی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین تھی۔اس کے باغات خوب پھل دیتے تھے اور اس کے نتیجہ میں اس کے پاس کافی دولت اکٹھا ہو گئی تھی۔لیکن یہ سب کچھ پاکر اس کے اندر شکرگزاری کا جذبہ پیدا نہیں ہوا، بلکہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہو گیااور جن لوگو ں کے پاس اس سے کم تر دولت تھی ان کو خود سے حقیر سمجھنے لگا۔دوسرا کردار اس کے دوست کا ہے،جس کے پاس اگرچہ اس کے مقابلے میں کم دولت تھی،لیکن وہ تواضع،خاک ساری اور شکر گزاری کے اوصاف سے متصف تھا۔اس دوست نے اس گھمنڈی اور مغرور شخص کو سمجھانے کی بہت کوشش کی ۔اس نے کہا کہ اللہ تعالی کا شکر ادا کر،کیوں کہ تیرے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ تعالی کی توفیق سے ہے۔اگر وہ چاہے تو تجھ سے ان آسائشوں کو چھین بھی سکتا ہے۔مگر اس تنبیہ اور فہمائش کا اس گھمنڈی انسان پرکچھ بھی اثر نہیں ہوا اور وہ اپنی سابقہ روش پر قائم رہا۔بالآخر اللہ تعالی نے اس کے باغات کو تباہ و برباد کر دیا اور وہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔
دوسری مثال سورۃ القصص:76۔82پارہ 20 میں قارون کی ہے۔یہ حضرت موسی ؑ کی قوم کا آدمی تھا ،لیکن ان کی نافرمانی کرکے اللہ کے دشمن فرعون کے ساتھ جا ملا تھا۔اللہ تعالی نے اسے بے انتہا مال و دولت سے نوازا تھا۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے خزانوں کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھاسکتی تھی۔اس کی قوم کے لوگوں نے اسے سمجھایاکہ اللہ تعالی نے تجھے جن نعمتوں سے نوازا ہے ان پر اس کا شکر ادا کر اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کر۔جس طرح اللہ تعالی نے تجھ پر احسان کیا ہے اسی طرح تو دوسرے انسانوں کے ساتھ بھلائی کر۔دنیا سے بھی اپنا حصہ لے اور آخرت کی بھی فکر کر۔مگر ان باتوں کا اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔اس نے بڑے متکبرانہ انداز میں جواب دیا کہ جو کچھ میرے پاس ہے اسے میں نے اپنے علم و ہنر کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے۔بالآخر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور اسے اس کے خزانوں سمیت زمین میں دہنسادیاگیا۔
حضرت ابو ذر غفاری ؓ مشہور صحابی ہیں۔ بڑے زاہد حضرات میں تھے۔ مال سے عداوت کے ان کے بہت سے عجیب واقعات ہیں۔ ان سے بھی یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضورﷺ کے ساتھ تھا۔ حضورﷺ نے اُحد کے پہاڑ کو دیکھ کر یہ فرمایا کہ اگر یہ پہاڑ سونے کا بن جائے تو مجھے یہ پسند نہیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس تین دن سے زیادہ ٹھہرے، مگر وہ دینار جس کو میں قرض کے ادا کرنے کے لیے محفوظ رکھوں۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا کہ بہت زیادہ مال والے ہی اکثر کم ثواب والے ہیں، مگر وہ شخص جو اس طرح اس طرح کرے۔ حدیث نقل کرنے والے نے ’’اس طرح اس طرح‘‘ کی صورت دونوں ہاتھ ملا کر دائیں بائیں جانب کرکے بتائی۔ یعنی دونوں ہاتھ بھر کر دائیں طرف والے کو دے دے اور بائیں طرف والے کو۔ یعنی ہر شخص کو خوب تقسیم کرے۔ (بخاری)
کشف المحجوب میں حضرت سیّدناداتاعلی ہجویری ؒ فرماتے ہیں :’’ مَیں نے استاد ابوالقاسم قشیری ؒ سے سنا کہ لوگوں نےغربت و امیری میں گفتگو کرکے اپنے لیے ایک کو پسند کرلیاہے۔ مگرمَیں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے لیے میرا جمیلِ حقیقی (اللہ تعالیٰ )جو پسند فرمائے، اس میں ہی مجھے رکھے۔اگر میرے لیے دولت مند ہوناپسند فرمائے تو مجھے اپنی یاد سے غافل نہ کرے اور اگر غربت پسند فرمائے ،تو اس میں حرص و لالچ سے محفوظ رکھے۔
فتوح الغیب میں حضور غوث الاعظم شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی ؓ نے فرمایا کہ اگر تجھے اللہ تعالیٰ مال و دولت عطا فرمائے اور تو اس کی وجہ سے اس کی عبادت سے منہ موڑے تو دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ تیرے لئے حجابات قائم کر دے گا اور ممکن ہے کہ نعمت کے باعث اپنی ذات سے غافل ہونے کی سزا میں تجھے مال سے محروم کرکے تیرے حالات بدل کر تجھے محتاج کر دے ، اور اگر تو مال کی طرف توجہ رکھنے کے بجائے اسی کی اطاعت میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ مال تجھے ہی عطا کئے رکھے گا اور اس میں ذرا بھی کمی نہ ہوگی ، چنانچہ مال و دولت تیری خدمت اور تو اللہ کی بندگی کرتا رہے گا لہٰذا تو دنیا بھی راحت میں گزارے گا اور آخرت میں بھی صدیقین ، شہدا اور صالحین کے ساتھ جنتُ الماویٰ میں عزت سے رہے گا۔
تنگدستی اور عسرت کے زمانے میں خیرات کرنا بڑا مشکل کام ہے ۔لیکن ان لوگوں کے لئے جنہیں اپنے مال اور اپنی اولاد اور اپنے ماں باپ بلکہ کل مخلوق سے زیادہ خدا اور اسکا رسول محبوب ہو یہ کام کچھ مشکل نہیں ۔کہنے کو تو ہر شخص خدا اور اس کے رسول سے محبت کا دعوی رکھتا ہے مگر عملا *لن تنالو البر حتی تنفقوا مما تحبون(آل عمران٩٢)* کی تصویر ایک محب ہی پیش کر سکتا ہے ۔حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا جس میں آپ نے روپیہ پیسے کو جمع کرنے یا دوسرے دن کے لئے کچھ بچا کر رکھ چھوڑنے پر عمل کیا ہو۔ آپکا تمام عمر یہی معمول رہا کہ جو کچھ آیا اسی وقت مساکین میں تقسیم کردیا ۔
ایک دن کسی شخص نے کچھ روپے جناب بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کئے ۔آپ نے وہ روپیہ مولانا سید بدر الدین اسحق کو دے کر فرمایا اس کو تقسیم کردو۔حضرت مولانا نے وہ روپیہ تقسیم کردیا۔کچھ دیر بعد ایک روپیہ فرش پر پڑا ہوا ملا۔آپ نے اس کو اس خیال سے اٹھا لیا کہ صبح فقراء کے کھانے میں کام آجائے گا۔جب بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو نماز بے ذوق اور بے حلاوت تھی۔آپ نے نیت توڑ دی۔جناب بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے مولانا سید بدر الدین اسحق ؒسے پوچھا مولانا کیا وجہ ہے نماز بے ذوق ہے ۔کیا تمہارے پاس کوئی شاہی روپیہ تو باقی نہیں ہے۔مولانا بدر الدین اسحق ؒنے عرض کیا حضور ایک روپیہ میرے پاس ہے ۔اور میں نے اسے صبح کے لئے رکھ چھوڑا ہے ۔حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے وہ روپیہ اظہار ناراضگی کے ساتھ مولانا سے لے کر پھینک دیا اور فرمایا اسے کیوں رکھ چھوڑا اگر کوئی لینے والا نہیں تھا تو باہر پھینک دیا ہوتا ۔جمع کرنا ہمارا شیوہ نہیں ہے۔
دُنیا میں اس وقت تباہی و بربادی انھیں مال پرستوں اور مغرور لوگوں کی جنگ کا نتیجہ ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں پوری دنیا کے وسائل کو ہڑپ کیے جارہی ہیں۔ اقوام کی معیشتوں کو، ان کے معاشروں کو، ان کی سیاست کو تہہ وبالا کررہی ہیں۔ غریب لوگ ایڑیاں رگڑرگڑ کر مر رہے ہیں۔ بیمار انسان اپنا علاج کروانے سے عاجز ہیں۔ عصرِ حاضر میں حُبِّ مال کا مرض بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ حضور ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق نہ صرف فرد کو حُبِّ مال کا مرض نقصان دیتا ہے، بلکہ یہ مرض قوموں اور جماعتوں میں آجائے تو اس کی تباہ کاری کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان اخلاقِ رذیلہ سے محفوظ فرمائے اور اخلاقِ عالیہ نصیب فرمائے۔










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔