جمعرات، 5 جنوری، 2023

حدیث نمبر17--مَا جَاءَ فِي الْحُبِّ فِي اللَّهِ

0 Comments

 

حدیث نمبر17

(مَا جَاءَ فِي الْحُبِّ فِي اللَّهِ)

 اللہ کی خاطر محبت کرنے کا بیان۔سنن ترمذی حدیث نمبر 2390

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:

‏‏‏‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ الْمُتَحَابُّونَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ ،‏‏‏‏ 


وفي الباب عن أَبِي الدَّرْدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ 

هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثُوَبَ.

حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، میں نے سنا رسول اللہ ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرےلئے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے (قیامت کےدن)نور کے منبر ہوں گے جن پر انبیاء  وشہداء بھی رشک کریں گے۔

الْمُتَحَابُّونَ     محبت کرنے والوں    -    لَهُمْ    ان کے لیے    -    مَنَابِرُ    منبر    -    

يَغْبِطُهُمُ    رشک کرنا

امام ترمذی  ؒکہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں ابو الدرداء، ابن مسعود، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ اور ابو مالک اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

وضاحت :اس حدیث قدسی میں اللہ عزّوجل کے لیے محبت کرنے والوں کو فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اسی لیے صوفیائے کرام اللہ کی مخلوق سے صرف اسی کی خاطر اور اسی کی نسبت کے سبب محبت کرتے ہیں۔اور آپس میں محبت کے ساتھ رہنے کا درس بھی دیتےہیں۔

حضرت معاذ بن جبل انصاری خزرجیؓ :

مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد1صفحہ39نعیمی کتب خانہ گجرات میں ہے کہ 

حضورﷺنے آپ کو یمن کا گورنر بنایا، عمر فاروق نے شام کا حاکم مقرر کیا ۔ معاذ نام، ابو عبدالرحمن کنیت،امام الفقہا ءکنز العلماء اور عالم ربانی القاب، قبیلہ خزرج کے خاندان ادی بن سعد سے تھے۔نبوت کے بارہویں سال جب مدینہ میں اسلام کی دعوت شروع ہوئی تو حضرت معاذؓ نے اس کے قبول کرنے میں ذرہ بھی پس و پیش نہ کیا،اُ س وقت آپ ؓ کی عمر 18 سال تھی۔حضرت معاذؓ ابتداہی سے ہونہار تھے،حضورﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہ آپﷺ کے دامن سے وابستہ ہوگئے اورچند ہی دنوں میں فیض نبوت کے اَثر سے اسلام کی تعلیم کا اعلی نمونہ بن گئے اوران کا شمار صحابہ کے برگزیدہ افراد میں ہونے لگا۔ رسول اللہ ﷺ کو ان سے اس قدر محبت تھی کہ بسا اوقات ان کو اپنے ساتھ اونٹ پر بٹھا تے تھے۔

حضورﷺ نے مدینہ تشریف لاکر مواخاۃ کی تو حضرت معاذؓ کا مہاجری بھائی،حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو تجویز فرمایا۔ 2ہجری میں غزوۂ بدر پیش آیا، حضرت معاذؓ اس میں شریک تھے اوراس وقت ان کا سن21سال کا تھا،بدر کے علاوہ تمام غزوات میں حضرت معاذؓ نے شرف شرکت حاصل کیا۔ ان فضائل کے ماسوا حضرت معاذؓ نےحضورﷺ کے عہد مبارک میں قرآن حفظ کیا تھا۔

جب اہل یمن نے حضور ﷺسے درخواست کی کہ ہمارے ساتھ آپ ایک ایسا آدمی بھیج دیجئے جو صرف امیر ہی نہ ہو، بلکہ معلم بھی ہو، تو اس موقع پر آپ ﷺکی نظرمبارک معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر پڑی، چنانچہ آپ ﷺنے ان کو اشارہ کرکے بلایا اور کہا کہ اے معاذ! تم یمن چلے جاؤ تمہاری وہاں ضرورت ہے، پھر آپ ﷺنے تبلیغ سے متعلق کچھ نصیحتیں فرمائی اور ان کو وہاں کا گورنر مقرر فرمادیا اور کہا کہ اے معاذ! واپسی میں شاید تم مجھ سے نہ مل سکوگے، یہ سننا تھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے آنسو بہہ پڑے آپ ﷺکے بھی آنسو شدت محبت کی وجہ سے بہہ پڑے، پھر جب روانہ ہونے لگے، تو حضورﷺپیدل چل رہے تھے اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سواری پر تھے، حضور ﷺساتھ ساتھ چل کر نصیحت بلکہ وصیت فرمارہے تھے، اے معاذ! لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، مشکلات پیدا نہ کرنا، انہیں خوشی ومسرت کا پیغام سنانا، 

ایسی کوئی بات نہ کرنا جس سے انہیں دین سے نفرت ہوجائے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے متعلق نبی کریمﷺ کا یہ ارشاد بھی منقول ہے

 ”معاذ امام العلماء یوم القیامة برتبة“

 معاذ کو قیامت کے دن علماء کی پیشوائی حاصل ہوگی اور ایک بڑا درجہ ان کو ملے گا۔سبحان اللہ

مُحبت انسانی جذبات میں سے سب سے زیادہ نازک ، لیکن اتنا ہی مضبوط اور تُند و تیز جذبہ ہے ، اور اگر یہ جذبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دِیا جائے تو اِس جذبے کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے ،لیکن اِس کے فوری اثرات میں یہ یقینی اثر ہے کہ یہ جذبہ مُسلمانوں کے درمیان ایسے مضبوط اور بے لوث تعلقات کی بنیاد بن جاتا ہے جِس کی مثال کسی اور معاشرے میں نہیں ملتی ، اور جِن تعلقات کے دُنیاوی اور اُخروی مثبت نتائج کی مثال بھی کسی اور عمل میں نہیں ملتی ،اللہ کی خاطر مُحبت کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُمت کو جو نعمتیں عطاء فرماتا ہے، اور اس مُحبت کے جو عظیم فائدے والے نتائج دیتا ہے اُن سب کی بہت سی خبریں ہمیں دی گئی ہیں ، اور انہی خبروں 

میں اللہ کی خاطر ایک دوسرے مُحبت کرنے والوں کی ، اور محبت کی نشانیاں بھی بتائی گئی ہیں ۔ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والےاللہ تعالیٰ کو اپنے فرمانبردا،عبادت گزار اور بلند کردار لوگوں سے محبت ہے ۔پس جو لوگ ان قدسی صفات مردان حق کے ساتھ محبت رکھتے ہیں وہ اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں،کیونکہ دوست کا دوست بھی دوست ہوتاہے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ:”ایک شخص اپنے ایک بھائی سے جو ایک دوسری بستی میں رہتا تھاملاقات کے لئے چلا، تو اللہ تعالیٰ نے اس راہ گزر پر ایک فرشتے کو منتظر بنا کر بٹھا دیا۔( جب وہ شخص اس مقام سے گزرا ،تو)فرشتے نے اُس سے پوچھا :تمہارا کہاں کا ارادہ ہے ؟اُس نے کہا :میں اس بستی میں رہنے والے اپنے ایک بھائی سے ملنے جا رہا ہوں ۔فرشتے نے کہا:کیا اس پر تمہارا کوئی احسان ہے،اور کوئی حق نعمت ہے جس کو تم پورا اور پختہ کرنے کے لئے جا رہے ہو؟ اُس بندے نے کہا: نہیں! میرے جانے کا باعث اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کے لئے مجھے اس بھائی سے محبت ہے( یعنی بس اسی للہٰی محبت کے تعلق اور تقاضے سے میں اس کی زیارت اور ملاقات کے لئے جا رہا ہوں) فرشتے نے کہا کہ میں تمہیں بتایا ہوں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس یہ بتانے کے لئے بھیجا ہے کہ اللہ تم سے محبت کرتا ہے، 

جیسا کہ تم اللہ کے لئے اس کے اس بندے سے محبت کرتے ہو۔“(صحیح مسلم)

حضرت علامہ امام قشیری  ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت جعفرؒ نے سمنون ؒسے روایت کی کہ محبت کرنے والے دنیا اور آخرت کا شرف حاصل کریں گے کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے (متفق علیہ حدیث میں) فرمایا : الْمَرء مَعَ مَنْ أحبّ ’’انسان اسی کے ساتھ ہوتا ہے جس سے اسے محبت ہو۔ لہٰذا  وہ 

اللہ کے ساتھ ہوئے۔(رسالۂ قشیری)

مزید فرمایا کہ حضرت عبد اللہ الانصاری نے الحسین الانصاری رحمہا اللہ سے روایت کی کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا قیامت برپا ہے اور ایک شخص عرش کے نیچے کھڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے : یہ کون ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : اللہ کو بہتر معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

یہ معروف کرخی ہے، یہ میری محبت میں مدہوش ہے، اب وہ میری ملاقات کے بغیر ہوش میں نہیں آ سکتا۔(رسالۂ قشیری)


سورہ الاعراف آیت نمبر128،پارہ 9 ( وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ) کی روشنی میں ایک واقعہ آپ سناتا ہوں کہ  جس کا ترجمہ ہے کہ ’’اور آخر میدان متقین کے ہاتھ ہے‘‘۔

اللہ کی خاطر محبت کرنے کی ایک مثال خلاصتہ العارفین میں ہے کہ حضرت بابا فرید شکر گنج قدس سرہ فرماتے ہیں کہ خواجہ بہاؤاؒ لحق ملتانی کی عادت تھی جب کوئی فوت ہوجاتا تو آپؒ اس کے جنازے کے پیچھے پیچھے جاتے اور جب وہ مُردہ دفن کیا جاتا تو آپ اس کی قبر پر جا کر کچھ دیر درود پاک وغیرہ پڑھتے اور پھر واپس آجاتے ۔ایک دن آپ کا ہمسایہ فوت ہوگیا۔آپؒ اپنی عادتِ مبارکہ کے مطابق جنازے کے پیچھے ہو لئے اور جب اسے دفن کر چکے تو آپؒ کچھ دیر اس کی قبر کے پاس بیٹھ گئے ازاں بعد آپؒ نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اورکہا الحمدللہ،صدرالدینؒ وہاں موجود تھے اُنہوں نے سبب دریافت کیا تو فرمایا۔ جب اس شخص کو دفن کیا گیا تو منکر نکیر آگئے۔ازاں بعد آگ نے اسے جلانا چاہا اتنے میں اس کے پیرشیخ جلالؒ الدین زکریا آگئے اور درمیان میں کھڑے ہوگئے اور آگ کو للکارا کہ دور ہو جا یہ میرا مرید ہے...آواز آئی اے جلال الدینؒ !

ہے توایسا ہی جیسے تو نے کہا ہے ،لیکن اس نے تیرے حکم کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کو چھوڑ دے تاکہ اسے آگ جلائے۔شیخ جلال الدین زکریاؒ نے عرض کی میرے مولا اس نے اگرچہ میری مخالفت کی ہے لیکن اتنا تو کہتا تھا کہ میں جلال الدؒ ین کا مرید ہوں،حکمِ الہٰی ہوا اچھا ہم نے تیری خاطر اسے معاف کردیا۔ تو یہ مرشد کی محبت ہی تھی اللہ کی خاطر جو اس مرید کی بخشش کا باعث بنی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ( سورہ العمران، آیت ۷۶)ترجمہ!’’ اور بے شک اللہ متقین سے محبت فرماتا ہے۔ملاحظہ فرمائیں۔

بابا فرید الدین مسعود شکر گنج قدس سرہ ‘ نے فرمایا ایک دفعہ ایک نوجوان جوکہ بڑا فاسق وفاجر تھا ،ملتان میں فوت ہوا ،اس کے مرنے کے بعد اسے کسی نے خواب میں دیکھ کر دریافت کیا کہ تیرے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا ؟اس نے بتایاکہ مجھے خدا تعالیٰ نے بخش دیااور عزت والوں میں شامل فرمایا ہے، جب اس نے بخشش کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا ایک دن حضرت غوث بہاؤالحق زکریا قدس سرہ‘ ایک راستے پر جارہے تھے تو میں نے عقیدت کے ساتھ ان کے دست مبارک کو بوسہ دیا تھاپس اللہ کے ولی کی تعظیم میری بخشش کا باعث بن گئی ہے، نیز بابا فرید ’’اسرارالاولیاء صفحہ182‘‘پر فرماتے ہیں کہ بروزِ حشر بہت سے گناہ گاروں کو متقین کی دست بوسی کی وجہ سے بخش دیا جائے گا اور انہیں عذابِ دوزخ سے نجات مل جائے گی۔کیونکہ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ( سورہ العمران، آیت ۷۶)ترجمہ!’’ اور بے شک اللہ متقین سے محبت فرماتا ہے۔

علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے :

  خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

میں اس کا بندہ بنوں گا  جس کو  خدا  کے  بندوں سے  پیار  ہو گا!

جو شخص محض اللہ کی خاطر محبت کے جذبات لے کر اپنے مسلمان بھائی کو ملنے جا رہا تھا اللہ تعالیٰ نے فرشتے کے ذریعے اس کو اپنی محبت کی خوشخبری سنائی۔اورغور طلب امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق سے بہت محبت ہے اور جو رب کی پریت میں ڈوب گیا،وہ رب کی مخلوق سے بھی پیار کرنے لگتا ہے۔یہی اللہ کی خاطر آپ میں محبت کا اَثر ہےکہ جس کی وجہ سے مخلوق کائنات ان ہستیوں سے فیض یاب ہوتی ہے اور پھر یہ ولی کاملین مخلوق کے ساتھ رحمدلی،پیار و محبت ، ایثار کا ایسا مظاہرہ کرتے ہیں کہ دل نہ چاہتے ہوئے بھی ان ہستیوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج مسلم و غیر مسلم ہر فرقہ و جماعت سے بالا تر ہو کر اللہ والوں کے نام کو جپتا جاتا ہے جیسے حق فرید ، حق نظام۔یہاں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اللہ کے ساتھ محبت کے زبانی دعوؤں کی کوئی حیثیت نہیں ،محبت وہ ہے جس کے نتیجے میں اطاعت پیداہو ۔خدا کا محبوب بننے کے لئے اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت پر پورے ذوق وشوق کے ساتھ عمل کرنا ہی رضائے الٰہی کے مقام پر فائز ہونا ہے۔



0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔