جمعہ، 6 جنوری، 2023

حدیث نمبر18--نصيحة حضرة عائشة (رضي الله عنه) إلى حضرة معاوية (رضي الله عنه).

0 Comments

 

حدیث نمبر18

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو نصیحت

عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا  أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي عَلَيَّ، فَكَتَبَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ الْتَمَسَ رِضَاءَ اللَّهِ    وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ 

مدینہ کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ کو ایک خط لکھا کہ آپ مجھے ایک مختصر نصیحت تحریر فرمائی۔راوی نے بتایا کہ حضرت عائشہ ؓنے حضرت معاویہؓ کو خط لکھ آپ پر سلام ہو اسکے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپﷺ نے فرمایا جس شخص نے لوگوں کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اللہ کی رضا تلاش کی تو اللہ تعالیٰ لوگوں کی ایذا رسانی سےاسے کفایت کرےگا۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو ناراض کرکے لوگوں کو راضی کرے تواللہ اُسے لوگوں کے سپرد کردیتا ہے اور آپ پر سلامتی ہو۔رواه الترمذي (2414)


یہ حدیث اس انداز سے بھی آئی ہے:

 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ الْوَرْدِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي عَلَيَّ، فَكَتَبَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ الْتَمَسَ رِضَاءَ اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ اللَّهُ مُؤْنَةَ النَّاسِ، وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَاءِ النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ " ,

عبدالوہاب بن ورد سے روایت ہے کہ ان سے مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا: معاویہ رضی الله عنہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ایک خط لکھا کہ مجھے ایک خط لکھئیے اور اس میں کچھ وصیت کیجئے۔ چنانچہ عائشہ رضی الله عنہا نے معاویہ رضی الله عنہ کے پاس خط لکھا: دعا و سلام کے بعد معلوم ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو لوگوں کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو تو لوگوں سے پہنچنے والی تکلیف کے سلسلے میں اللہ اس کے لیے کافی ہو گا اور جو اللہ کی ناراضگی میں لوگوں کی رضا کا طالب ہو تو اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کو اسے تکلیف دینے کے لیے مقرر کر دے گا“، (والسلام علیک تم پر اللہ کی سلامتی نازل ہو)

الْتَمَسَ    درخواست    -    بِسَخَطِ     ناراضی سے    -    مُؤْنَةَ النَّاسِ    لوگوں کا رزق

 بِسَخَطِ اللَّهِ     اللہ کا غضب

من التمس رضاء الله بسخط الناس كفاه الله مؤنة الناس من التمس رضاء الناس بسخط الله وكله الله إلى الناس «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2414)

٭ رجل من أھل المدينة مجھول و روي ابن حبان (الإحسان: 277) عن عائشة رضي الله عنھا أن رسول الله ﷺ قال:(من أرضي الناس بسخط الله کفاه الله و من أسخط الله برضا الناس و کله الله إلي الناس.) وسنده صحيح و رواه أحمد في الزھد (ص 164 ح 908) عن عائشة موقوفًا وسنده صحيح و حديث ابن حبان و أحمد يغني عن حديث الترمذي.»(سند میں ایک راوی (رجل من أھل المدینة) مبہم ہے،لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے۔

وضاحت : اس حدیث پاک میں اللہ کی رضا اور اس کی ناراضگی کے اثرات کا تذکرہ ہے، یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام ’’ ولایخافون لومۃ لائم‘‘ (اور وہ ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کرتے) کا مصداق ہوتے ہیں اور انہیں لوگوں خصوصاً امراء وحکام کی خوشامد کرکے انہیں راضی کرنے کا کوئی شوق نہیں ہوتابلکہ وہ صرف اللہ کو راضی کرنے میں کوشاں رہتے ہیں خواہ انہیں کوئی کچھ بھی ایذا پہنچاتا رہے۔

            حق گوئی میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے کے متعلق یہ حکایت ملاحظہ فرمائیں : قاضی ابو حَازِم  ؒانصاف کے معاملہ میں بہت سخت تھے۔ آپ ؒہمیشہ حق بات کہتے اوردرست فیصلے فرماتے۔ ایک مرتبہ خلیفۂ وقت ’’مُعْتَضِد باللہ‘‘ نے آپ ؒکی طرف پیغام بھیجا: فلاں تاجر نے ہم سے مال خریدا ہے اور نقد رقم ادا نہیں کی ۔وہ میرے علاوہ دوسروں کا بھی مقروض ہے، مجھے خبر پہنچی ہے کہ دوسرے قرضخواہوں نے آپ کے پاس گواہ پیش کئے تو آپ نے اس تاجر کا مال ان میں تقسیم کر دیا ہے ۔ مجھے اس مال سے کچھ بھی نہیں ملا حالانکہ جس طر ح وہ دوسروں کا مقروض تھا اسی طرح میرا بھی تھا، لہٰذامیرا حصہ بھی دیا جائے ۔پیغام پاکر قاضی ابو حَازِم ؒ نے قاصد سے کہا: خلیفہ سے کہنا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر دراز فرمائے، وہ وقت یاد کرو جب آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ میں نے فیصلوں کی ذمہ داری کا بوجھ اپنی گردن سے اُتار کر تمہارے گلے میں ڈال دیا ہے ۔ اے خلیفہ! اب میں فیصلہ کرنے کا مختار ہوں اور میرے لئے جائز نہیں کہ گواہوں کے بغیر کسی مُدَّعی کے حق میں فیصلہ کروں۔ قاصد نے قاضی صاحب کاپیغام سنایا توخلیفہ نے کہا: جاؤ ! قاضی صاحب سے کہوکہ میرے پاس بہت معتبر اور معزز گواہ موجود ہیں۔ جب قاضی صاحب کو یہ پیغام ملا تو فرمایا: گواہ میرے سامنے آکر گواہی دیں ،میں ان سے پوچھ گچھ کروں گا، شہادت کے تقاضوں پر پورے اُتر ے تو ان کی گواہی قبول کرلوں گا ورنہ وہی فیصلہ قابلِ عمل رہے گا جو میں کر چکا ہوں۔ جب گواہوں کو قاضی صاحب کا یہ پیغام پہنچا تو انہوں نےآپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے خوف کھاتے ہوئے عدالت آنے سے انکار کردیا۔ لہٰذا قاضی صاحب نے خلیفہ مُعْتَضِد باللہ  کا دعویٰ رد کرتے ہوئے اسے کچھ بھی نہ بھجوایا۔ (عیون الحکایات)

حضور غو ث الاعظم شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی  ؒحکام و سلاطین و خلیفہ ِ وقت پر تنقید اور ان کے غلط فیصلوں کی مذمت بھی کرتے اور اس کے بارے میں کسی کی وجاہت اور اثر کی مطلق پرواہ نہ کرتے۔ حافظ عمادالدین بن کثیر رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :آپ خلفا ء، وزرا، سلاطین کو بڑی صاف گوئی اور بیباکی و جرأت کے ساتھ ان کو بھرے مجمع میں بر سر منبر ٹوک دیتے۔ جو کسی ظالم کو حاکم بناتا اس پر اعتراض کرتے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت والے کی آپ کو پرواہ نہ ہوتی تھی۔

آپ نے  یہ سنا ہوگا یقیناًکہ ہنوز دہلی دور است (ابھی دلی دور ہے )

جب کوئی شخص اپنی حیثیت سے بڑی چیزکو حاصل کر نے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کہاوت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کہاوت کا تعلق ایک واقعہ سے ہے جو ہمیں محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی یاد دلاتی ہے کہ کس طرح حاکموں کو بھی بے ٹوک انداز میں حق کہہ دینا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہغیا ث الدین تغلق ، حضرت نظام الدین اولیا سے یوں تو کچھ کہتا سنتا نہیں تھا لیکن وہ اپنےدل میں ان کے تئیں دشمنی رکھتا تھا۔ لہذا، جب وہ بنگال سے واپس لوٹ رہا تھا تو اس نے اپنے ایک سفیرکے ذریعہ حضرت نظام الدین اولیا کو ایک پیغام ارسال کیا کہ آپ میرے دہلی پہنچنے سے قبل دہلی چھوڑ دیں اوراپنی رہائش گاہ غیا ث پور سے بھی ہاتھ دھو لیں۔ خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی  ؒ کو اس کا یہ پیغام بہت برا محسوس ہوا۔ انہوں نے پیغام کے جواب میں صرف یہ الفاظ کہے۔' بابا ہنوز دہلی دور است' ۔ یعنی ابھی دہلی دور ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے وہ دہلی پہنچ جائے تو۔ خدا کی قدرت کہ سلطان غیا ث الدین تغلق ، دہلی کے قریب تو پہنچ گیا، لیکن اس زمین پرقدم رکھنا اس کے نصیب میں نہیں تھا. وہ اپنے محل کے نیچے جو اس کے بیٹے نے اپنے لئےافغان پور میں تعمیر کیا تھا، دب کر مر گیا۔

 (تاریخ فیروز شاہی، زبانی روایتیں)

غرض یہ کہ ہمارارب بڑی بزرگ شان رکھنے والا ہے اور جو بھی اس کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرتا ہے وہ اپنی اپنی روحانیت اور درجہ کے مطابق بزرگی حاصل کر لیتا ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی شان اور عظمت پر حملہ کرنے والا سزا پاتا ہے اسی طرح وہ لوگ جواللہ تعالیٰ کے مقربین پرحملہ کرتے ہیں وہ بھی اپنے کئے کی سزا پائے بغیر نہیں رہتے۔ (تفسیر کبیر)

جو شخص اپنے درمیان کا اور اللہ کے درمیان کا معاملہ صحیح کر لے اللہ تعالیٰ اسکے اور لوگوں کے درمیان کے معاملے کی خود کفایت فرماتا ہے کہ وہ ہمارے ذمہ رہا۔ ہم سے تم معاملہ درست رکھو،تمہارے اور لوگوں کے درمیان جو معاملہ ہے اسکو ہم پر چھوڑ دو، وہ میں درست کرلونگا،اسکی پرواہ نہ کرو کہ کوئی ناراض ہوتا ہے، لوگ ناراض ہوجائینگے تو ہم انکو بھی راضی کردینگے (بھئی یہ بھی بڑے امتحان کی بات ہے) آزمائش کی بات ہے۔ اللہ تعالٰی کسی کو آزمائش میں نہ ڈالےبسااوقات ایسا ہو جاتا ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے، دوسری طرف لوگوں کی رضامندی ہے، اگر اس کام کو کر لے تو اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے اور نہ کرے تو لوگ ناراض ہوتے ہیں۔الامان الحفیظ









0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔